بیعت رِضوان اور صلح حدیبیہ

بیعت رِضوان اور صلح حدیبیہ

Advertisement

ماہ جمادی الا ُولیٰ میں غزوۂ بنی لِحْیَان پیش آیامگر مقابلہ نہ ہوا۔ ماہ ذیقعد میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ہزار چار سو صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ مدینہ منورہ سے عمر ہ کے ار ادہ سے نکلے، حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہَا ساتھ تھیں ۔ جب آپ ذُوالحُلَیْفَہ میں پہنچے جواہل مَدینہ کا میقات ہے ، آپ نے عمر ہ کا احرام باندھا اور قربانیوں کو تقلید واِشْعار (1 ) کیا۔ یہاں سے آپ نے حضرت بُسْر بن سُفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو قریش کی طرف بطور جا سوس بھیجا۔ جب آپ عُسْفان کے قریب غدیر اَشطاط میں پہنچے تو آپ کا جاسوس خبر لایا کہ قریش حُلَفَائ (2 ) سمیت مکہ سے باہر مقام بَلْدَ ح میں جمع ہیں اور آمادہ ہیں کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ کیاکہ حُلَفَاء کے اہل وعیال کو گر فتار کیا جائے تاکہ اگر وہ ان کی مدد کو آئیں تو ہمیں تنہا قریش سے مقابلہ کر نا پڑے۔
حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ بیت اللّٰہ کے قصد سے نکلے ہیں آپ کا ارادہ کسی سے لڑائی کا نہیں آپ بیت اللّٰہ کا رخ کریں جو ہمیں اس سے روکے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ ‘‘ آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا اور آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ جب آپ حدیبیہ کے قریب ثنیتہ المرار (3 ) میں پہنچے جہاں سے اُتر کر قریش کے پاس پہنچ جاتے، توآپ کی ناقہ قَصْوَاء بیٹھ گئی ہر چند اٹھانے کی کوشش کی گئی مگر نہ اٹھی آپ نے فرمایا: ’’ قصواء نہیں ر کی اور نہ رکنا اس کی عادت ہے بلکہ خدا ئے حابس الفیل (4 ) نے اسے روک لیا ہے۔ قسم ہے اس ذات

کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قریش مجھ سے کسی ایسی حاجت کا سوال نہ کریں گے جس سے وہ حُرُمَات اللّٰہ (1 ) کی تعظیم کریں مگر میں وہ انہیں عطا کر دوں گا۔ ‘‘ اس کے بعد آپ نے قصواء کو جھڑ ک دیا اور وہ اٹھ کھڑی ہو ئی اور آپ مڑ کر حد یبیہ (2 ) کی پَر لی طرف (3 ) ایک کوئیں پراتر ے جس میں پا نی کم تھا۔ موسم گرما تھاپانی جلدی ختم ہو گیا اور آپ کی خدمت اقدس میں پیاس کی شکایت آئی۔ آپ نے پانی کی ایک کُلِّی کو ئیں میں ڈال دی جس سے پانی بکثر ت ہو گیا اور چھاگل (4 ) میں اپنا دست مبارک رکھ دیاتو آپ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی نکلنے لگا۔ ان دونوں معجز وں کا ذکر اس کتاب میں آگے آئے گا۔
اسی اَثنا ء میں بُدَیل (5 ) بن وَرْ قاء خُزَاعی اپنی قوم کے چند اشخاص کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر ہواکہنے لگا کہ قبائل کَعْب بن لُؤی اور عامر بن لُؤی حُدَیبیہ کے آبِ کثیر پر اتر ے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ دُودھیل (6 ) اونٹنیاں اور عورتیں بچو ں سمیت ہیں ۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دیا: ’’ ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کے ار ادہ سے آئے ہیں ۔ لڑائی نے قریش کو کمزور کر دیا ہے اور نقصان پہنچایا ہے اگر وہ چاہیں توہم ایک مدت کے لئے ان سے جنگ کا اِلتوائ (7 ) کر دیتے ہیں باقی لوگوں سے ہم خود سمجھ لیں گے۔اگر میں غالب آجاؤں اور بصورت غلبہ وہ میری اطا عت میں آنا چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں اگر انہوں نے انکار کر دیاتو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان سے ضرور لڑتا رہوں گایہاں تک کہ میں اکیلا رہ جاؤں اللّٰہ تعالٰی اپنے دین کی ضرورمدد کرے گا۔ ‘‘ بُدَیل نے عرض کیا کہ میں آپ کا یہ ارشاد ان تک پہنچا دوں گا۔ چنانچہ وہ قریش میں ا ٓکر کہنے لگاکہ میں اس مرد (رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا قول سن آیا ہوں اگر چاہو تو گزارش کردوں ۔ ان میں سے ایک نا دان بو لا کہ ہم اس کی کسی
بات کے سننے کے لئے تیار نہیں ۔ ایک صاحب الر ائے (1 ) نے کہا کہ بیان کیجئے جو اس سے سن آئے ہو۔ اس پر بدیل نے بیان کر دیا۔ عُر وَہ بن مسعودنے اٹھ کر کہا کہ اس نے ایک نیک امر پیش کیا ہے وہ قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس جانے دو۔ چنانچہ عروہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور بد یل کی طرح کلام کیا اور وہی جواب پا یا۔ عر وہ نے یہ الفاظ ( میں ان سے ضرور لڑتا رہوں گا ) سن کر عرض کیا: ’’ اے محمد ! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) بتا ئیے اگر آپ نے اپنی قوم کو بالکل ہلا ک کر دیا۔ کیا آپ نے عرب میں کسی کی بابت سنا ہے کہ اس نے آپ سے پہلے اپنے اہل کو ہلاک کر دیا ہو۔ اور اگر قریش غالب آگئے تو آپ ان سے امن میں نہ رہیں گے کیونکہ اللّٰہ کی قسم! میں سردار (مکہ ) ہوں اور اَخلاط کو دیکھتا ہوں جو اس لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں (2 ) ۔ ‘‘ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ سن کر کہا: ’’ امصص بظر اللات (3 ) کیا ہم آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ! ‘‘ اس پر عروہ بولاکہ یہ کون ہے؟ جو اب ملا: ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ پس وہ حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یوں مخاطب ہوا: ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھ پر تیر ااحسان (4 ) نہ ہو تا جس کا بدلہ میں نے نہیں دیاتو میں تجھے جواب دیتا۔ ‘‘ پھر عر وہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف متوجہ ہو ا۔ جب وہ آپ سے کلام کر تاتو (حسب عادتِ عرب ) آپ کی رِیش مبارک (5 ) کو چھوتا۔ اس وقت مُغِیر ہ بن شعبہ خَود سر پر تلوار ہاتھ میں لئے آپ کے سر مبارک پر کھڑے تھے۔ جب عروہ اپنے ہاتھ ریش مبارک کی طرف بڑ ھا تاتو مغیر ہ بغر ض تعظیم نیام شمشیر اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ ریش مبارک سے ہاتھ ہٹا ؤ۔ عر وہ نے آنکھ اٹھا کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ (تیر ابھتیجا ) مغیر ہ بن شعبہ۔ عر وہ نے یہ سن کر کہا: او بیو فا ! کیا میں تیری دیت (

میں کوشش نہ کرتا تھا؟ پھر عروہ اصحاب نبی کی طرف دیکھتا رہا۔ اس نے واپس جا کر اپنی قوم سے صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اوصاف بیان کیے اور کہا کہ ایک نیک امر جو پیش کیا جارہاہے اسے قبول کر لو۔ پھر حُلَیس بن علقمہ خدمت اَقدس میں حاضر ہوا اس نے بھی واپس جا کر کہا کہ میری رائے ہے کہ مسلمانوں کو بیت اللّٰہ سے نہ روکا جائے۔ حُلَیس کے بعد مِکرَ ز آیاوہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کلام کر ہی رہا تھاکہ خطیبِ قریش سہیل بن عمرو قریشی عامر ی حاضر ہواآ پ نے بطریقِ تَفَاوُل (1 ) فرمایا کہ اب تمہارا کام کچھ سہل (2 ) ہوگیا۔ گفتگو ئے صلح کے بعد قرار پا یا کہ دس سال تک لڑائی بندر ہے۔ سہیل نے عرض کیا کہ معاہدہ تحریر میں آجائے۔ پس نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کا تب یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوطلب فرمایا۔
رسول اللّٰہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) (علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ) : لکھ! ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ‘‘
سہیل: ’’ الرحمن ‘‘ میں نہیں جانتا کیا ہے بلکہ لکھ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ جیسا کہ تو پہلے لکھا کر تا تھا۔
صحابہ حاضر ین: اللّٰہ کی قسم! بِسْمِ اللّٰہِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے سوااور نہ لکھ۔
رسول اللّٰہ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) : لکھ ! (3 ) بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ (بعد تعمیل ) لکھ ! ھٰذاماقاضٰیعلیہ محمد رسول اللّٰہ ۔
سہیل: (بعد کتابت ) اللّٰہ کی قسم! اگر ہم جانتے کہ تو اللّٰہ کا رسول ہے تو تجھے بیت اللّٰہ سے منع نہ کر تے اور نہ تجھ سے لڑائی کر تے (علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ) بلکہ لکھ محمد بن عبد اللّٰہ اور لفظ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مٹا دے۔
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ( سہیل سے ) : اللّٰہ کی قسم! میں بیشک اللّٰہ کا رسول ہوں اگر تم میری تکذیب

