Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شب قدر کونسی رات ہے۔۔۔۔؟؟

شب قدر کونسی رات ہے۔۔۔۔؟
غلام ربانی فداؔ
مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور9741277047
’’یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلم تتقون۔‘‘(پ۲؍ع۷،آیت ۱۸۳) اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری  ملے۔ (کنز الایمان)
روزہ کی تعریف:  بہ نیتِ تقرب الی اللہ کھانا ، پینااور جما ع ترک کرنا روزہ کہلاتا ہے۔ (عالمگیری، شامی)
روزہ حضرتِ آدم علیہ السلام کے زمانے سے چلا آرہا ہے ۔ تمام انبیاء اور ان کی امتوں نے اس عبادت  سے قربِ حق حاصل کیا۔ رسول اللہ  ﷺ کے صدقے میں اللہ تعالیٰ نے یہ عبادت ہم کو بھی عطا کی اور ہم پر اس کا احسا ن رکھتے ہوئے فرمایا ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ‘‘ اگلی امتوں کی مثل تمہارے نام پر بھی یہ عبادت لکھ دی گئی ہے۔ ’’من قبلکم‘‘ کے ذکر میں تین فائدے ہیں۔ اول :تاکیدِ حکم ہے کہ روزہ وہ عبادت ہے کہ جس سے کوئی زمانہ خالی نہ رہا۔ ہر زمانے کی یہ ضروری عبادت رہی۔ دوسری: اس میں ترغیب و تشویق ِامت ہے ۔تاکہ یہ امت اگلی امتوں سے اس عبادت کے اہتمام میں کسی طرح پیچھے نہ رہے۔ تیسرے اس سے روزہ کی مشکل عبادت کو سہل بناکر نفس کو خوشی پہنچانا ہے ۔ 
پس عہدِ آدم علیہ السلام سے روزہ تمام انبیا اور ان کی امت کی ریاضت اور عبادت میں رہا ۔ (تفسیرِ خازن۱۹۹)
’’من صام یوما فی سبیل اللہ جعل اللہ منہ ومن النار خندقا کما بین السماء والارض۔‘‘ (ترمذی) جس کسی نے ایک دن کا روزہ اللہ کی راہ میں رکھ لیا تو اللہ نے اس کے اور دوزخ کے درمیان آسمان اور زمین کی درمیانہ مسافت کی مثل ایک عظیم خندق حائل کردی۔ یعنی اتنی عظیم مسافت پر جہنم روزہ دار سے دورہوگئی۔ دوسری حدیث میں ہے ’’من صام یوما فی سبیل اللہ بعد اللہ وجھہ عن النار سبعین خریفا‘‘(متفق علیہ ) جس نے ایک دن فی سبیل اللہ روزہ رکھ لیا  اللہ تعالیٰ نے اس کے رخ کو دوزخ سے ستر سالہ دوری پر کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزہ انسان کو دوزخ سے دور کرتا ہے۔یعنی گناہوں سے دور کرتا ہے ۔ روزہ کا عمل ِ جنت سے قریب کرتا ہے اور شیطانی قوتوں کو باندھ دیتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئے جاتے ہیں۔حدیث میں ہے ’’کل عمل ابن اٰدم لہ الا الصیام فانہ لی وانا اجزی بہ‘‘ (بخاری) یعنی ہر عمل ابن آدم کا ہے مگر روزہ یہ میرا ہے۔ میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ 
رمضان اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: ’’ان الجنۃ تزخرف لرمضان من رأس الحول الی حول قابل‘‘ تمام سال جنت رمضان کے لئے آراستہ ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے ’’اذا جاء رمضان فتحت ابواب الجنۃ‘‘ رمضان میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں توا سی بہار کا عکس ہے جو بہار رمضان میں نظر آتی ہے ۔
رمضان کا روزہ جس نے اپنے ایمان کے تقاضے سے اُمید ثواب کی بنا پر رکھا ایسا روزہ اسبابِ مغفرت میں سے ہے ۔ حدیث میں ہے: ’’من مقام رمضان ایمانا و احتسانا غرلہ  ماتقدم من ذنبہ ‘‘پس جس نے خدا کے وعدہ پر ایمان رکھتے ہوئے قیام اللیل کیا تراویح او رتہجد پڑھے اس کے لئے مغفرت ہے۔ فوائدفضائل:  روزہ میں جسمانی اور روحانی اور بے شمار اخلاقی اور ایمانی فوائد ہیں۔ روزہ وہ عبادت ہے جس کوتمام انبیائے کرام اور حضور اکرم  ﷺ نے بیحد محبوب رکھا۔ اس سے روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ روزہ انسان میں غیر معمولی روحانی طاقت اور قوت پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ روزہ بدنی کثافتوں سے روح کو پاک کرکے اس کو لطیف کرتا ہے۔ پس روزہ تمام عمدہ اخلاق کی اصل ہے ۔ اطاعتِ خداوندی، ہمدردی، رقت قلبی ،ایثار و غمگساری، تکلیف اور دکھ میں دوسروں کے شریک ِ زندگی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور انسان کو انسانیت کے اعلیٰ اخلاقی فضائل رحمت کرتا ہے۔ روزہ کے ایمانی فوائد اور ثمرات میں صبر، شکر، رضا، تسلیم ، تقویٰ ، اخلاص ، زہد ، احسان اور توجہ الی اللہ ہے۔ 
شبِ قدر:  امام زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ قدر کے معنی مرتبہ کے ہیں۔ چونکہ یہ رات باقی راتوں میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے اس لیے اسے’’لیلۃ القدر ‘‘ کہا جاتا ہے۔ حضرتِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے اس وجہ سے یہ ’’لیلۃ القدر ‘‘کہلاتی ہے۔ اس رات کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی کریم  ﷺ کی اس امت پر شفقت اور آپ کی غم خواری ہے۔ مؤطا امام مالک میں ہے: ان رسول اللہ  ﷺ اریٰ اعمار الناس قبلہ او ماشآء اللہ من ذالک فکانہ تقاصر اعمارامتہ عن ان لآیبلغوا من العمل مثل الذی بلغ غیر ھم فی         طول العمر۔ ‘‘ ’’جب رسول اللہ  ﷺ کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ  ﷺ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر کیسے عمل کرسکیں گے۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے اس پر تعجب کا اظہار فرمایا اور اپنی امت کے لئے یہ دعا کی کہ اے میرے رب! میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے۔ تو ا س پر اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر عنایت فرمائی۔ 
شبِ قدر کو مخفی کیوں رکھا گیا…؟:  اتنی اہم اور بابرکت رات کے مخفی ہونے کی متعدد حکمتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
 (۱) دیگر اہم مخفی امور مثلا اسمِ اعظم ، جمعہ کے روز قبولیت دعا کی گھڑی کی طرح اس رات کو بھی مخفی رکھا گیا ہے۔ (۲) اسے اگر مخفی نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ مسدود ہوجاتی اور اسی رات کے عمل پر اکتفا کرلیا جاتا۔ ذوقِ عبادت میں دوام کی خاطر اس کو آشکار نہیں کیا گیا۔ (۳) اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی کی وہ رات رہ جاتی تو شاید اس کے صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا۔ (۴) اللہ تعالیٰ کو چونکہ اپنے بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے ، اس لیے رات کی تعین نہ فرمائی تاکہ اس کی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گزاریں۔ (۵)عدمِ تعین کی وجہ گنہگاروں پر شفقت بھی ہے کیونکہ اگر علم کے باوجود اس رات میں گناہ سرزد ہوجاتا تو اس سے لیلۃ القدر کی عظمت مجروح کرنے کا جرم بھی لکھاجاتا۔ 
شبِ قدر کونسی رات ہے…؟:  شبِ قدر کے تعین کے بار ے میں پچاس اقوال ہیں ان میں سے دو اقوال نہایت ہی قابلِ توجہ ہیں:
(۱) رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تحروالیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان‘‘ (البخاری) لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ ‘‘ علما کا شبِ قدر کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ وہ ۲۷؍ ویں شب ہے۔ ترجمانِ قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قاریٔ قرآن حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنھم کی بھی یہی رائے ہے۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ لیلۃ القدر کے الفاظ ۹؍ حروف پر مشتمل ہیں اور یہ الفاظ اس سورۃ میں تین مرتبہ آئے ہیں ۔ جن کا مجموعہ ستائیس بن جاتا ہے۔ فرماتے ہیں ’’انہ قال لیلۃ القدر تسعۃ حروف وھو مذکور ثلاث مرات فتکون السابعۃ والعشرون۔‘‘ لفظِ لیلۃ القدر کے ۹؍ حروف ہیں اور اس کا تذکرہ تین دفعہ ہوا ہے اور مجموعہ ۲۷؍ ہوگا۔ (تفسیرِ کبیر ۳۲۔۳۰) 
٭٭٭٭

error: Content is protected !!