نِصف النہار شَرعی کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ

نِصف النہار شَرعی کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ

شاید آپ کے ذِہْن میں یہ سُوال اُبھر رہا ہوگا کہ نِصفُ النَّہار شَرعی کا وَقت کونساہے ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ جس دِن کا نِصف النَّہار شَرعی معلوم کرنا ہو اُس دِن کے صُبحِ صادِق سے لے کر غُروبِ آفتاب تک کا وَقْت شُمار کرلیجئے اور اُس سارے وَقت کے دوحِصّے کرلیجئے پہلا آدھا حِصّہ ختم ہوتے ہی”نِصف النَّہار شَرعی ” کا وَقت شُروع ہو گیا ۔ مَثَلاً آج صُبحِ صادِق ٹھیک پانچ بجے ہے اور غُروبِ آفتاب ٹھیک چھ بجے ۔تَو دونوں کے درمیان کا وَقت کُل تیرہ گھنٹے ہوا۔اِن کے دوحِصّے کریں تو دونوں میں کا ہر ایک
حِصّہ ساڑھے چھ گھنٹے کاہوا۔اب صُبحِ صادِق کے پانچ بجے کے بعد والے ابتِدائی ساڑھے چھ گھنٹے ساتھ مِلا لیجئے ۔تو اِس طرح دِن کے ساڑھے گیارہ بجے ”نِصفُ النَّہار شَرعی”کا وَقت شُروع ہوگیا۔ تواب ان تین طرح کے روزوں کی نیّت نہیں ہو سکتی۔              (رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۴۱ ملخصاً)
    بیان کردہ تین قِسْم کے روزوں کے عِلاوہ دیگر جِتنی بھی اَقسَامِ روزہ ہیں اُن سب کیلئے یہ لازِمی ہے کہ راتوں رات یعنی غُروبِ آفتاب کے بعد سے لیکر صُبحِ صادِق تک نِیَّت کرلیں۔اگر صُبحِ صادِق ہوگئی تَو اب نِیَّت نہیں ہوسکے گی۔مَثَلاً قَضائے روزئہ رَمَضان ،کَفَّارے کے روزے ،قَضائے روزئہ نَفْل (روزئہ نَفْل شُروع کرنے سے واجِب ہوجاتا ہے۔اب بے عُذْرِ شَرعی توڑنا گُناہ ہے ۔اگر کسی طرح سے بھی ٹوٹ گیا خواہ عُذْر سے ہویا بلا عُذر،اِس کی قَضا بَہَر حال واجِب ہے) ”روزہ نَذْرِ غیر مُعَیَّن ”(یعنی اللہ عَزَّوَجَلّ َکیلئے روزہ کی مَنَّت تَو مانی ہو مگر دِن مَخصُوص نہ کیا ہو اِس مَنَّت کا بھی پورا کرنا واجِب ہے اور اللہ عَزَّوَجَلّ َکیلئے مانی ہوئی ہرشَرْ عی مَنَّت کا پورا کرنا واجِب ہے ۔جب کہ زَبان سے اِس طرح کے اَلْفاظ اتنی آواز سے کہے ہوں کہ خود سن سکے،مثلاً اِس طرح کہا ،”مجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ایک روزہ ہے”اب چُونکہ اِس میں دِن مخصُوص نہیں کیا کہ کونسا روزہ رکھوں گا۔ لہٰذا زِندگی میں جب بھی مَنَّت کی نِیّت سے روزہ رکھ لیں گے مَنَّت ادا ہوجائے گی۔
مَنَّت کیلئے زَبان سے کہنا شَرط ہے اور یہ بھی شَرط ہے کہ کم از کم اتنی آوازسے کہیں کہ خود سُن لیں ۔ مَنَّت کے اَلْفاظ اِتنی آواز سے ادا تَو کئے کہ خودسُن لیتا مگر بَہراپن یا کسی قِسْم کے شَور وغُل وغیرہ کی وجہ سے سُن نہ پایا جب بھی مَنَّت ہوگئی اِس کا پُورا کرنا واجِب ہے)وغیرہ وغیرہ ان سب روزوں کی نِیَّت رات میں ہی کرلینی ضَروری ہے۔
                (مُلَخَّص از رَدُّ الْمحتار ج۳ ص ۳۴۴)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *