ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا
    ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام برہ تھا۔ سرکار دوعالم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نام تبدیل فرما کر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام الحکم تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی والدہ امیمہ بنتِ عبدالمطلب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو طلاق دے دی۔ اس
Advertisement
کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ہوا۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)
نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :جاؤ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے لئے پیام دو۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچا اور کہا کہ تمہیں خوشی ہو کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دوں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی جب تک کہ میں اپنے رب عزوجل سے مشورہ نہ کرلوں ۔ پھر وہ اٹھیں اور مصلّے پر پہنچیں اور سر بسجود ہو کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا: اے خدا! تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے چاہا ہے اگر میں ان کی زوجیت کے لائق ہوں تو مجھے ان کی زوجیت میں دے دے۔ اسی وقت ان کی دعا قبول ہوئی اور یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔
فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان :پھرجب زید کی غرض اس سے نکل گئی توہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا۔(پ22،الاحزاب:37)
   آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر آثار وحی ظاہرہوئے چند لمحے بعد مسکراتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :کون ہے جو زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جائے اور انہیں بشارت دے کہ حق تعالیٰ نے ان کو میری زوجیت میں دے دیا ہے اور نازل شدہ آیت تلاوت فرمائی۔
    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خادمہ حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوڑیں اور سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بشارت دی اور انہوں نے یہ خوشخبری سنانے پر اپنے زیورات اتار کر حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا کردیئے اور سجدہ شکر بجا لائیں اور دو ماہ روزہ سے رہنے کی نذر مانی۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۷)
انفاق فی سبیل اللہ
    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ نیک اعمال کرنے والی،صدقہ و خیرات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی،اور اپنے نفس کوہرعبادت وتقرب کے کام میں مشغول رکھنے والی نہیں دیکھی۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،،ج۲،ص۴۷۸)
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحت کے ساتھ مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا: ” تم میں سے جس کے ہاتھ دراز ہیں وہ مجھ سے ملنے میں تم سب پرسبقت کرنے والی ہے۔” اس کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے اپنے ہاتھوں کو بانس کا ٹکڑالے کر ناپنا شروع کردیا
تاکہ جانیں کہ کس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں۔
    انہوں نے جانا کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں، جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دار فانی سے رخصت ہوئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ درازی سے مراد صدقہ و خیرات کی کثرت تھی، اس لئے کہ سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھ سے دستکاری کرتیں اور صدقہ دیتی تھیں۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)
    سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا:مجھے چند فضیلتیں ایسی حاصل ہیں جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی کسی اور زوجہ کوحاصل نہیں ایک یہ ہے کہ میرے جد اورآپ کے جد ایک ہیں ،دوسرے یہ کہ میرا نکاح آسمان میں ہوا تیسرے یہ کہ اس قصہ میں جبرائیل علیہ السلام سفیر و گواہ تھے۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)
    ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں دو متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم میں ہیں اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)
وصال
ان کے وصال کی خبر جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچی توفرمایا: ”پسندیدہ خصلت والی،فائدہ پہنچانے والی،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی دنیا سے چلی گئی۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نمازجنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال تریپن سال کی عمر میں  ۲۰ھ؁ یا   ۲۱ھ؁ مدینہ شریف میں ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!