کفار کا حملہ

کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلابول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شورکے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے:
Advertisement
اِذْ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنۡکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ زُلْزِلُوۡا زِلْزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾ (1)
جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے ا و ر تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس(خوف سے)آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دئیے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دئیے گئے۔(احزاب)
    منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اوراس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔(2) جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
 وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾ (3)
اور ایک گروہ(منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔(احزاب)
لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ”سلع” اور ”احد” کی پہاڑیاں سر
اٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسْلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾ (1)
اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اوراسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔(احزاب)
1۔۔۔۔۔۔پ۲۱،الاحزاب:۱۰،۱۱
2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق…الخ،ج۳،ص۴۰ ملخصاً    
3۔۔۔۔۔۔پ۲۱،الاحزاب:۱۳
1۔۔۔۔۔۔پ۲۱، الاحزاب:۲۲
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!