حدیث سے قرآن ‘تحریفوں سے محفوظ ہوگیا

حدیث سے قرآن ‘تحریفوں سے محفوظ ہوگیا

ہم نے مانا کہ حسب بیان مولوی شبلی صاحب احادیث غیر متواترہ قطعی الثبوت نہیں ہیں، مگر عدل ، ضابط ، محتاط راویوں کی روایت سے ظن غالب تو ہو جاتا ہے، پھر جب اُن الفاظ کے لغوی اور شرعی معنوں میں جو احادیث سے ثابت ہیں ، مناسبت معلوم ہوجائے اور مسلمانوں کا عمل بھی اُس کے مؤید ہو تو مسلمان کے دل پر اتنا تو اثر ضرور ہوگاکہ جو خود غرض ، بے تدین لوگ تصرف کر کے اپنی رائے سے قرآن کے معنی گھڑ لیتے ہیں ،اُن کو وہ ہرگز نہ مانے گا پھر اس سے بڑھ کر اور کیا فائدہ حدیث سے ہونا چاہئے، اُس کی بدولت خود

قرآن جو اصل دین ہے ، محفوظ ہو جا تا ہے ۔
کنز العمال میں یہ روایت ہے ’’عن عقبۃ ابن عامر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتخوف علی امتی اثنتین یتبعون الاریاف والشہوات و یترکون الصلوٰۃ والقرآن یتعلمہ المنافقون یجادلون بہ اھل العلم رواہ الطبرانی‘‘ جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خوف اِس بات کا ہے کہ منافق لوگ قرآن کو سیکھ کر اہل علم سے جھگڑے کریں گے، جس بات کا خوف حضرت کو تھا ، وہی بات پیش آئی چونکہ منافقوں کو صرف جھگڑے کرنا اور اسلام میں رخنے ڈالنا منظور ہوتا ہے، اس لئے وہ فقط قرآن ہی کی طرف متوجہ ہو کر اُس کو سیکھ لیتے ہیں اور علماء کے ساتھ مجادلے اور رسالہ بازیاں کرتے ہیں ۔ اگر قرآن کے ساتھ حدیث بھی سیکھیں تو اُن کو ایسے جھگڑوں کا موقع ہی نہ ملے ،کیونکہ حدیثوں میں قرآن کے پورے پورے معنی بیان کر دیئے گئے ہیں، اس وجہ سے منافق حدیثوں سے گھبراتے ہیں اور سرے سے اُن کو بے اعتبار بنانے کی فکر کرتے ہیں ، بخلاف اہل سنت کے کہ ہر مسئلہ میں قرآن اور تمام حدیثوں سے جو اِس باب میں وارد ہیں جو بات ثابت ہو اُس پر عمل کرتے ہیں ۔
در منثور میں دارمی سے یہ روایت منقول ہے ۔ ’’ عن عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ قال انہ سیاتیکم ناس یجادلونکم بشبہات القران فخذوھم بالسنۃ فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ‘‘ یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا قریب ہے کہ تمہارے پاس لوگ آکر قرآن کے شبہات میں جھگڑے کریں گے ،سو اُن کو حدیثوں سے الزام دو! اِس لئے کہ احادیث کو جاننے والے قرآن کوزیادہ جانتے ہیں، دیکھ لیجئے جو ہم نے کہا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ جانتے تھے کہ جھگڑنے والے پیدا ہوںگے ، سو اِس حدیث سے اُس کی تصدیق ہوگئی اور جو فرمایا کہ حدیث جاننے والے قرآن کو زیادہ جانتے ہیں ،اُس

کی یہی وجہ ہے کہ حدیث ہمیشہ قرآن کی تائید میں ہوتی ہے، غرض اس سے صاف ظاہر ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو حدیثوں کی روایت موقوف کرنی ، ہرگز منظور نہ تھی ھو المطلوب ۔کنز العمال میںہے ’’عن یحییٰ ابن ابی اسید ان علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ارسل عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماالی اقوام خرجوا فقال لہ ان خاصموک بالقرآن فخاصمہ بالسنۃ‘‘ یعنی علی کرم اللہ وجہہ نے ابن عباس ر ضی اللہ عنہماکو خوراج کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اگر وہ قرآن سے استدلال کریں تو تم سنت یعنی حدیث سے استدلال کرو!