Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جمعہ واجب ہونے کے لیے شرطیں

جمعہ واجب ہونے کے لیے شرطیں

جمعہ واجب ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں ، اُن میں سے اگر ایک بھی نہ پائی گئی تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہو جائے گا بلکہ مرد عاقل بالغ کے لیے جمعہ پڑھنا افضل ہے اور عورت کے لیے ظہر افضل۔
پہلی شرط: شہر میں مقیم ہونا۔
دوسری شرط: صحت ۔ یعنی مریض پر جمعہ فرض نہیں مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجد جمعہ تک نہ جاسکتا ہو یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گایا دیر میں اچھا ہوگا۔ (غنیۃ) شیخ فانی (1 ) مریض کے حکم میں ہے۔ (قاضی خان، درمختار و فتح القدیر)
مسئلہ۱۴: جو شخص بیمار کا تیمار دار (1 ) ہو اور جانتا ہے کہ جمعہ کو جائے گا تو مریض دِقتوں میں پڑجائے گا اور اس کا کوئی پرسانِ حال (2 ) نہ ہوگا تو اس تیمار دار پر جمعہ فرض نہیں ۔ (درمختاروبہار)
تیسری شرط: آزاد ہونا۔ غلام پر فرض نہیں اور ا س کاآقا منع کرسکتا ہے۔
(عالمگیری و قاضی خان)
مسئلہ۱۵: نوکر اور مزدور کو جمعہ پڑھنے سے نہیں روک سکتا البتہ اگر جامع مسجد دور ہے تو جتنا حر َج ہوا ہے، اُس کی مزدوری میں کم کرسکتا ہے اور مزدور اِس کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا۔ (عالمگیری)
چوتھی شرط: مرد ہونا۔ عورت پر جمعہ فرض نہیں ۔
پانچویں شرط: بالغ ہونا۔
چھٹی شرط: عاقل ہونا۔ یہ دونوں شرطیں خاص جمعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے واجب ہونے کے لیے عقل و بلوغ شرط ہے۔
ساتویں شرط: انکھیارا ہونا۔ اندھے پر جمعہ فرض نہیں مگر اس اندھے پر فرض ہے جو شہر کی تمام گلی کوچوں میں بلا تکلف پھرتا ہے اور بلا پوچھے اور بلا مددگار کے جس مسجد میں چاہے پہنچ جاتا ہے۔ (درمختار وبہار)
آٹھویں شرط: چلنے پر قادِر ہونا۔ یعنی: اَپا ہج پر جمعہ فرض نہیں لیکن ایسا لنگڑا جو مسجد تک جاسکتا ہے اُس پر جمعہ فرض ہے۔(درمختار وغیرہ)
نویں شرط: قید میں نہ ہونا۔ یعنی قیدی پر جمعہ فرض نہیں لیکن اگر کسی دَین کی وجہ سے قید
کیا گیا اور مالدار ہے یعنی ادا کرسکتا ہے تواس پر فرض ہے۔
دسویں شرط: خوف نہ ہونا۔ اگر بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا ڈر ہے یا مفلس قرضدار کو قید ہونے کا ڈر ہے تو اس پر فرض نہیں ۔ (ردالمحتار)
گیارہویں شرط: آندھی یا پانی یا اَولے یا سردی کا نہ ہونا۔ یعنی یہ چیز اگر اتنی سخت ہیں کہ ان سے نقصان کا خوف ہو تو جمعہ فرض نہیں ۔
مسئلہ۱۶: جمعہ کی اِمامت ہر وہ مرد کرسکتا ہے جو اَور نمازوں میں امام ہوسکتا ہے اگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو۔ جیسے مریض، مسافر، غلام (درمختار، ہدایہ، قاضی خان، فتح القدیر) یعنی جب کہ سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب یا جس کو اُس نے اجازت دی بیمار ہو یا مسافر تویہ سب نماز جمعہ پڑھا سکتے ہیں یا انہیں تینوں نے کسی مریض یا مسافر یا غلام یا کسی لائق اِمامت کو اجازت دی ہو،یا بضرورت عام لوگوں نے کسی ایسے کو امام مقر رکیا ہو جو اِمامت کرسکتا ہو تو وہ پڑھاسکتا ہے چاہے مریض و مسافر و غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نہیں کہ بطورِ خود جس کا جی چاہے جمعہ پڑھا دے کہ یوں جمعہ نہ ہوگا۔
مسئلہ۱۷: جس پر جمعہ فرض ہے اُسے شہر میں جمعہ ہوجانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔
مسئلہ۱۸: مریض یا مسافر یا قیدی یا کوئی اور جس پر جمعہ فرض نہیں اِن لوگوں کو بھی جمعہ کے دن شہر میں جماعت کے ساتھ ظہر پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے خواہ جمعہ ہونے سے پہلے جماعت کریں یا بعد میں یو ہیں جنہیں جمعہ نہ ملا وہ بھی بغیر اَذان واِقامت ظہر کی نماز تنہا تنہا پڑھیں ، جماعت اُن کے لیے بھی منع ہے۔ (درمختار)

