Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خواص بسم اﷲ الرحمن الرحیم

     ۔بسم اﷲشریف ۔ کے خواص اور اس آیت مبارکہ کی خاصیتیں بہت ہیں ان میں سے چند فوائد یہاں لکھے جاتے ہیں جو بزرگوں کے مجرب اور آزمودہ ہیں۔
ہر طرح کی حاجت روائی:۔
    اگر کوئی سخت مشکل یا حاجت پیش آجائے تو بدھ جمعرات اور جمعہ کو مسلسل تین دن روزے رکھے اور جمعہ کا غسل کر کے نماز جمعہ کے لئے جائے اور کچھ خیرات بھی کرے پھر نماز جمعہ کے بعد یہ دعا پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دل لگا کر اور گڑ گڑا کر خداسے دعا مانگے ان شاء اﷲ تعالیٰ ضرور اس کی دعا قبول ہوگی۔
    اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO اَلَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُO وَاَسْئَلُکَ بِاِسْمِکَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ اَلَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ اَلْحَیُّ الْقَیُّومُ ؕ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ اَلَّذِیْ مَلَئَتْ عَظْمَتُہٗ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ وَاَسْئَلُکَ بِاِسْمِکَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ اَلَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَعَنَتْ لَہُ الْوُجُوْہُ وَخَشَعَتْ لَہُ الْاَصْوَاتُ وَ وَجِلَتِ الْقُلُوْبِ مِنْ خَشْیَتِہٖ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنْ تُعْطِیَنِیْ مَسْئَلَتِیْ وَتَفْضِیَ حَاجَتِیْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
(فیوض قرآنی بحوالہ الترغیب وَالْتَرْھِیْب و مفتاح الحسن وغیرہ)
    لفظ حاجتی کے بعد اپنی ضرورت کا نام ذکر کرو۔
    جس صحابی سے یہ دعا منقول ہے ان کا ارشاد ہے کہ یہ دعا نادانوں کو ہر گز مت سکھاؤ کیونکہ وہ ناجائز کاموں کے لئے پڑھیں گے اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے بزرگوں کے فرمان کے مطابق میں بھی سخت تاکید کرتا ہوں کہ ناجائز کاموں کے لئے کبھی ہر گز اس دعاکو نہ پڑھنا ورنہ سخت نقصان اٹھاؤ گے۔
دشمنی دور ہو جائے اور محبت پیدا ہو جائے:۔
اگر پانی پر ۷۸۶ مرتبہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ کر مخالف کو پلا دو تو ان شاء اﷲ تعالیٰ وہ مخالفت چھوڑ دے گا اور محبت کرنے لگے گا اور اگر موافق کو پلا دو تو محبت بڑھ جائے گی۔            (فیوض قرآنی)
ہر درد و مرض دور ہو جائے:۔
جس درد یا مرض پر تین روز تک سو مرتبہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم حضور دل سے پڑھ کر دم کیا جائے ان شاء اﷲ تعالیٰ اس سے آرام ہو جائے گا۔      (فیوض قرآنی)
چور اوراچانک موت سے حفاظت:۔
اگر رات کو سوتے وقت ۲۱ مرتبہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ لو تو ان شاء اﷲ تعالیٰ مال واسباب چوری سے محفوظ رہیں گے اور مرگ ناگہانی سے بھی حفاظت ہوگی۔
    (فیوض قرآنی)
حاجتوں کے لئے بسم اﷲ اور نماز:۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم اس طرح پڑھو کہ جب ایک ہزار مرتبہ ہوجائے تو دو رکعت نماز پڑھ کر درود شریف پڑھو اور اپنی مراد کے لئے دعا مانگو پھر ایک ہزار مرتبہ بسم اﷲ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھو اور درود شریف پڑھ کر اپنی مراد کے لئے دعا مانگو غرض اسی طرح بارہ ہزار مرتبہ بسم اﷲ پڑھو اور ہر ہزار پر دو رکعت نماز پڑھو اور نماز کے بعد درود شریف پڑھ کر اپنی مراد کے لئے دعا مانگو ان شاء اﷲ تعالیٰ مراد حاصل ہوگی۔   (مرقع کلیمی و مجربات دیربی)
اولاد زندہ رہے گی:۔جس عورت کا بچہ زندہ نہ رہتا ہووہ ایک کاغذ پر ایک سو ساٹھ بار بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھوا کر اس کا تعویذ بناکر ہروقت پہنے رہے تو ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کی اولاد زندہ رہے گی ۔     (فیوض قرآنی)
زہر کا اثر نہ ہو:۔
 بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یہ دعا پڑھ کر ہمیشہ کھانا کھائیں اور پانی وغیرہ پئیں تو ان شاء اﷲتعالیٰ زہر کا اثر دور ہو جائے گا اور زہر کوئی نقصان نہیں دے گا لیکن پختہ عقیدہ اور شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ۔       (فیوض قرآنی)
بخار سے شفاء:۔
جس کو بخار ہو سات بار یہ دعا پڑھے بِسْمِ اللہِ الْکَبِیْرِ اَعُوْذُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ مِنْ شَرِّ کُلِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَّ مِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ اگر مریض خود نہ پڑھ سکے تو کوئی دوسرا نمازی آدمی سات بار پڑھ کر دم کر دے یا پانی پر دم کر کے پلا دے ان شاء اﷲ تعالیٰ بخار اتر جائے گا ایک مرتبہ میں بخار نہ اترے تو بار بار یہ عمل کریں۔