اس کی وجہ یہی ہے کہ قرآن میں حسب مرضی مخالفین تاویلیں کرسکتے ہیں، مگر جب احادیث سے قرآن کے معنی متعین ہوجائیں تو پھر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی ۔ غرضکہ احادیث اور صحابہ کے اقوال اور عمل اور نیز درایت سے ثابت ہے کہ دین میں احادیث کی سخت ضرورت ہے ، ورنہ دین حالت اصلی پر باقی نہیں رہ سکتا ۔

صحابہ نے سب حدیثیں پہونچا دیں

انہیں اسباب سے صحابہ کو جتنی حدیثیں یاد تھیں حسب ارشاد ’’فلیبلغ الشاھد الغائب ‘‘سب طالبین حدیث کو پہنچا دیں ۔ یہاں تک کہ بعض صحابہ نے جن روایتوں کو کسی مصلحت سے عمر بھر چھپا رکھا تھا ، وہ بھی انتقال کے قریب بیان کر کے اپنے فرض منصبی سے سبکدوش ہوگئے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ باوجود یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اور دھمکیوں کو جانتے تھے ،مگر اُن کے بعد ان حضرات نے احتیاط اسی میں سمجھی کہ جو روایتیں اپنے کو یاد ہیں ،خواہ اختلافی ہوں یا غیر اختلافی سب بیان کر دیئے جائیں ،رہا اختلاف سوفقہاء اُس کو نمٹ لیں گے ۔
احادیث کی اشاعت میں صحابہ کا اختلاف بعینہ ایسا تھا جیسا کہ قرآن شریف کے جمع

کرنے میں ہوا تھا کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جمع نہ کرنے میں احتیاط سمجھتے تھے ،اس وجہ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جمع نہیں ہوا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ جمع کرنے میں احتیاط سمجھتے تھے تاکہ تلف نہ ہو جائے ۔ الحاصل جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل ہونے کی وجہ سے قرآن شریف محفوظ ہوگیا ،اسی طرح اکثر صحابہ کی رائے پر عمل ہونے سے احادیث محفوظ ہوگئیں ، الحمدللہ علی ذلک ۔

وضعِ روایات

جب روایتیں ہر طرف بکثرت ہونے لگیں ،تو منافقوں اور زندیقوں کو موقع مل گیا اور ملتے جلتے مضامین کی حدیثیں بنا بنا کر روایتیں کرنے لگے ۔ اس طوفان بے تمیزی کی دفع کرنے کے غرض سے محدثین نے راویوں کی تحقیق شروع کر دی اور ایک جم غفیر محدثین کا اُن کے پیچھے پڑ گیا ، اور شہر بشہر کونچہ بکونچہ اُن کی تلاش و تفتیش ہونے لگی ،ان ہزاروں محققین سے وہ کہاں چھپ سکتے تھے ،آخر ان کی جعلسازیاں طشت ازبام ہوگئیں اور اُن مفتریوں کی فہرستیں نام بنام اسلامی دنیا میں شائع ہوئیں اور اب تک کتب رجال میں چھپ کر شائع ہوتی جاتی ہیں ۔
تذکرۃ الحفاظ اور تہذیب التہذیب میں ابراہیم ابو اسحاق کوفی کے حال میں لکھا ہے کہ ایک زندیق کو گرفتار کر کے رشید کے دربار میں لایا گیا ،جب اُس کے قتل کی تجویز ہوئی تو اُس نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کو خبر بھی ہے کہ میں نے ایک ہزار حدیثیں بنائی ہیں؟ بادشاہ نے کہا :اے عدواللہ !تو نہیں جانتا کہ ابو اسحاق فزاری اور ابن مبارک ایک ایک حرف کو چھان کر جدا کریں گے ۔ دیکھئے مرتے دم تک اُس کو یہی خیال تھا کہ کسی طرح احادیث میں شبہ ڈالدے ،ورنہ اُس کو کسی نے پوچھا تھا کہ تو نے کتنی حدیثیں بنائیں ۔