مسئلہ۱۹: علماء فرماتے ہیں : جن مسجدوں میں جمعہ نہیں ہوتا اُنہیں جمعہ کے دن ظہر کے وقت بند رکھیں ۔ (درمختارو بہار)
مسئلہ۲۰: گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اَذان و اِقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔ (عالمگیری وبہار) نمازِ جمعہ کے لیے پہلے سے جانا اور مسواک کرنا اور اچھے اور سفید کپڑے پہننا اور تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے اور غسل سنت ہے۔ (عالمگیری، غنیۃ وغیرہ)
خطبے کے کچھ اور مسائل
جب اِمام خطبہ کے لیے کھڑا ہو اُس وقت سے ختم نماز تک نماز و اَذکار اور ہر قسم کا کلام منع ہے البتہ صاحب ترتیب اپنی قضا نماز پڑھ لے۔ یوہیں جو شخص سنت یا نفل پڑھ رہا ہے جلدی جلدی پوری کرے۔ (درمختار وبہار)
مسئلہ۲۱: جو چیزیں نماز میں حرام ہیں جیسے کھانا پینا سلام و جوابِ سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ( 1) ہاں خطیب اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف کرسکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے جو لوگ اِمام سے دُور ہوں کہ خطبہ کی آواز اُن تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چپ رہنا واجب ہے اگر کسی کو بُری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کرسکتے ہیں ، زبان سے ناجائز ہے۔ (درمختار وبہار)
مسئلہ۲۲: خطبہ سننے کی حالت میں دیکھا کہ اندھا کنوئیں میں گرا چاہتا ہے یا کسی کو بچھو وغیرہ

کاٹنا چاہتا ہے تو زبان سے کہہ سکتے ہیں اگر اِشارہ یا دبانے سے بتاسکیں تو اس صورت میں بھی زبان سے کہنے کی اجازت نہیں ۔ (درمختار و ردالمحتار وبہار)
مسئلہ۲۳: خطیب نے مسلمانوں کے لیے دعا کی تو سامعین کو ہاتھ اُٹھانا یا آمین کہنا منع ہے۔ا گر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے، خطبہ میں دُرود شریف پڑھتے وقت خطیب کا دائیں بائیں منہ کرنا بدعت ہے۔
مسئلہ۲۴: حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا نام پاک خطیب نے لیا تو حاضرین دل میں دُرود شریف پڑھیں زبان سے پڑھنے کی اِس وقت اجازت نہیں ۔ یوہیں صحابہ کرام کے ذکر پر اس وقت رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم زبان سے کہنے کی اجازت نہیں۔(درمختار و بہار وغیرہ)
جمعہ کے علاوہ دیگر خطبوں کا حکم
خطبہ ٔجمعہ کے علاوہ اور خطبوں کا سننا بھی واجب ہے۔ جیسے عیدین و نکاح وغیرہ کا خطبہ (درمختارو بہار)

________________________________
1 – وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزورہی ہوتاجائے گااور اس کی کمزوری زائل ہونے اور صحت بحال ہونے کی امید نہ ہو۔ (ماخوذ از بہارشریعت، حصہ۵،۱/۱۴۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!