Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سب سے خوبصورت حور

حکایت نمبر362: سب سے خوبصورت حور

حضرتِ سیِّدُناثَابِت بُنَانیِ قُدَّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ : ” ایک دن میں حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر تھا ۔ اتنے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے جو ابوبَکْر کے نام سے مشہور تھے جہادسے واپس آئے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے جہاد کے متعلق پوچھاتو انہوں نے جہاد میں پیش آنے والے بہت سے واقعات بتائے اور کہا:” ابا جان !کیا میں آپ کو اپنے ایک مجاہد ساتھی کی عجیب وغریب و ایمان افرو ز حالت کے بارے میں نہ بتاؤں؟” حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:” ضرور بتاؤ ۔”کہا :” ہمارے لشکر میں ایک خوبر و نوجوان بھی تھا ۔ جب ہم دشمن کے بالکل سامنے پہنچ گئے تو حملے کی تیاری میں مصروف ہوگئے ۔ اتنے میں اس نوجوان کے یہ الفاظ فضاء میں گو نجے:” واہ! میری زوجہ”عَیْنَاء ”کیسی خوبصورت ہے ، واہ میری زوجہ”عَیْنَاء ” کیسی

خوبصورت ہے”۔ یہ آواز سن کرہم فوراً اس کی طرف دوڑے ،ہم سمجھے کہ شاید اسے کوئی عارضہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ہم نے پوچھا:”اے نوجوان ! کیا ہوا؟” کہا :” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہسوار و ! سنو!میں ہمیشہ اپنے آپ سے یہ کہتا تھاکہ میں ہر گز شادی نہ کروں گا یہاں تک کہ میں کسی غزوہ میں شہید ہو جاؤں گا اور اللہ ربُّ العزَّت جنت کی سب سے خوبصورت حور سے میری شادی کر دے گا۔ میں ہر مرتبہ شہادت کی آرزو لئے جہاد میں شریک ہوتا ،کئی جہادو ں میں شرکت کے باوجود مجھے شہادت کی دولت نہ مل سکی ۔اب اس لشکر کے ساتھ جہاد میں آگیا۔ راستے میں میرے نفس نے مجھے اس ارادے پر ابھارا،” اگر اس مرتبہ بھی مجھے شہادت نہ ملی تو واپسی پر میں شادی کرلوں گا۔”
ابھی کچھ دیر قبل مجھے اونگھ آئی میرے خواب میں کوئی آنے والا آیا اور کہا :” تم ہی ہو جو یہ کہہ رہے ہو کہ اگر اس مرتبہ میں شہید نہ ہوا تو واپسی پر شادی کرلوں گا؟” سنو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ”حو رِعینا ء” کے ساتھ تمہاری شادی کردی ہے ۔ اٹھو! میرے ساتھ چلو۔” وہ مجھے لے کر ایک انتہائی سر سبز وشاداب وسیع باغ میں پہنچا ،وہاں کا منظر بڑا ہی دِلرُباتھا اس میں دس(۱۰) ایسی حسین وجمیل لڑکیاں موجود تھیں کہ اس سے قبل میری آنکھوں نے ایسا حسن نہ دیکھا تھا ۔ میں نے کہا:” شاید ان میں سے کوئی ایک ”حورِ عَیْنَاء ” ہوگی ۔” یہ سن کر ان دوشیزاؤں نے کہا :” ہم تو اس کی کنیز یں ہیں” حورِعَیْنَاء ” تمہارے سامنے کی جانب ہے ۔”
میں آگے بڑھا تو ایک بہت ہی خوبصورت اور سر سبز باغ نظر آیا یہ پہلے باغ کی نسبت زیادہ خوبصورت و وسیع تھا ۔ اس میں بیس(20) حسین وجمیل دو شیزائیں تھیں ان کے حسن وجمال کے سامنے پہلی دس لڑکیوں کے حسن کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ میں نے کہا: ” ان میں سے کوئی ایک”حورِ عَیْنَاء” ہے ۔ ”جواب ملا:” آگے چلے جاؤ ”حورِ عَیْنَاء” تمہارے سامنے ہے۔ ہم تو اس کی کنیزیں ہیں۔” میں آگے بڑھا تو سامنے ایک ایسا وسیع وعریض اور خوبصورت باغ تھا جو پہلے دو باغوں کی نسبت بہت زیادہ پُر بہار تھا ۔ اس میں چالیس(40) ایسی خوبصورت لڑکیاں تھیں کہ ان کے سامنے پہلی دوشیزاؤں کی خوبصورتی کچھ بھی نہ تھی۔ میں نے کہا :”ان میں کوئی ایک ضرور ”حورِ عَیْنَاء ” ہوگی۔”
یہ سن کر انہوں نے اپنی پُرتَرَنُّم آواز میں کہا :” ہم تو اس کی کنیز یں ہیں ”حورِ عَیْنَاء ” تمہارے سامنے ہے، آگے چلے جاؤ ۔ ‘ ‘ میں آگے بڑھا تو اپنے آپ کو یا قوت کے بنے ہوئے ایک خوبصورت کمرے میں پایا جس میں ایک تخت پر سابقہ تمام لڑکیوں سے زیادہ حسین وجمیل نوجوان لڑکی موجود تھی اس کا حسن آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ۔وہ بڑی شان وشوکت سے تخت پر بیٹھی میری جانب دیکھ رہی تھی ۔ میں نے بے تاب ہو کر پوچھا :”کیا تم ہی ”حورِ عَیْنَاء ” ہو؟” اس نے اپنی مسحورکُن آواز میں کہا :” خوش آمدید !میں ہی ”حورِ عَیْنَاء ” ہوں۔” یہ سن کر میں نے اسے چھونے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اس کی مترنم آواز گونجی: ”ٹھہرجائیے ! ابھی آپ کے اندر روح موجود ہے ۔ کچھ دیر انتظار کیجئے! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آج آپ افطاری ہمارے ساتھ کریں گے ۔” میں ابھی اس ہو شرُ با منظر میں

ہی گم تھا کہ میری آنکھ کھل گی ۔ بس اب میں بہت جلد وہاں پہنچنے والا ہوں ۔
نوجوان نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ منادی نے پکار کر کہا :” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہسوارو ! دشمن پر حملہ کرنے کا وقت آگیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے کر اسلام کے دشمنوں پر ٹو ٹ پڑو! ۔”یہ سن کر ہم دشمن کے مقابلے میں صفیں بنا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے ۔وہ نوجوان بڑی بے جگری سے دشمنوں سے نبرد آزماتھا۔ مجھے اس کی بات یاد تھی، میں کبھی سورج کی طرف دیکھتا کبھی اس کی طرف۔ جیسے ہی سورج غروب ہوا اس کی گردن تن سے جدا کردی گئی ۔وہ راہِ خدا میں اپنا سر قربان کرا چکا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ سور ج پہلے غروب ہوا یا وہ نوجوان پہلے شہید ہو ا۔یقینا اس نے افطاری ”حورِ عَیْنَاء ” کے ساتھ کی ہوگی۔ حضرتِ سیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے جب اپنے بیٹے کی زبانی اس نوجوان کی ایمان افروز کہانی سنی تو بے ساختہ دعا گو ہوئے: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس مجاہدپر رحمت ہو ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

error: Content is protected !!