(المستدرک،کتاب الرقی والتمائم،باب رقیۃ وجع الضرس والاذن،رقم۸۳۲۴،ج۵،ص۵۹۲)
تپ لرزہ سے شفاء:۔
جس کو جاڑا بخار آتا ہو اس نقش کو لکھ کر مریض کے گلے میں ڈال دیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
 اللہ الرحمٰن الرحیم بسم   
الرحمٰن الرحیم بسم   اللہ
الرحیم بسم  اللہ   الرحمٰن
بازار میں نقصان نہ ہو بلکہ فَائدہ ہو:۔بازار جاؤ تو یہ دعا پڑھو۔
بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْاَسْوَاقِ وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا اَللّٰھُمَّ اِنیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَصِیْبَ یَمِیْناً فَاجِرَۃً اَوْ صَفَقَۃً خَاسِرَۃً ؕ
اس دعا کی برکت سے ان شاء اﷲ تعالیٰ بازار میں خوب نفع ہو گا اور کوئی گھاٹا نہیں ہوگا اس دعا کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پڑھا ہے ۔
    (المستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر۔۔۔الخ،رقم۲۰۲۱،ج۲،ص۲۳۲)
آسیب دور ہو جائے:۔
آسیب زدہ مریض پر یہ پڑھا جائے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیْمِ OالٓمٓصٓO طٰہٰ O طٰسٓمٓOكٓھٰیٰعٓصٓ O یٰسٓO
وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِOحٰمٓعٓسٓقٓO قٓO نٓO وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَO
    ان شاء اﷲ تعالیٰ آسیب نکل جائے گا اور پھر نہ آئے گا پڑھنے والے میں تقویٰ اعتقاد کامل اور روحانی قوت ہونی چاہے اور حضور قلب کے ساتھ پڑھے (فیوض قرآنی)
خطرہ میں پڑ جانے کے وقت:۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی خطرہ میں پڑ جائے تو یہ پڑھے
بِسْمِ اللہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ان شاء اﷲ تعالیٰ اس کی برکت سے خطرہ ٹل جائے گا۔
(عمل الیوم واللیلۃلا بن السنی،باب مایقول اذا وقع فی ورطۃ،رقم۳۳۶،ص۱۰۸)
ہر آفت سے امان:۔
جو شخص روزانہ صبح وشام اس دعاء کو پڑھے وہ ہر آفت و بلا سے محفوظ رہے گا۔
    بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰہَ اِ لَّا اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ؕ مَاشَآءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ اَشْھَدُ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۵ وَاَنَّ اﷲَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا ۵ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَ مِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَّۃٍ اَنْتَ آخِذٌم بِنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۵ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ۵ اِنَّ وَلِیِّےَ اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ ۵ فَاِنْ تَوَلَّوْ ا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔
    اس دعا کا بڑا حصہ شرح سفرالسعادۃ ص ۴۷۸ میں مذکور ہے اور پوری دعا متعدد بزرگوں نے لکھی ہے  ۔القول الجمیل ۔ ص۷۷ میں لکھا ہے کہ میں نے اس دعا کو نہایت مفید پایا ہے۔ 
دفع آسیب و رد سحر کی چھ دعائیں:۔
ان چھ دعاؤں کو  ۔شش قفل ۔ (چھ تالا) بھی کہتے ہیں جو شخص رات کو ہمیشہ شش قفل پڑھتا رہے یا لکھ کر اپنے پاس رکھے وہ ہر خوف و خطرہ سے اور جادو سے اور ہر قسم کی بلاؤں سے محفوظ رہے گا اور اگر شش قفل کو آسیب زدہ یا سحر و جادو کے مریض کے کان میں پڑھ کر پھونک مار دی جائے تو آسیب بھاگ جائے گا اور جادو اتر جائے گا۔     (فیوض قرآنی)
قفل اول)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہ بِسْمِ اللہِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌO 
قفل دوم)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الْخَلَّاقِ الْعَلِیْمِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھْوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ O 
قفل سوم)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہ بِسْمِ اللہِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْبَصِیْرُ O 
قفل چہارم)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہ بِسْمِ اللہِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَھُوَ الْغَنِیُّ القَدِیرْ، O 
قفل پنجم)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ O 
قفل ششم)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہ بِسْمِ اللہِ السَّمِیْعِ الْبَصِیْرِ الَّذِیْ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ الْحَکِیْمُ ؕ فَاللہُ خَیْرٌ حَافِظاً ہ وَّھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ O
ظالم اور شیطان کے شر سے پناہ:۔   
