خلفاء مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ # قسط ۲ شیخ صفی الدین ردولوی قدس سرہ :

خلفاء مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ # قسط ۲
شیخ صفی الدین ردولوی قدس سرہ :
حضرت شیخ صفی الدین ردولوی نے حضرت مخدوم سمنانی کے مناقب میں ایک قصیدہ لکھا تھا ۔حضرت مولانا ابو المظفر لکھنوی نے اس پر اصلاح دینے کی بات کہی تو حضرت مخدوم سمنانی نے فرمایا : درویشوں کے اشعار جوش جذبات سے صادر ہوتے ہیں ، ان کی اصلاح کی حاجت نہیں ۔۔قیام ردولی کے دوران ایک دن حضرت شیخ صفی حضرت مخدوم سمنانی کو اپنے مکان کے اندر لے گئے ۔اس وقت آپ کے صاحبزادے شیخ محمد اسماعیل چالیس روز کے بچے تھے ۔آپ نے بچے کو حضرت مخدوم سمنانی کے قدم مبارک میں ڈال دیا ۔حضرت مخدوم نے فرمایا : یہ بھی میرا مرید ہے ۔جب شیخ محمد اسماعیل پانچ چھ برس کے تھے  تو اس زمانے میں قطب الابدال شیخ العالم شیخ عبد الحق ردولوی چشتی صابری قدس سرہ سیر وسیاحت کرتے ہوئےقصبہ ردولی میں آکرمقیم ہو چکے تھے ۔حضرت شیخ العالم شیخ اسماعیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بارہا یہ فرماتے تھے تیری پشت میں میرا ایک بیٹا ہے ۔شیخ اسماعیل کو جب اپنے والد شیخ صفی الدین سے سلسلہ چشتیہ نظامیہ اشرفیہ کی اجازت وخلافت ملی تو انھوں نے اپنے بڑے صاحب زادے کو سلسلہ اشرفیہ میں بیعت کرکے اجازت وخلافت عطا کی ۔شیخ اسماعیل کے چھوٹے صاحبزادے شیخ عبد القدوس ردولوی ثم گنگوہی نے بھی اپنے والد بزرگوارسے مرید ہونے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے مرید کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا :تم شیخ العالم احمد عبدالحق قدس سرہ کے سلسلہ سے فیض یاب ہوگے ۔اس وقت حضرت شیخ العالم قدس سرہ اور ان کے فرزند و جانشین  شیخ عارف کا وصال ہوچکا تھا ۔شیخ عبد القدوس گنگوہی شیخ العالم کے پوتے شیخ محمد بن عارف کے ہاتھ پر بیعت ہوئے لیکن دل میں یہ خیال آیا کہ میرے والد شیخ اسماعیل کی پشت پہ ہاتھ رکھ کر شیخ العالم نے یہ فرمایا تھا کہ اس کے اندر میرا ایک فرزند ہے اگروہ فرزند میں ہوں تو پھر درمیان میں واسطہ کیسا ؟کہ مجھے آپ کے ہاتھ پہ مرید ہونے کی سعادت نہ مل سکی اورآپ کے بیٹے کے بیٹے شیخ محمد بن عارف سے مرید ہونا پڑا ؟۔ایک دن حضرت شیخ عبدالقدوس حضرت شیخ العالم کے مزار مبارک میں حاضر تھے کہ اچانک قبر شق ہوئ اور حضور شیخ الاسلام بنفس نفیس قبر سے باہر تشریف لائے اور حضرت شیخ عبدالقدوس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر مرید فرمایا ۔حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کو حضور شیخ العالم عبدالحق ردولوی قدس سرہ کے روحانی فیوض وبرکات سے وافر حصہ نصیب ہوا اور آپ کے ذریعہ  سلسلہ چشتیہ صابریہ کا فیض خوب  عام ہوا۔
