Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

امامت و خلافت کا بیان

امامت و خلافت کا بیان

امامت دو قسم کی ہے، ایک: امامت صغریٰ، دوسری: امامت ِکبریٰ۔ امامت ِصغریٰ نماز کی امامت ہے جس کا حال نماز کے بیان میں آئے گا۔

اِمامت کبریٰ کی شرائط

امامت کبریٰرسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّم کی نیابت مطلقہ ہے یعنی حضور کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام دینی دنیوی کاموں میں شریعت کے موافق عام تصرف کرنے کا اختیار اور غیر معصیت میں تمام جہان کے مسلمانوں سے اطاعت کرانے کا حق، اس امامت کے لیے مسلمان آزاد، مرد، عاقل، بالغ، قرشی، قادر ہونا ( 3) شرط ہے۔ہاشمی علوی معصوم ہونا
شرط نہیں، نہ یہ شرط کہ اپنے زمانہ میں سب سے افضل ہو۔
مسئلہ۱: کب امام کی اطاعت فرض ہے؟
امام کی اِطاعت مطلقاً ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ امام کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو کہ شریعت کے خلاف حکم میں کسی کی اطاعت نہیں۔
مسئلہ۲: امام ایسا شخص بنایا جائے جو بہادر سیاستدان اور عالم ہو یا علماء کی مدد سے کام کرے۔
مسئلہ۳: عورت اور نابالغ کی امامت جائز نہیں ۔
مسئلہ۴: امام مبتلائے فسق ( 1) ہونے سے معزول نہیں ہوجاتا۔

________________________________

3 – قادر کے یہ معنی ہیں کہ شرعی فیصلہ اور حدود کو جاری کرسکے ظالم سے مظلوم کا حق دلانے کی اور مسلمانوں کی جان و مال ملک واملاک کی حفاظت کی طاقت ہو۔ ۱۲منہ سلمہ

error: Content is protected !!