 اس کے لئے حضرت انس صحابی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی دعا بے حد نافع اور بہت ہی فائدہ بخش ہے امام الہند حضرت شیخ عبد الحق محدث رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنے ایک مکتوب میں اس کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس مکتوب کا نام  ۔استیناس الانوار القبس فی شرح دعاء انس ۔ ہے یہ مکتوب  ۔اخبار الاخیار ۔ ص ۱۹۱ کے حاشیہ پر چھپا ہے اس میں آپ لکھتے ہیں۔
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جمع الجوامع ۔ میں محدث ابوالشیخ کی کتاب الثواب اور تاریخ ابن عسا کر سے نقل کرتے ہیں کہ ایک روز حجاج بن یوسف ثقفی ظالم گورنر نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مختلف اقسام کے چار سو گھوڑے دکھا کر کہا کہ اے انس! کیا تم نے اپنے صاحب (یعنی رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کے پاس بھی اتنے گھوڑے اور یہ شان و شوکت دیکھی ہے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس اس سے بہتر چیزیں دیکھی ہیں اور میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سنا ہے کہ گھوڑے تین طرح کے ہیں ایک وہ گھوڑا جو جہاد کے لئے رکھا جائے پھر اس کے رکھنے کا ثواب بیان فرمایا (یہ عام طور پر حدیث کی کتابوں میں موجود ہے) دوسرا وہ گھوڑا جو اپنی سواری کے لئے رکھا جاتا ہے تیسرا وہ گھوڑا جو نام و نمود کے لئے رکھا جاتا ہے اس کے رکھنے سے آدمی جہنم میں جائے گا اے حجاج! تیرے گھوڑے ایسے ہی ہیں ۔۔
حجاج اس حدیث کو سن کر آگ بگولا ہوگیا اور کہا کہ اے انس! اگر مجھ کو اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ تم نے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت کی ہے اور امیرالمومنین (عبدالملک بن مروان) نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کی ہدایت کی ہے تو میں تمہارے ساتھ بہت برا معاملہ کر ڈالتا۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے حجاج! قسم بخدا تو میرے ساتھ کوئی بد عنوانی نہیں کر سکتا میں نے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے چند کلمات سنے ہیں جن کی برکت سے میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہتاہوں اوران کلمات کی بدولت کسی ظالم کی سختی اور کسی شیطان کے شر سے ڈرتا ہی نہیں حجاج اس کلام کی ہیبت سے دم بخود رہ گیا اور سر جھکا لیا تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر بولا کہ اے ابو حمزہ (یہ حضرت انس کی کنیت ہے) یہ کلمات مجھے بتا دیجئے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں ہرگز تجھے نہ بتاؤں گا اس لئے کہ تو اس کا اہل نہیں ہے راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کاآخری وقت آگیا تو ان کے خادم حضرت ابان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے سرہانے آکر رونے لگے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا چاہتا ہے؟ حضرت ابان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی وہ کلمات ہمیں تعلیم فرمایئے جن کے بتانے کی حجاج نے درخواست کی تھی اور آپ نے انکار فرما دیا تھا حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لو سیکھ لو ان کو صبح و شام پڑھنا وہ کلمات یہ ہیں۔
دعائے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ:۔
 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۵بسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِیْ بِسْمِ اللہِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ وَوَلَدِیْ۔ بِسْمِ اللہِ عَلٰی مَا اَعْطَانِیَ اللہُ اَللہُ رَبِّیْ لَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْاً ؕ اَﷲُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّرِیْدٍO وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍO فَاِنْ تَوَلَّوْافَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَؕ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِO اِنَّ وَلِیِّ ےَ اللہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ O
اس دعا کو تین مرتبہ صبح کو اور تین مرتبہ شام کو پڑھنا بزرگوں کا معمول ہے۔
(جامع الاحادیث للسیوطی،مسند انس بن مالک،رقم۱۲۰۶۳،ج۱۸،ص۴۸۷،
اخبار الاخیار(فارسی)،ص۲۹۲)
ہر مرض سے شفاء:۔  
  یہ کلمات پڑھے جائیں او ران کا تعویذ پہنا جائے ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَباِﷲِ وَلَا حَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِO اُسْکُنْ اَیُّھَا الْوَجْعُ سَکَّنْتُکَ بِالَّذِیْ یُمْسِکُ السَّمَآءُ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ج اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌO بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO وَبِاللہِ وَلَا حَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلّاَ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اُسْکُنْ اَیُّھَا الوَجْعُ سَکَّنْتُکَ بِالَّذِیْ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَن تَزُ ولَا وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ بَعْدِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْماً غَفُوْراً O
یہ حضرت امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا مجرب عمل ہے امام موصوف کا قول ہے کہ اس کے پڑھنے کی برکت سے مجھے کبھی طبیب (ڈاکٹر) کی ضرورت ہی نہیں ہوئی ۔(فیوض قرآنی)
حرز ابو دُجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ:۔جو جن و شیطان وغیرہ کے شر اور شرارتوں سے بچانے والا بہترین وظیفہ اور اعلی درجے کا عمل ہے حضرت امام سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ  ۔خصائص کبری ۔ جلد ۲ص۹۸ میں امام بیہقی کی روایت لکھتے ہیں کہ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دربار اقدس میں گزارش کی کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم! میں رات کو بستر پر لیٹتا ہوں تو اپنے گھر میں چکی چلنے کی آواز ۔ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنا کرتا ہوں اور کبھی کبھی بجلی کی سی چمک بھی دیکھتا ہوں ایک رات میں نے کچھ خوف زدہ ہو کر سر اٹھا یا تو صحن میں ایک کالا سایہ نظر آیا جو اونچا اور لمبا ہوتا جا رہا ہے میں نے بڑھ کر اس کو چھوا تو اس کی کھال ساہی کی کھال کی طرح کاٹنے والی تھی پھر اس نے میرے منہ پر آگ کا ایک شعلہ پھینکا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں جل جاؤں گا یہ سن کر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ قلم دوات اور کاغذ لاؤ میں نے پیشکیا تو آپ نے حضرت علی کرم اﷲوجہہ سے فرمایا کہ لکھو۔
    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَ الزُّوَّارِ وَالسَّائِحِیْنَ اِلَّا طَارِقٌ یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰنُO اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُوْلِعاً اَوْفَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْرَاعِیاً حَقْاً مُبْطِلاً فَھٰذَا کِتَا بٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَ عَلَیْکُم بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَO اُتْرُکُوْاصَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَاَنْطَلِقُوْ اِلٰی عَبَدَۃِ الْاَ صَنْامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْ عَمُ اَنَّ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ کُلَّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ O تُقْلَبُوْنَ O حٰم ۔ O لَا تُنْصَرُوْنَ O حٰم ۔ O عٓسٓقٓO تَفَوَّقَ اَعْدَآءُ اللہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ؕ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ؕ
    یہ حرز آسیب زدہ کی گردن میں تعویذ بنا کر پہنا دیا جائے ان شاء اﷲ تعالیٰ آسیب جاتا رہے گا اگر گھر میں آسیب کا اثر ہے تو دیوار پر چسپاں کر دیا جائے ان شاء اﷲ تعالیٰ آسیب بھاگ جائے گا چنانچہ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حرز کو لے کر گھر آئے اور رات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے تو ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب کوئی چلاچلا کر کہہ رہا تھا کہ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ! لات و عزی کی قسم ہے کہ میں ان کلمات سے جل رہا ہوں میں اس تحریر والے کے حق کا وسیلہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اس حرز کو اٹھا لیا تو ہم تمہارے گھر اور تمہارے ہمسایہ کے گھر نہ آئیں گے حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فجر کو مسجد نبوي صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں آئے اور نماز پڑھ کر رات کاماجرا سنایا تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا۔
اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ! اس ذات کی قسم ہے مجھے جس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اب یہ آسیب قیامت تک عذاب میں رہے گا۔ (الخصائص الکبریٰ،ج۲،ص۱۶۶)
خفقان کا تعویذ:۔
دل دھڑکتا ہو یا دل گھبراتا ہو یا دل میں درد یا جلن ہو تو یہ تعویذ لکھ کر گلے میں ڈال دیا جائے اور ڈور اتنا بڑا ہو کہ تعویذ دل کے پاس لٹکا رہے تعویذ یہ ہے بسم اﷲ الرحمن الرحیم ۔ یااﷲ یا رحمن یا رحیم ۔ دل مارا کن مستقیم ۔ بحق ایاک نعبد و ایاک نستعین وبحق الا بذکر اللہ تطمئن القلوب وبحق طٰہٰ ویٰس ۔ وحق ن ۔ وص ۔ وبحق یا بدوح.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!