Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مؤمن کی نصیحت

حکایت نمبر417: مؤمن کی نصیحت

حضرت سیدناعُبَیْدُاللہ بن شُمَیْط بن عَجْلَان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،میں نے اپنے والد ِ محترم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: مؤمن اپنے نفس کو اس طرح سمجھا تا ہے:
”اے نفس! یہ دنیوی فانی زندگی صرف تین دن ہی تو ہے۔ ایک تو گزر گیا ۔ ایک وہ ہے جس میں تو ہے، سمجھ لے کہ بس یہ بھی گزر گیا۔ کل کا دن تو ایک ایسی کھوکھلی اُمید ہے جسے شاید تو نہ پاسکے ،اگر تو کل تک زندہ رہا تو کل کا دن تیرارزق ساتھ لے کر آئے گا اور کل نہ جانے کتنے لوگوں کو موت کا پیغام مل جائے گا، ہوسکتا ہے تو بھی انہی میں شامل ہو جنہیں پیغامِ اَجل( یعنی موت کاپیغام) ملنے والا ہے۔ اے نفس! ہر دن کے لئے اس دن کا غم ہی بہت ہے۔ پھر اگر مزید زندگی ملی تو تیرے کمزور و ناتواں دل پر قحط سالی اور گردشِ ایام کا غم مسلَّط رہے گا۔ کبھی اشیاء کا ارزاں و قیمتی مزہ تجھے پریشان کریگا تو کبھی گرمیوں میں ہی تو سخت سردی آنے کے غم میں مبتلا ہوجائے گا۔ اسی طرح سردیوں میں گرمی آنے سے قبل ہی تجھے اس کا غم نڈھال کردے گا۔ جب تجھے اتنے سارے غم ہوں گے تو تیرا دل آخرت کے غم کی طرف کیسے متوجہ ہوگا؟ یاد رکھ! ہر ہر دن تیری مدّتِ عمر کو کم کررہا ہے، لیکن تجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ تیرا رزق ہر روز پورا ہوتا جارہا ہے، لیکن تجھے کوئی غم نہیں! تجھے بقدرِ کفایت روزی مل جاتی ہے، لیکن پھربھی تو دھوکہ دینے والی اشیاء کی طلب میں سرگرداں ہے۔
قلیل پر قناعت نہیں ملتی، کثیر سے تیرا پیٹ نہیں بھرتا، آخر یہ غفلت کب تک ؟ تو ان باتوں سے خوب واقف ہے،پھر بھی اپنی جہالت سے آگاہ کیوں نہیں ہوتا؟ حالانکہ توبخوبی جانتا ہے کہ جن نعمتوں کی خوشگوار برسات میں تونہارہا ہے ان کا شکر ادا کرنے سے تو عاجز ہے۔ ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں ہوسکتا، لیکن پھر بھی تجھے زیادہ کی طلب نے دھوکے میں مبتلا کررکھا ہے۔ وہ شخص اپنی آخرت کے لئے کیا تیاری کریگا؟ جس کی دنیوی خواہشات ہی پوری نہیں ہوتیں، جس کے دنیوی مطالبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ انتہائی تعجب ہے اس پر جو ہمیشہ کے گھر(یعنی جنت) کی تصدیق کرنے کے باوجود دھوکے کی زندگی کے لئے سرگرداں ہے! صد ہزار افسوس ایسے شخص پر!”

؎ دِلَا غافل نہ ہو یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے باغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے
ترا نازک بدن بھائی جو لیٹے سیج پھولوں پر
ہو گا اک دن بے جان اسے کیڑوں نے کھانا ہے
جہاں کے شُغل میں شاغل خدا کے ذکر سے غافل
کرے دعویٰ کہ یہ دنیا ترا دائم ٹھکانہ ہے
غلامؔ اِک دم نہ کر غفلت حیاتی پر نہ ہو غُرّہ
خدا کی یاد کر ہر دم کہ جس نے کام آنا ہے

(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آخرت کی تیاری کے لئے قبر و حشر کی یاد بہت ضروری ہے جب ان دشوار گزار گھاٹیوں کا پُرہول منظر ہر وقت پیشِ نظر ہوگا تو ان سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ قبر و حشر کی تیاری کے لئے” دعوتِ اسلامی” کے مدنی ماحول سے وابستگی اور امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ” مدنی انعامات ”پر عمل بہت مفید ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مدنی قافلوں کا مسافر اور مدنی انعامات کا عامل بنائے۔) ( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!