حضور غوث العالم کی دعا کی برکت سے حضرت شیخ صفی الدین قدس سرہ کی اولاد میں بڑے بڑے  صاحبان علم ومعرفت ہوئے ۔ردولی سے تقریبا دو کوس کے فاصلے پہ وقت کے ایک عظیم صاحب ولایت شیخ کامل ملا کریم قدس سرہ سکونت پذیر تھے ۔ان کی ولایت وبزرگی کا یہ عالم تھا کہ حضور غوث العالم مخدوم سمنانی نے اپنے قیام ردولی کے دوران ،ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا ۔جب شیخ کریم کو یہ خبر ملی تو انھوں نے حضور غوث العالم کی تعظیم وتکریم کا لحاظ کرتے ہوئے پوربی زبان میں فرمایا :سید پاک ہمرے گھر آویں، چھیری کے منہ کونہڑا سمائے ۔۔یعنی میری کہاں یہ اوقات ہے کہ سید مجھ سے ملاقات کے لیے آئے ۔بکری میں یہ صلاحیت کہاں ہے کہ کونہڑے کو منہ اندر کرے ۔۔فرمایاکہ میں خود ان کی ملاقات کو کل حاضر ہوں گا۔ مخدوم سمنانی کی خدمت میں حاضر ہوکر بولے : شاہباز مثل سید اشرف جہانگیر کے ہونا چاہیے ۔کونین ان کے دونوں بازووں کے قبضے میں ہیں ۔حضرت مخدوم سمنانی فرماتے تھے کہ مولانا کریم ہندوستان کے بڑے عالم اور اعلی درجہ کے بزرگ ہیں ۔حضرت شیخ صفی قدس سرہ کی کثرت اولاد وذریت شیخ مولانا کریم قدس سرہ کی دعا کا نتیجہ ہے ۔ اس ضمن میں حضور اشرفی میاں قدس سرہ نے یہ دلچسپ واقعہ نقل فرمایا ہے ۔
“جناب شاہ محمد یحیی سابق تحصیل دار مرحوم جو اولاد مخدوم شیخ صفی الدین ردولوی سے تھے فقیر اشرفی جامع رسالہ ہذا سے نقل فرماتے تھے کہ حضرت ملا کریم اس پایہ کے بزرگ  تھے کہ بڑے بڑے بزرگان صاحب طریقت آپ کی زیارت کو جایا کرتے تھے ۔چناں چہ ایک دن حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی ، شیخ صفی الدین ردولوی اور شیخ سماء الدین ٹکر ردولوی ملا کریم کی ملاقات کو گیے ۔آپ نے اندر سے بزبان ہندی آواز دی :کوہا ۔یعنی کون ہے ۔حضرت شیخ العالم شیخ عبد الحق ردولوی  قدس سرہ نے بکمال عاجزی فرمایا:احمد موچی ہے ۔فرمایا کہ”تیری دوکان بڑی ترقی کے ساتھ جاری ہوگی” اس کے بعد پوچھا : اور کوہا ؟حضرت مخدوم شیخ صفی الدین نے کمال عاجزی سے جواب دیا “صفی جولاہا”ملا کریم نے فرمایا :تیرا تانا دور تک پھیلے گا ” اس کے بعد پھر پوچھا :اور کوہا ؟ شیخ سماءالدین نے جواب دیا کہ ” شیخ سماءالدین ٹکر ردولوی ” اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا:ات بڑ نام کے لئے ۔یعنی اتنا بڑا نام کون لے گا ؟چناں چہ حضرت شیخ العالم کے فقر کی دوکان اتنی ترقی پذیر ہوئ کہ آپ کے توسط سے سلسلہ چشتیہ صابریہ مشرق سے مغرب تک پہنچا اور حضرت شیخ صفی الدین کی اولاد  میں اتنی برکت ہوئ کہ ردولی ، دریا باد اور گنگوہ شریف ودیگر مقامات میں پھیل گئ  اور شیخ سماء الدین قدس سرہ اپنے فضل وکمال کے باوجود زیادہ مشہور نہ ہوئے ۔۔( ملخصا : صحائف اشرفی ج۲ ص ۹۵ تا ۱۰۰ از اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ )
رضاء الحق اشرفی مصباحی ۔جامع اشرف کچھوچھا شریف ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *