روزمرہ کے معمولات

احادیث ِکریمہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دن رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک خداعزوجل کی عبادت کے لئے ،دوسرا عام مخلوق کے لئے، تیسرا اپنی ذات کے لئے۔
عام طور پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ نماز فجرکے بعد آپ اپنے مصلیٰ پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ آفتاب خوب بلند ہو جاتا۔ عام لوگوں سے ملاقات کا یہی خاص وقت تھا لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے اور اپنی حاجات و ضروریات کو آپ کی بارگاہ میں پیش کرتے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی ضروریات کو پوری فرماتے اور لوگوں کو مسائل و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین فرماتے اپنے اور لوگوں کے خوابوں کی تعبیر بیان فرماتے۔ اس کے بعد مختلف قسم کی گفتگو فرماتے کبھی کبھی لوگ زمانہ جاہلیت کی باتوں اوررسموں کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام بھی مسکرادیتے کبھی کبھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کو اشعار بھی سناتے۔(1)
(مشکوٰۃ ج۲ ص۴۰۶ باب الضحک) (ابو داؤد ج۲ ص۳۱۸ باب فی الرجل یجلس متربعاً)
اکثر اسی وقت میں مال غنیمت اور وظائف کی تقسیم بھی فرماتے۔ جب سورج خوب بلند ہو جاتا تو کبھی چار رکعت کبھی آٹھ رکعت نماز چاشت ادا فرماتے پھر ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور گھریلو ضروریات کے بندوبست میں مصروف ہو جاتے اور گھر کے کام کاج میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی مدد فرماتے۔ (بخاری ج۱ ص۹۳ باب من کان فی حاجۃ اہلہ)
    نماز عصر کے بعد آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو شرفِ ملاقات سے سرفراز فرماتے اور سب کے حجروں میں تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر کچھ گفتگو فرماتے پھر جس کی باری ہوتی وہیں رات بسر فرماتے، تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن وہیں جمع ہو جاتیں،عشاء تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان سے بات چیت فرماتے رہتے پھر نماز عشاء کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے اور مسجد سے واپس آ کر آرام فرماتے اور عشاء کے بعد بات چیت کونا پسند فرماتے ۔(1)  (مسلم ج۱ ص۴۷۲ باب القسم بین الزوجات)
سونا جاگنا
    نماز عشاء پڑھ کر آرام کرنا عام طور پر یہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معمول تھا، سونے سے پہلے قرآن مجید کی کچھ سورتیں ضرور تلاوت فرماتے اور کچھ دعاؤں کا بھی ورد فرماتے۔ پھر اکثر یہ دعا پڑھ کر دا ہنی کروٹ پر لیٹ جاتے کہ اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی یااﷲ! تیرا نام لے کر وفات پاتا ہوں اور زندہ رہتا ہوں۔ نیند سے بیدار ہوتے تو اکثر یہ دعا پڑھتے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ (2) اس خداکیلئے حمد ہے جس نے موت کے بعد ہم کو زندہ کیا اوراسی کی طرف حشر ہو گا۔
    آدھی رات یا پہر رات رہے بستر سے اٹھ جاتے مسواک فرماتے پھر وضو کرتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ تلاوت فرماتے، مختلف دعاؤں کا وظیفہ فرماتے، خصوصیت کے ساتھ نماز تہجد ادا فرماتے، تہجد کی نماز میں کبھی لمبی لمبی کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے، ضعف پیری میں کبھی کچھ رکعتیں بیٹھ کر بھی ادا فرماتے، نمازِ تہجد کے بعد وتر پڑھتے اور پھر صبح صادق طلوع ہو جانے کے بعد سنت فجر ادا فرما کر نمازِ فجر کے لئے مسجد میں تشریف لے جاتے، کبھی کبھی کئی کئی بار رات میں سوتے اور جاگتے اور قرآن مجید کی آیات تلاوت فرماتے اورکبھی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے گفتگو بھی فرماتے۔(صحاح ستہ وغیرہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *