Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کنیز کا علمی مقام

حکایت نمبر395: کنیز کا علمی مقام

حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ” ایک مرتبہ دورانِ طواف اچانک ایک نور ظاہر ہوا جو آسمان تک بلند تھا۔ میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متعجب ہوا۔ طواف مکمل کرکے اس نور کے متعلق غوروفکر کرنے لگا یکایک ایک دردناک وغمگین آواز سنائی دی، میں نے اس سمت رُخ کیا تو ایک کنیز خانۂ کعبہ کا غلاف تھامے چند اَشعارپڑھ رہی تھی جن کامفہوم یہ ہے: ”اے میرے پاک پروردْگار عَزَّوَجَلَّ !تو جانتا ہے کہ تو ہی میرا محبوب ہے۔ ایک سال اور گزر گیا، میرا جسم اور آنسو میرے راز پر نوحہ کرتے ہیں۔ اے میرے محبوب! میں نے اب تک محبت کو چھپائے رکھا۔ اب میں عاجز آگئی ہوں۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں: ”اس کی درد بھری فریاد نے میرا دل غمگین کردیا میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے ۔ وہ پھر بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں ملتجی ہوئی: ”اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تجھے اس محبت کا واسطہ جو تو مجھ سے کرتا ہے مجھے بخش دے۔ میری مغفرت فرمادے۔”
وہ مسلسل اسی جملے کا تکرار کررہی تھی۔ مجھے یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی میں نے اس سے کہا:”تو جو اتنی بڑی بات کہہ رہی ہے کہ” اس محبت کا واسطہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے کرتا ہے” کیا تجھے یہ کافی نہیں تھا کہ تو اس طرح کہتی، ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے تجھ سے جو محبت ہے اس کا واسطہ۔ ” کہا :” اے ذُوالنُّوْن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! مجھ سے دُور ہوجا، کیا تو نہیں جانتا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے محبت کرنے سے پہلے ہی ان سے محبت کرتا ہے؟ کیا تو نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سُنا؟’ ‘فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ترجمۂ کنزالایمان :توعنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گاکہ وہ اللہ کے پیارے اوراللہ ان کاپیارا۔(پ۶،المآئدۃ:۵۴)” دیکھو !اس آیتِ مبارکہ میں پہلے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان سے محبت کا ذکرہوابعد میں ان کی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کا ذکر ہوا۔” حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:” کنیزکاعلمی مقام دیکھ کر میں نے پوچھا:” تجھے کیسے معلوم ہوا کہ میں ذُوالنُّوْن مِصْرِی ہوں؟”
کہا: ” اے ذُوالنُّوْن ! دِل، رموزو اَسرار کے میدان میں گھومتے رہتے ہیں۔ میں نے خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کی بدولت تجھے پہچانا ۔ اب ذرا پیچھے کی جانب دیکھو۔” میں نے پیچھے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ جب دوبارہ اس کی طرف نظر کی تو وہ وہاں موجود نہ تھی۔ نہ جانے اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ میں نے اُسے خوب تلاش کیا مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!