اس سے ظاہر ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے پیش نظر یہی بات رہی کہ حدیثوں میں کسی طرح شبہات پیدا کردیں ،چنانچہ مرزا صاحب قادیانی نے بھی ازالۃ الاوہام میں کیسی کیسی تدبیریں کیں کہ کسی طرح احادیث ساقط الاعتبار ہو جائیں ،جس کا حال ہم نے افادۃ الافہام میں لکھا ہے۔ غرضکہ ہر زمانہ میں نئی نئی تدابیر اور دلائل سوچے گئے ، لیکن بفضلہ تعالیٰ اُن کا مقصود کبھی پورا نہ ہوا چنانچہ بادشاہ کے جواب سے ظاہر ہے کہ علماء کے مقابلہ اُن کی کارروائیاں کبھی نہیں چل سکتیں ۔
مولوی شمس العلماء شبلی صاحب نے سیرۃ النعمان میں لکھا ہے، زبانی روایت سے گذر کر تحریروں میں بھی ’’جعل ‘‘ شروع ہوگیا تھا ۔ مسلم نے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت علی رــضی اللہ عنہ کے ایک فیصلہ کی نقل لے رہے تھے ، بیچ بیچ میں الفاظ چھوڑتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ واللہ علی رضی اللہ عنہ نے ہرگز یہ فیصلہ نہیں کیا ہوگا ۔اِسی طرح ایک اور دفعہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر دیکھی، تو تھوڑے سے الفاظ کے سوا باقی سب عبارت مٹا دی ۔ دیکھئے روافض نے جو باتیں علی کرم اللہ وجہہ کے فیصلوں اور تحریروں میں زیادہ کی تھیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سب کو مٹا کر اصل کو محفوظ کر دیا، اسی طرح ہر قرن کے محققین نے جعلسازیوں کی زیادتیوں کو دور کر کے اصل احادیث کو محفوظ کر دیا ۔
یوں تو ان حضرات نے موضوع حدیثوں کو مختلف تدبیروں اور طریقوں سے پہچانا ، مگر اُن میں معرفت موضوع کا ایک طریقہ ایسا بھی ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اِس حدیث شریف میں ہے ۔ ’’عن سمرۃ ابن جندب رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حدث عنی بحدیث یری انہ کذب فھو احد الکاذبین حم م ہ‘‘یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص ایسی حدیث میری

طرف سے روایت کرے ، جس کو وہ جھوٹ گمان کرتا ہے وہ بھی ایک جھوٹا ہے چونکہ محدثین کو سوائے حدیثوں کے پڑھنے پڑھانے کے کوئی دوسرا کام نہ تھا ، اس مزاولت اور ممارست سے اُن کو ایک خاص ملکہ اور درایت حاصل ہوگئی تھی ، جس سے احادیث نبویہ کو اور اُن کے کلام سے ممتاز کرلیتے تھے اور جس میں گمان ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کا کلام ہے ، اُس کو روایت ہی نہ کرتے تاکہ کہیں کاذبوں میں شریک نہ ہوجائیں ۔
شمس العلماء مولوی شبلی صاحب ، سیرۃ النعمان میں لکھتے ہیں کہ بعض محدثین کا قول ہے ’’اثر یہجم علی قلوبھم لا یمکنھم ردّہ و ھیأۃ نفسانیۃ لا معدل لھم عنھا‘‘ یعنی وہ ایک اثر ہے جو ائمۂ حدیث کے دل پر وارد ہوتا ہے اور وہ اس کو رد نہیں کرسکتے اور نفسانی اثر ہے جس سے گریز نہیں ہوسکتا ۔ محدثین کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ہے بے شبہ فن روایت کی ممارست سے ایک ملکہ یا ذوق پیدا ہوتا ہے ،جس سے خود تمیز ہوجاتی ہے کہ یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوسکتا ہے یا نہیں انتہی ۔ اسی ملکہ اور ذوق کو ہم اسلامی درایت سے تعبیر کریں گے ۔ غرضکہ اسلامی درایت کے مخالف جتنی حدیثیں تھیں سب صحت کے دائرہ سے خارج کر دی گئیں ، رہیں وہ حدیثیں جن کو دوسری ملت والے یا معمولی عقلیں خلاف درایت سمجھتے ہیں ، اُن کو بلا تکلف روایت کی اس لئے کہ اجنبی لوگوں کی درایت میں جو چیز امکان عادی کے خلاف ہو ، وہ قابل قبول نہیں اور ہمارے دین میں امکان عادی تو کیا بلکہ امکان ذاتی کے مخالف جو امور سمجھے جاتے ہیں، اُن کا وقوع بلکہ ضرورت قرآن شریف سے ثابت ہے، مثلاً بعد فنا ہڈیاں بوسیدہ بلکہ خاک ہونے کے بعد پھر مردوں کا زندہ ہو کر قبروں سے نکلنا ، اور ایک لکڑی کا اژدہا بن جانا وغیرہ امور اس طور پر ثابت ہیں کہ جب تک اُن کا یقین نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا اس کے سوا ہزاروں مسلمان ایسے امور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ دیکھا کئے کہ جن کو عقل تسلیم نہیں کرتی ان یقینی اور متواتر
شہادتوں نے مسلمانوں کی درایت کو دوسری اقوام کی درایت سے ممتاز کر دیا تھا ، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ، درایتوں میں فرق ہوا ہی کرتا ہے ۔ دیکھ لیجئے جس زمانہ میں ریل اور تار وغیرہ عجائب روزگار کی خبریں سنی جاتی تھیں ، تو ان کو عقلاً مخالف درایت سمجھ کر قبول نہیں کرتے تھے ، اور اب تک یہی بات جاری ہے کہ اس قسم کی کوئی نئی خبر سنی جاتی ہے تو بعضوں کی درایت قبول کرلیتی اور بعضوں کی نہیں قبول کرتی ،پھر مشاہدہ یا تواتر سے معلوم ہونے کے بعد طوعاً و کرہاً ماننا پڑتا ہے ۔ غرضکہ اسلامی درایت کے مخالف جتنی حدیثیں تھیں ، وہ سب موضوع قرار پائیں اور جتنی حدیثیں صحیح سمجھی گئی مثلاً معراج وغیرہ کی ، جن کے سمجھنے میں عقل حیران ہوتی ہے وہ سب اسلامی درایت کے موافق ہیں اُن کی صحت میں کوئی مسلمان کلام نہیں کرسکتا ۔

تخالفِ درایت

اگر کہا جائے کہ درایت ایک قسم کی چیز ہے ،جس میں تمام افراد انسانی برابر ہیں اس لئے درایت اسلامی کو ئی علیحدہ چیز نہیں ہوسکتی ۔
تو اِس کا جواب یہ ہے کہ ہر فن کی کثرت مزاولت سے ایک ایسی قوت ، آدمی میں پیدا ہوتی ہے جو دوسرے میں نہیں ہوسکتی ،اس لئے اُس کی درایت بھی الگ ہوجاتی ہے ۔
درایتوں کا متفاوت ہونا اس سے ظاہر ہے کہ امریکہ اور یورپ کے صناع ،جن عجائبات کا ایجاد کرتے ہیں اُن کا سمجھنا ، اوروں کو دشوار ہوتا ہے ۔ اکثر ایجادیں تو ایسی ہیں کہ ناواقف شخص جب تک نہیں دیکھتا ، اُن کے وجود کونہیں تسلیم کرتا، دیکھئے ایسے شخص کی اورموجد کی درایت میں کس قدر فرق ہے ۔
فیثا غورث اور حکمائے جدیدہ کے مقلدوں کی درایتیں بالکل الگ ہیں ۔ اُن کی درایت

جن باتوں کو قبول کرتی ہے ، دنیا میں کسی عقلمند کی درایت اُن کو قبول نہیں کرسکتی اور نہ سابق کے حکماء نے اُن کو قبول کیا تھا ، مثلاً اُن کے یہاں مسلم ہے کہ آدمی پر تین سو نوے من ہوا کا وزن ہے اور وہ دابتی بھی ہے مگر آدمی کو عادت ہونے کی وجہ سے اُس کی حس نہیں ہوتی ۔
