بعض نبیوں کی دستکاری

  حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے کھیتی کی حضرت ادریس علیہ السلام نے لکھنے اور درزی کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے لکڑی تراش کر کشتی بنائی ہے جو کہ بڑھئی کا پیشہ ہے حضرت ذوالقرنین جو بہت بڑے بادشاہ تھے اور بعض مفسّرین نے ان کو نبی بھی کہا ہے وہ زنبیل یعنی ڈلیا اور ٹوکری بنایا کرتے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی کرتے تھے۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جو معماری کا کام ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے تیر بنایا کرتے تھے حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد بکریاں چَراتے تھے اور بکریاں پال پال کر ان کو بیچا کرتے تھے حضرت ایوب علیہ السلام بھی اونٹ اور بکریاں چراتے تھے حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنایا کرتے تھے جو لوہار کا کام ہے حضرت سلیمان علیہ السلام زنبیل بنایا کرتے تھے حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دوکاندار کے ہاں کپڑا رنگتے تھے اور خود ہمارے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور تمام نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں۔
Advertisement
    اگر چہ ان مقدس پیغمبروں کا گزر بسران چیزوں پر نہیں تھا مگر یہ تو قرآن مجید اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ ان پیغمبروں نے ان کاموں کو کیا ہے اور ان دھندوں کو عار اور عیب نہیں سمجھا ہے اسی طرح بڑے بڑے اولیاء اور فقہاء ومحدثین میں سے بعض نے کپڑا بنا ہے کسی نے چمڑے کا کام کیا ہے کسی نے جوتا بنانے کا پیشہ کیا ہے کسی نے مٹھائی بنانے کا دھندا کیا ہے کسی نے درزی کا کام کیا ہے۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!