Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

معرب کلمات کے اعراب کے نام

    ۱۔ایک پیش، دوپیش اور واؤ (اعرابی)کو”رفع”کہتے ہیں اور جس معرب کے آخر میں رفع ہو اسے” مرفوع”کہتے ہیں ۔
    ۲۔ایک زبر، دوزبراور الف (۱)کو”نصب”کہتے ہیں اور جس معرب کے آخر میں نصب ہو اسے ” منصوب”کہتے ہیں ۔ 
    ۳۔ ایک زیر،دوزیراور یاء کو”جر”کہتے ہیں اور جس معرب کے آخر میں جر ہو اسے ”مجرور”کہتے ہیں ۔ 
    ۴۔ حرکت نہ ہو نے کو”جزم”کہتے ہیں اور جس معرب پر جز م ہو اسے”مجزوم”کہتے ہیں۔    
                 مبنی کلمات کی حرکات کے نام
    ۱۔ پیش کو”ضم”اور جس مبنی پر ضم ہو اسے ”مبنی برضم”یا ”مبنی علی الضم”کہتے ہیں۔ جیسے :أَمَّا بَعْدُمیں دال کا پیش ضم اور بَعْدُ مبنی علی الضم ہے۔
     ۲۔زبر کو”فتح”اور جس مبنی پر فتح ہواسے ”مبنی بر فتح”یا ”مبنی علی الفتح”کہتے ہیں ۔ جیسے : اِنَّ میں نون کا زبر فتح اور اِنَّ مبنی علی الفتح ہے۔
    ۳۔ زیر کو”کسر”اور جس مبنی پر کسر ہو اسے”مبنی بر کسر”یا ”مبنی علی الکسر”کہتے ہیں ۔ جیسے :أَمْسِ میں سین کا زیر کسر اورأَمْسِ مبنی علی الکسرہے۔
    ۴۔ حرکت نہ ہونے کو ”سکون”اور جس مبنی پر سکون ہو اسے ”مبنی بر سکون ”یا مبنی علی السکون”کہتے ہیں۔جیسے:اِذَا مبنی بر سکون ہے۔
تنبیہ:
    ۱۔ ضمہ، فتحہ اور کسرہ کا اطلاق عموماً مبنی کلمات کی حرکات پر ہوتاہے لیکن قلیل طورپر ان کا اطلاق معرب کلمات کے اعراب پر بھی کیاجاتاہے۔یعنی رفع، نصب اور جر حرکات اور حروف اعرابیہ کے ساتھ خاص ہیں اور ضم، فتح اور کسر حرکات بنائیہ کے ساتھ خاص ہیں۔
    ۲۔معرب یا مبنی کلمہ کے ابتدائی یا درمیانی حرف کے زبر، زیر اور پیش کو”ضم” ”فتح” اور”کسر” کہاجاتاہے اور خود اس حرف کو”مضموم”، ”مفتوح”اور”مکسور” کہتے ہیں ۔
لفظاً ظاہر ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے اعراب کی اقسام
    اس اعتبار سے اعراب کی دو قسمیں ہیں : ۱۔ لفظی ۲۔ تقدیری.
۱۔اعراب لفظی کی تعریف:
    وہ اعراب جو لفظوں میں ظاہر ہو۔ جیسے: رَبِحَ زَیْدٌ فِیْ تِجَارَتِہ میں زَیْدٌ پر آنے والا اعراب لفظی ہے۔
۲۔اعراب تقدیری کی تعریف:
    وہ اعراب جو لفظوں میں ظاہر نہ ہو ۔جیسے:کَلَّمَ اللہُ مُوْسٰیمیں مُوْسٰی کا اعراب تقدیری ہے؛ کیونکہ اس کا اعراب لفظوں میں ظاہر نہیں ہور ہا۔
1۔۔۔۔۔۔یعنی وہ الف اعرابی جو مثنیٰ اور اس کے ملحقات کے علاوہ میں ہو؛ کیونکہ ان میں جو الف ہوتا ہے وہ ”رفع”کہلاتاہے۔
error: Content is protected !!