آدمی ہر چیز کو الٹی دیکھتاہے مثلاً سر نیچے اور پاؤں اوپر اور عادت کی وجہ سے سیدھی سمجھتا ہے ۔ ہم ہر سال ایک بار اُنیس کروڑ میل ثوابت کے نزدیک ہوجاتے ہیں اور پھر چھ مہینے کے بعد اُنیس کروڑ میل اُن سے دور ہوجا تے ہیں اور ہر ستارہ اُنیس کروڑ میل نزدیک ہونے پر بھی اتنا ہی نظر آتا ہے جو اُنیس کروڑ میل دور ہونے پر نظر آتا تھا۔ اس قرب و بعد میں نہ اُن کی جسامت محسوسہ میں کچھ تفاوت آتا ہے نہ اُن کے باہمی محسوس فاصلوں میں، حالانکہ دو چار میل کے قُرب و بعد میں محسوسات کے مقدار محسوس میں تفاوت ، ظاہر طور پر محسوس ہوتا ہے ۔
آفتاب اور زمین و کواکب میں کشش ہے ، ایک دوسرے کو ہر وقت کھینچتے رہتے ہیں ، اگر دم بھر یہ کام نہ کریں ، تو تمام عالم تباہ ہوجائے ۔ آفتاب زمین کے دس لاکھ حصوں سے بھی زیادہ بڑا ہے اور ساڑے نو کروڑ میل سے زیادہ زمین سے دور ہے ،اتنی دور سے زمین باوجود لاکھوں حصے چھوٹے ہونے کے، آفتاب کو اُسی قوت اور زور سے کھینچتی ہے جس قوت سے آفتاب زمین کو کھینچتا ہے اور اسی طرح ایک دوسرے کو دفع بھی کرتے ہیں ورنہ کشاکشی میں ایک دوسرے سے ٹکرائے جاتے۔
ساڑے نو کروڑ میل کے فاصلے سے زمین آفتاب کو کھینچتی ہے ،جو اُس سے دس لاکھ حصّے بڑا ہے مگر ایک چڑیا کو جو دس پانچ ہاتھ کے فاصلہ پر اُڑتی ہے، نہیں کھینچ سکتی ۔ حالانکہ قوت جاذبہ اُس کی اس فاصلہ پر، نہایت قوی ہوتی ہے ۔ کیونکہ قوت جاذبہ اُسی قدر گھٹتی ہے، جس قدر دوری کا مربع بڑھتا ہے ۔ الحاصل مقلدین فیثا غورث کی درایتیں ایک خاص قسم کی ہیں، جن کے موافق دوسرے عقلاء کی درایتیں نہیں ہوسکتیں ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے مقلدوں کی درایتیں بھی ایک خاص قسم کی ہیں اور جس طرح فیثاغورثی درایتوں پر الزام مخالفت نہیں لگایا جاتا ! اسی طرح اسلامی درایتوں پر بھی الزام مخالفت کوئی لگا نہیں سکتا ۔
مولوی شمس العلماء صاحب نے جو سیرۃ النعمان میں لکھا ہے کہ جو روایت درایت کے مخالف ہے ، موضوع ہے اور درایت کی چند صورتیں بیان کر کے لکھا ہے کہ اِس قسم کے قواعد حدیث کی تحقیق و تنقید میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور انہیں کا نام اصول درایت ہے ۔ علامہ ابن جوزی جو فن حدیث میں بڑا ہی پایہ رکھتے تھے ، لکھتے ہیںکہ جس حدیث کو تم دیکھو کہ عقل کے مخالف یا اصول کے مناقض ہے ،تو یہ سمجھ لو کہ وہ حدیث موضوع ہے ، اس میں راویوں کی تحقیق حال کی کچھ ضرورت نہیں ،اسی طرح وہ حدیث بھی موضوع ہے جوحِس و مشاہدہ سے باطل ہو انتہی ۔اس سے بھی وہی ثابت ہوتا ہے کہ جو ہم نے کہا ہے کہ درایت سے مراد ، درایت اسلامی ہے ،کیونکہ خودا بن جوزیؒ نے ایک کتاب موضوعات دو جلدوں میں لکھی ہے، جس میں اکاد حدیث بخاری و مسلم بھی خطاء ً لکھدی ہے اُس میں نہ معراج کی حدیثوں کو موضوع بتایا ،نہ معجزات وغیرہ کی حدیثوں کو ، جو صحاح میں ہیں حالانکہ معمولی درایت والا عقلمند آدمی نہ معراج کے واقعہ کی تصدیق کرسکتا ہے نہ معجزات کی ؟جن میں جمادات کا باتیں کرنا اور انگلیوں سے چشمہ پانی کا جاری ہوجانا اور قلب حقائق وغیرہ امور، خارق عادت ثابت ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ عقل و اصول سے اُن کی مراد اسلامی عقل و اصول ہے ورنہ صحاح میں جتنی روایتیں اس قسم کی ہیں ، سب کو موضوعات میں داخل کر دیتے کیونکہ انہوں نے اس کتاب میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ جو روایت اُن کی تحقیق میں موضوع ثابت ہوتی ہے ،اُس کے پورے الفاظ بلکہ اسناد بھی بیان کر دیتے ہیں ۔
