جلوۂ بیدار

جلوۂ بیدار

آنکھ تیری سوئے کعبہ ۔دل ترا بیت الصنم
مجھ کوتیرے دل کا اندیشہ ،تجھے فکر حرم
واعظِ ناداں گرائے جا حجابوں پرحجاب
کوئی دیوانہ اٹھا دے گا نقاب کیف وکم
اس نے منشائے الٰہی کو مکمل کردیا
اپنی آنکھوں پر لیے جس نے محبت کے قدم
ہم نشین لالہ وگل ہوتو کھل جائے یہ راز
بوئے گل کہتے ہیں جس کو ہے نسیم سوزغم
آرزوؤں نے ہزاروں پیچ وخم پیدا کئے
زندگی کا راستہ تھا بے نیاز پیچ وخم
خنکیٔ شبنم ہویاشادابیٔ بحررواں
یہ بھی ساقی کاکرم ہے وہ بھی ساقی کا کرم
عشق کااک جلوۂ بیدار ہے عمرابد
عشق کااک فرش پاانداز ہے خواب عدم
کجکلاہی تیرے مستوں کی رہے گی پیش پیش
تختۂ دار ورسن ہو یا خیابان ارم
دیکھیے سب ختم تاویلات فرقت ہوں روشؔ
روز اک پیغام نو لائی ہے باد صبح دم
روشؔ صدیقی
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!