کر رہے ہو (تو اس سے میری رسالت میں فرق نہیں آتا ) (علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے) اسے مٹادو!
حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : میں اسے نہیں مٹا ؤں گا۔
رسول اللّٰہ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) : مجھے اس لفظ کی جگہ بتا ؤ۔
(حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بتا دیتے ہیں اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لفظ رسول اللّٰہ کو مٹا کر علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس کی جگہ محمد بن عبد اللّٰہ لکھو اتے ہیں ) آگے لکھ! شرط یہ ہے کہ قریش ہمارے واسطے بیت اللّٰہ کا راستہ چھوڑ دیں گے اور ہم اس کا طواف کریں گے۔
سہیل: اللّٰہ کی قسم! ہم نہ چھوڑ یں گے۔ عرب یہ کہیں گے کہ دباؤڈال کر ہمیں اس پر راضی کیا گیا ہے، ہاں آئندہ سال ایسا ہو جائے گا۔ ( چنانچہ ایسا ہی لکھا گیا ) دیگر شرط ( 1) یہ ہے کہ ہم میں سے جو کوئی آپ کے پاس آئے خواہ وہ آپ کے دین پر ہو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔
صحابہ حاضر ین: (متعجب ہو کر ) سبحان اللّٰہ ! جو مسلمان ہو کر آئے وہ مشرکین کی طرف کس طرح واپس کیا جائے گا ؟
( اسی اَثنا ء میں سہیل کا بیٹا ابو جَنْدَ ل پابزنجیر (2 ) اَسفل مکہ سے ( قید خانہ میں سے نکل کر) یہاں آجا تا ہے اور اپنے تئیں (3 ) مسلمانوں کے حوالہ کر تا ہے۔)
سہیل: یا محمد ! پہلے میں اسی پر آپ سے مُحَاکَمَہ کر تا ہوں (4 ) کہ آپ اسے میرے حوالہ کردیں ۔
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ہم ابھی صلح نا مہ کی کتابت سے فارغ نہیں ہوئے۔
سہیل: اللّٰہ کی قسم! تب میں بھی آ پ سے کبھی کسی بات پر مصالحت نہ کر وں گا۔
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اسے میرے پاس رہنے دو۔
سہیل: میں آپ کو اس کی اجا زت نہیں دیتا۔

رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ہاں اجازت دے دو۔
سہیل: میں ایسا نہیں کر نے کا۔
مِکرَز: ( سہیل سے ) ہم نے تیرے واسطے اجازت دے دی۔
ابو جَندَ ل: اے مَعْشَرِ مسلمین ( 1 ) ! میں مسلمان ہو کر مشرکین کے حوالہ کیا جار ہا ہوں کیا تم میری تکلیف نہیں دیکھتے ہو۔
رسول اللّٰہ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) : ابو جندل ! صبر کر اور ثواب کی امید رکھ ہم عہد نہیں توڑ تے اللّٰہ تیرے واسطے خلاصی کی کوئی سبیل پیدا کر دے گا۔ (یہ سن کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اٹھ کر ابو جَند ل کے ساتھ ہو لئے اور کہہ رہے تھے وہ تو مشرکین ہیں کسی مشرک کو قتل کر نا ایساہے جیسا کسی کتے کو قتل کر ڈالا۔)
ابن سعد اور بیہقی وغیرہ نے لکھا ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب حد یبیہ میں پہنچے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قریش کو اپنے ار اد ے سے مطلع کر نے کے لئے حضرت خِراش بن اُمَیَّہ خزاعی ( 2 ) کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے ان کی طرف بھیجا۔ عکر مہ بن ابو جہل نے اس اونٹ کی کو نچیں کا ٹ دیں اور خِراش کو قتل کرنے لگے مگر اَحابِیش ( 3 ) اور اَحلاف نے روک دیا۔ خِراش نے خدمت اقدس میں واپس آکر یہ ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک خط دے کر اَشر افِ قریش کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ مکہ میں کمزور مسلمانوں کوعنقریب فتح کی بشارت دینا۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قریش کو مقام بَلْدَح میں دیکھا کہ مسلمانوں کو مکہ سے روکنے پر متفق ہیں ۔
اَبان بن سعید اُمَوِی نے جواب تک ایمان نہ لا ئے تھے حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پنا ہ دی اور اپنے ساتھ گھوڑ ے پر سوار کر کے مکہ میں لے آئے۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اشراف قریش کو رسول اللّٰہ صَلَّی
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام پہنچا یا اور نامہ مبارک پڑھ کر ایک ایک کو سنایا مگر وہ روبرا ہ ( 1 ) نہ ہوئے۔ جب صلح نامہ مکمل ہو گیا اور وہ اس کے نفاذ کے منتظر تھے تو فریقین کے ایک شخص نے دوسرے فریق کے ایک شخص پر پتھر یا تیر مارا اس سے لڑائی چھڑگئی۔ اس لئے فریقین نے فر یق مخالف کے آدمیوں کو بطور یر غمال اپنے پاس روک لیا۔ چنانچہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سُہَیل بن عَمروکواور مشرکین نے حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو (مع دس اور کے) زیر حراست رکھا۔ اس اَثناء میں یہ غلط خبر اڑی کہ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ میں قتل کر دیئے گئے۔ اس لئے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ببول کے درخت کے نیچے مسلمانوں سے موت پر بیعت لی جس کا ذکر کتاب اللّٰہ میں ہے، اس کو بیعت الرضوان کہتے ہیں ۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ مکہ میں تھے اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر ان کو بیعت کے شرف میں شامل کیا۔ جیسا کہ اس کتاب میں دوسری جگہ بالتفصیل مذکور ہے۔ جب قریش کو اس بیعت کی خبر پہنچی تو وہ ڈر گئے اور مَعذِرَت کر کے صلح کرلی اور طرفین کے اصحاب چھوڑ دیئے گئے۔
جب صلح سے فارغ ہو ئے تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے فرمایا کہ اُٹھو! قربانیاں دو اور سر منڈاؤ! ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ایسا فرمایا مگر کوئی نہ اٹھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ اُم سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے یہ تذکرہ کیاتوان کی تدبیر سے یہ مشکل حل ہو گئی جیسا کہ آگے آئے گا۔
جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حدیبیہ سے مدینہ میں واپس تشریف لائے تو ابو جند ل کی طرح ابو بَصِیر ثَقَفِی حلیف بنی زُہر ہ مکہ سے بھاگ کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ قریش نے دوشخص اس کے تعاقب میں بھیجے۔حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حسب معاہدہ ابو بَصِیر کو ان دونوں کے حوالہ کردیا۔جب وہ ذُوالحُلَیْفَہ میں پہنچے تو ابو بَصِیر نے ان میں سے ایک سے دیکھنے کے بہانہ سے تلوار لی اور اس کا کام تمام کر دیا۔ دوسرا بھاگ کر خدمت اقدس میں آیاابو بَصِیر بھی اس کے پیچھے آپہنچا اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ آپ کا وعدہ پورا ہوچکا۔ آپ نے فرمایا: پورا نہیں ہواتو جہاں چاہتا ہے چلا جا۔ اس لئے ابوبَصِیر ساحل بحر پر چلاگیا۔ ابو جند ل بھی بھاگ کے ذومر ہ کے قریب ابو بَصِیر سے آملا اور رفتہ رفتہ ایک جماعت ان کے ساتھ ہو گئی۔
ابو جندل نے قریش کا شامی راستہ روک لیا۔ قریش تنگ آکر حضور رحمت دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے طالب رحم ہوئے اور واپسی کی شرط بھی اُڑادی۔ پس حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابو بَصِیر وابو جندل کے نام ایک نامہ بھیجا۔ابو بَصِیر اس وقت قریب الموت تھا وہ نامہ مبارک اس کے ہاتھ ہی میں تھاکہ انتقال کرگیااور ابوجندل ساتھیوں سمیت مدینہ میں حاضر
خدمت اقدس ہوگیا اور مدینہ ہی میں رہایہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد میں ملک شام میں شہید ہو گیا۔ ( 1 ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!