یہ بات ادنی تامل سے معلوم ہوسکتی ہے کہ ابن جوزی تو بڑے محدث ہیں ایک معمولی
آدمی بھی یہی کہے گا کہ ہمارا دین نقلی ہے ۔ ابتدا ء سے دیکھئے تو یہی ثابت ہوگا کہ عقل کو اُس میں دخل ہی نہیں دیا گیا، مثلاً جبریل علیہ السلام جب وحی لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عقلی ثبوت اُن سے نہیں طلب کیا اور یہ نہیں فرمایا کہ کیونکر معلوم ہو کہ تم فرشتے ہو اور خدائے تعالیٰ نے اپنا کلام تمہارے ساتھ بھیجا ہے ؟بلکہ خود آنحضرت کے سینۂ مبارک میں ایک انشراحی کیفیت پیدا ہوگئی، جس سے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تصدیق فرمالی۔ پھر جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حضرت نے خبر دی ، اُنہوں نے بھی کوئی عقلی ثبوت نہیں طلب کیا بلکہ اُن کابھی شرح صدر ہوا اور تصدیق کرلی ، اور بعضوں نے جو دلیل طلب کی کہ انہوں نے بھی کوئی عقلی دلیل نہیں طلب کی کہ شکل اول اور کسی شکل سے نبوت ثابت کی جائے ۔ بلکہ ایسے امور طلب کئے جن کا وقوع خلاف عقل اور خارق عادت ہو، مثلاً چاند کا دو ٹکڑے ہونا یا جمادات کا گواہی دینا وغیرہ امور، چنانچہ جو کچھ انہوں نے چاہا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کر دکھایا ،ہر چند ہر ایک واقعہ کا ثبوت تواتر سے نہیں ہے ۔ مگر جو حدیثیں اس باب میں وارد ہیں ، اُن سے نفس معجزہ پر تواتر معنوی ثابت ہے ۔ امام سیوطیؒ نے خاص معجزات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک کتاب دو جلدوں میں لکھی ہے ،جس کا نام خصائص کبر ی ـہے اور کئی کتابیں اس باب میں بنام شواہد النبوۃ وغیرہ قدما ء نے لکھی ہے ،جن کے دیکھنے کے بعد کوئی مسلمان نفس معجزہ کے وقوع کا انکار نہیں کرسکتا ۔ غرضکہ جہاں تک غور کیا جائے ہمارے دین کی بنیاد اُن اصول پر قائم ہے ،جو معمولی عقلوں کے خلاف ہیں ، اسی وجہ سے یہ دین ‘ آسمانی تسلیم کرلیاگیا ہے۔ اس سے ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ہمارا دین بالکل مخالف عقل ہے ،بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو اصول اور مسائل اس میں بیان کئے گئے ہیں،وہ عقل کے بھی مطابق ہیں ۔ چنانچہ اکثر علماء نے اُن کو مدلل بد لائل عقلیّہ کر دیا ہے ،مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خوارق عادات کا وقوع نہیں ہوا ۔بلکہ خوارق کے
وقوع کے بعد بھی عقل کی ضرورت باقی رہتی ہے ،کیونکہ یہ عقل ہی سے سمجھنا پڑے گا کہ جن کو خوارق عادات دکھانے کی قدرت دی گئی ،وہ بیشک خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے تمام عالم کو پیدا کیا اور جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرسکتا ہے ۔ یہ بات قابل تسلیم ہے کہ جب تک معجزات کی تائید نہ ہو ، کوئی دین آسمانی نہیں ہوسکتا ،کیونکہ عقلی ،اخلاقی اور تمدنی اصول حکماء نے بھی قائم کئے اور ہرسلطنت بحسب ضرورت قائم کیا کرتی ہے ۔
