Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نجاست غلیظہ کیا کیا چیزیں ہیں ؟

نجاست غلیظہ کیا کیا چیزیں ہیں ؟

{۱} نجاست غلیظہ

آدمی کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے جس سے وضو یا غسل جاتا رہے وہ نجاست غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتاخون، پیپ، منہ بھر قے، حیض و نفاس و استحاضہ کا خون، منی، مذی ، وَدی، دُکھتی ہوئی آنکھ کا پانی، ناف یا پستان کا پانی جو دَرد سے نکلے اورخشکی کے ہر جانور کا بہتا خون خواہ حلال ہو یا حرام حتی کہ گرگٹ ، چھپکلی تک کا خون اور مردار کی چربی، مردار کا گوشت اور حرام چوپائے جیسے کتا، بلی، شیر، چیتا، لومڑی ، بھیڑیا ، گیدڑ، گدھا، خچر ، ہاتھی، سور ان سب کا پاخانہ پیشاب اور گھوڑے کی لید اور ہر حلال چوپائے کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کاگوبر، بکری، اونٹ نیل گاؤ، بارہ سنگھا، ہرن کی مینگنی اور جو پرند اُونچا نہ اُڑے جیسے مرغی اور بط خواہ چھوٹی یا بڑی ان سب کی بیٹ اور ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور سانپ کا پاخانہ پیشاب اور اس جنگلی سانپ اور جنگلی مینڈک کا گوشت جن میں بہتا خون
ہوتا ہے اگرچہ ذبح کیے گئے ہوں ، یوں ہی اُنکی کھال اگرچہ پکائی گئی ہو، (1 ) اور سور کا گوشت، ہڈی کھال بال اگرچہ ذبح کیا گیا ہو، یہ سب نجاست غلیظہ ہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۲: دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے،یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک ہے یہ بالکل غلط ہے۔ (قاضی خان وردالمحتار)
مسئلہ۳: شیر خوار بچے نے دودھ کی قے کی اگر منہ بھر ہے تو نجاست غلیظہ ہے۔
مسئلہ۴: چھپکلی اور گرگٹ کا خون نجاست غلیظہ ہے۔
مسئلہ۵: ہاتھی کے سونڈ کی رَطوبت اور شیر، کتے، چیتے اور دوسرے درندے چوپایوں کا لعاب ( 2) نجاست غلیظہ ہے۔ ( قاضی خان)
مسئلہ۶: نجاست غلیظہ خفیفہ میں مل جائے تو کل غلیظہ ہو جائے۔
مسئلہ۷: کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ ہے اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ ( 3) درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد سمجھی جائے گی، نجاست خفیفہ میں بھی مجموعہ ہی پر حکم دیا جائے گا۔
کون کون سی چیزیں نجاست خفیفہ ہیں ؟
نجاست خفیفہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے جیسے گائے، بیل، بھینس ، بھیڑ،
بکری، اُونٹ ، نیل گاؤ وغیرہ ان کا پیشاب اور گھوڑے کا پیشاب بھی اور جس پرند کا گوشت حرام ہے (خواہ وہ شکاری ہو یا نہ ہو) جیسے، کوا، چیل، شکرا، باز، بہری اس کی بیٹ ( 1) نجاست خفیفہ ہے۔ (ہندیہ وغیرہ)
مسئلہ۸: حرام جانوروں کا دودھ نجس ہے البتہ گھوڑی کا دودھ پاک ہے، مگر کھاناجائز نہیں ۔ (بہار شریعت)
مسئلہ۹: جو حلال پرند اونچے اڑتے ہیں ، جیسے کبوتر، فاختہ، مینا، مرغابی، قازان کی بیٹ پاک ہے۔
مسئلہ۱۰: چمگادڑ کی بیٹ اور پیشاب دونوں پاک ہیں ۔ (ردالمحتار)
مسئلہ۱۱: مچھلی اور پانی کے دیگر جانوراور کھٹمل اور مچھر کا خون پاک ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۱۲: پیشاب کی نہایت باریک چھینٹیں سوئی کی نوک برابر کی بدن یا کپڑے پر پڑ جائیں تو کپڑا اور بدن پاک رہے گا۔ (قاضی خان)
مسئلہ۱۳: جس کپڑے پر پیشاب کی ایسی ہی باریک چھینٹیں پڑ گئیں اگر وہ کپڑا پانی میں پڑ گیا تو پانی بھی ناپاک نہ ہوگا۔ (بہار شریعت)
مسئلہ۱۴: جو خون زخم سے بہانہ ہو وہ پاک ہے۔ (بزازیہ و قاضی خاں )
مسئلہ۱۵: گوشت، تلی، کلیجی، میں جو خون رہ گیا پاک ہے اور اگر یہ چیزیں بہتے خون میں سن جائیں تو ناپاک ہیں بغیر دھوئے پاک نہ ہوں گی۔ ( ہندیہ ، بزازیہ، منیہ)

مسئلہ۱۶: اگر نماز پڑھی اور جیب وغیرہ میں شیشی ہے جس میں پیشاب یا خون یا شراب ہے تو نماز نہ ہوگی۔ (منیہ وغیرہ)
مسئلہ۱۷: جیب میں انڈا ہے تو اگرچہ اس کی زردی خون ہوگئی ہو نماز ہوجائے گی۔ (منیہ وغیرہ)
مسئلہ۱۸: پیشاب پاخانہ کے بعد ڈھیلے سے استنجاء کرلیا پھر اس جگہ سے پسینہ نکل کر بدن یا کپڑے پر لگا تو بدن اور کپڑا ناپاک نہ ہوں گے۔ ( بہار شریعت)
مسئلہ۱۹: ناپاک چیزوں کا دُھواں اگر کپڑے یا بدن پر لگے تو کپڑا اور بدن نجس نہ ہوگا۔
(عالمگیری و ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ۲۰: راستہ کی کیچڑ پاک ہے جب تک اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نماز پڑھ لی نماز ہوگئی مگر دھولینا بہتر ہے۔ (بہارشریعت)
مسئلہ۲۱: سڑ ک پر پانی چھڑکا جارہا تھا زمین سے چھینٹیں اُڑ کر کپڑے پر پڑیں ، کپڑا نجس نہ ہوا لیکن دھولینا بہتر ہے۔ (بہار شریعت)

________________________________
1 – کھال پکانے سے مراد کھال کو اس طرح بنالیا گیا ہو کہ اس میں نجس رطوبت وغیرہ باقی نہ ہو اور سڑنے بگڑنے کا ڈر نہ ہو جس کو عربی میں دَباغت کہتے ہیں ۔ اس کتاب میں جہاں کہیں کھال کو پکانے کا لفظ آیا ہے وہاں دَباغت مراد ہے آگ میں پکانا مراد نہیں۔ ۱۲منہ سلمہ
2 – لعاب:تھوک (۱۲منہ)
3 – مجموعہ :اکٹھا (۱۲منہ)
________________________________
1 – بیٹ:چڑیوں کا پاخانہ (۱۲منہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!