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ معجزات کو باطل ٹھہرا کے صدہا کتابوں اور ہزارہا صحابہ اور تابعین کو جھوٹے قرار دینے میں دین کا کیا فائدہ سوچا گیا ؟ یہود ، نصاریٰ مجوس ، ہنودوغیرہ جو تقریباً کل روئے زمین پر بستے ہیں ، ان میں کوئی فرقہ ایسا نہیں جو خوارق عادات کا منکر ہو ۔ یہ لوگ تو ہم پر معجزات کے بارے میں الزام نہیں لگاسکتے ۔رہا ایک فرقہ حکماء جو یورپ میں ترقی کر رہا ہے ، سو اُس کے مقابلہ میں ہم اعتراف بھی کرلیں کہ ہمارے اسلاف نے غلطی کی جو خوارق کے قائل ہوگئے ،یا وہ جتنی روایتیں ہیں ، غلط ہیں اور اُس کے بعد اپنے دین کے عقلی اصول جوموجود ہیں پیش کریں بلکہ اور بھی کچھ اضافہ کر دیں ، تو بھی امید نہیں کہ یہ فرقہ اسلام قبول کرے ،سر سید صاحب نے انہیں کے خیال سے غالباً یہ تدبیر نکالی تھی مگر اب تک نہیں سُنا گیا کہ اس تدبیر نے کسی حکیم یا جاہل کو مسلمان بنایا؟بلکہ یہی سنا جاتا ہے کہ جو نصاریٰ مسلمان ہوتے جاتے ہیں اُن کے رہبر ، وہی پُرانی کتابیں ہیں اوردر اصل اُن کے ایمان کا سبب ہی کچھ اور ہے وہ اس آیۂ شریفہ میں مذکور ہے ، قولہ تعالیٰ ’’ فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام و من یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کانما یصعد فی السماء کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون‘‘ ترجمہ: جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ اُسے راہ راست دکھائے اُس کے سینہ کو(قبول) اسلام کے
لئے کھول دیتا ہے، اور جس شخص کو چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اُس کے سینہ کو تنگ (اور) بھجا ہوا کر دیتا ہے ۔ گویا اُس کو آسمان میں چڑھنا پڑتا ہے ، جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن پر اسی طرح اللہ کی پھٹکار پڑتی ہے، اس سے ظاہر ہے کہ نہ معجزات کی کتابیں پیش کرنے سے کوئی ایمان لاتا ہے نہ عقلی دلائل قائم کرنے سے، جب تک شرح صدر ، من جانب اللہ نہ ہو ۔ پھر محض ایک موہوم خیال پر ، وہ بھی ایساکہ جن کا غیر مفید ہونا عملاً ثابت ہوگیا ، ایک حصّہ دین کا باطل ٹھہرانا اور اپنی کتابوں اور اپنے اسلاف کو جھوٹے قرار دینا کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ دین کی مصلحت اور خیر خواہی تو اِس میں ہے کہ اصول نقلیّہ اور عقلیہ دونوں ثابت رکھے جائیں اور بحسب ضرورت اور مصلحت وقت ہر ایک کو کام میں لایا جائے!یہ بات مشاہد ہے کہ جب کوئی واعظ اپنی پرزور تقریر میں خوارق عادات کا ذکر کرتا ہے تو دلوں پر ایک خاص قسم کا اثر پڑتا ہے، چنانچہ اس قسم کی تقریروں سے کروڑہا بے دین لوگ مسلمان ہوئے جن کے یادگار ، اب بھی کروڑہا موجود ہیں ۔
یہ بحث ضمناً آگئی ،ابتدائے بحث یہ تھی کہ زنادقہ وغیرہ مخالفین اسلام نے جو حدیثیں بنائی تھیں ، محدثین نے درایت اسلامی اور دوسرے قرائن و دلائل سے مدد لیکر اُن حدیثوں کو موضوع قرار دیا ۔ مگر اس سے بڑھ کر اور ایک آفت کا سامنا محدثین کو ہوا وہ یہ کہ بعض بزرگوں نے بھی کمال خوش اعتقادی سے حدیثیں بنائیں چنانچہ ابن جوزی نے موضوعات میں لکھا ہے کہ ابو عصمہ نوح ابن مریم مروزی سے پوچھا گیا کہ حضرت آپ نے ہر ایک سورہ کی فضیلت میں جو روایتیں کی ہیں کہ عن عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہمایہ آپ کو کہاں سے مل گئیں ؟ عکرمہ کے شاگردوں کے پاس تو ان روایتوں کا وجود نہیں ؟کہا بات یہ ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ابو حنیفہؒ کی فقہ اور ابن اسحاق کے مغازی میں ہمہ تن مشغول ہیں، اس لئے حسبۃً للہ یہ حدیثیں بنائیں تاکہ ان فضائل کو دیکھ کر تو بھی لوگ قرآن
شریف زیادہ پڑھا کریں۔ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ قاضی تھے، ابن حبان سے اُن کا حال پوچھا گیا تو کہا صرف ایک صدق تو اُن میں نہیں ،باقی کل فضائل کے جامع ہیں ۔ ابن مبارک ؒ سے اُن کا حال پوچھا گیا کہا لا الہ الا اللہ کہا کرتے تھے ‘یعنی مسلمان ہیں یہ سب صحیح ،مگر تھے بڑے جوشیلے کہ فقہ حنفیّہ کی شہرت اور درس و تدریس کو دیکھ نہ سکے اور حسبۃً للہ حدیثیں بنا ڈالیں۔
یحییٰ ابن سعید قطان ؒ جو تنقیح و تنقید حدیث میں مستند مانے جاتے ہیں ، اُن کا قول ابن جوزیؒ نے موضوعات میں نقل کیا ہے کہ کذب میں اُن لوگوں سے زیادہ میں نے کسی کو نہیں پایا،جو خیر و زہد کی طرف منسوب ہیں ۔ ان بزرگوں نے کچھ تو خیر خواہی کے جوش میں حدیثیں بنا ڈالیں اورکچھ اوروں سے سنکر بیان کر دیا اور اُس کی کچھ تحقیق نہیں کی کہ راوی مستند ہے یا نہیں ؟ کیونکہ حسن ظن ان حضرات کا اِس درجہ بڑا ہوا تھا کہ کسی مسلمان کو جھوٹا سمجھتے ہی نہ تھے اس لئے جس نے جو کچھ روایت کی اُس کو صحیح مان لیا۔
تہذیب التہذیب میں روا د بن الجراح کے حال میں ابن عدی کا قول نقل کیا ہے کہ اکثر روایتیں اُن کی ایسی ہوتی ہیں کہ دوسرے راویوں سے اُن کی تصدیق نہیں ہوتی، مگر وہ شیخ صالح ہیں ، اور صالحین کی روایتوں میں کچھ نہ کچھ نکارت ہوتی ہے ۔
میزان الاعتدال میں عبدالرحمن بن ثابت کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ وہ زاہد اور مستجاب الدعوات تھے، مگر امام بخاری اور نسائی وغیرہ نے ان کی حدیثوں میں کلام کیا ہے۔
عبدالواحد بن زید کے ترجمہ میں میزان میں لکھا ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ زاہد اور صوفیہ کے شیخ تھے ، چالیس سال انہوں نے عشا کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی اور مستجاب الدعوات تھے مگر محدثین نے اُن میں کلام کیا ہے ۔ چنانچہ بخاری ؒ کہتے ہیں کہ اُن کو محدثین نے ترک کر دیا اور امام احمدؒ کا قول ہے کہ اُن کی احادیث موضوع ہوا کرتی ہیں ۔
میزان الاعتدال میں امام ذہبی ؒنے انہیں لوگوں کو ذکر کیا ہے ،جن میں محدثین نے کلام کیا ہے اُس میں اویس قرنیؒ کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ میں نے اُن کو اس کتاب میں صرف اس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ بخاری نے اُن کو ضعفاء میں ذکر کیا ورنہ اس کتاب میں اُن کو ہرگز ذکر نہ کرتا ، کیونکہ وہ اولیاء اللہ صادقین سے ہیں۔
اویس قرنی ؒ وہ شخص ہیں کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی فضیلت بیان کی ہے اور عمررضی اللہ عنہ اُن سے خواستگار دعا ہوئے، اُن کے فضائل مسلم شریف وغیرہ میں موجود ہیں ۔
تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی روایتوں کو ساری اُمت نے مستند سمجھا ہے مگر بخاری نے کہا کہ وہ قابل احتجاج نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *