Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ایک گُنہگار کی بَخْشِش کا سبب

ایک گُنہگار کی بَخْشِش کا سبب

حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کَلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی قوم میں  ایک شخص اِنْتہائی گُنہگار تھا اس نے اپنی ساری زِندگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانیوں  میں  بَسر کی، جب وہ مرگیا تو بنی اسرئیل نے اسے یُونہی بے گور و کَفَن گَندگی کے ڈھیر پر ڈال دیا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ ہمارا ایک دوست فوت ہوگیا ہے اور لوگوں  نے اسے گَندگی پر پھینک دیا۔ تم اُسکو اُٹھاؤ اور عِزَّت واِحْتِرام کے ساتھ اس کی تَجْہِیْزو تَکْفِیْن کرو اور اس کا جَنازہ پڑھادو۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص تھا، آپ کو حیر ت تو بہت ہوئی لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ عَلَیْہِ السَّلام نے نہایت اِعزاز و اِکرام کیساتھ اس شخص کی تَجْہِیْزو تَکْفِیْن کی اور نمازِ جنازہ پڑھا کر دَفنا دیا۔ بعد میں  آپ عَلَیْہِ السَّلام نے دَربارِالہٰی عَزَّوَجَلَّ میں  عرض کی: ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ شخص تو بڑا مُجرم و خَطا کار تھا ، ایسے اِعزاز کا حَقْدار کیسے ہوگیا ؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: اے موسیٰ ! تھا تو یہ واقعی بہت گُنہگار اور سخت سزا کا حَقْدار مگر اسکی یہ عادت تھی کہ جب کبھی توریت کھولتا:وَنَظَرَاِلٰی اِسْمِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَبَّلَہٗ وَوَضَعَہٗ عَلٰی عَیْنَیْہِ وَ صَلّٰی عَلَیْہ، اور محمدِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے

 نامِ پاک کو دیکھتا  تو فرطِ مَحَبَّت سے اس نامِ پاک کو چومتا، اسے آنکھوں  سے لگاتا اور آپ کی ذاتِ طیبہ پر دُرُودِ پاک کے پھول نچھاور کرتا تھا، ’’فَشَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ وَغَفَرْتُ ذُنُوْبَہٗ وَزَوَّجْتُہٗ سَبْعِیْنَ حَوْرَاءَ،پس میں  نے (اسی عمل کی وجہ سے) اسے قدر و منزلت عطا کی اس کے گُناہوں  کومُعاف کردیا اور ستَّر حُوریں  اس کے نِکاح میں  دیں  ۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء، وہب بن منبہ،۴/۴۵،حدیث:۴۶۹۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد     
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ جو شخص اِنتہائی گُنہگار اور لوگوں  کی نظر میں  حَقیر تھا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ نامی اسمِ گرامی کی تَعْظِیم و تَوقِیر کرنے، اس کو چوم کر آنکھوں  سے لگانے اور آپ کی ذاتِ اَقدس پر دُرُودِپاک پڑھنے کی بَرَکت سے اس کے تمام گُناہ مُعاف فرمادئیے اور اس کایہ عمل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس قَدر پسند آیا کہ اسے مقبولِ بارگاہ بنا لیا۔ ہمیں  بھی چاہیے کہ جب بھی حُضُورِ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا مُبارک نام پڑھیں  یا سنیں  تو تَعْظِیم کی نِیَّت سے انگوٹھے چوم کر آنکھوں  سے لگا ئیں  اور آپ کی ذاتِ پاک پر دُرُودِپاک پڑھیں  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کی بَرَکت سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَعیَّت میں  داخلِ جَنَّت ہونگے ۔ چُنانچہ 

اَذان کے وَقت اَنگوٹھے چُومنے کاثواب

فتاوٰی شامی میں  ہے کہ جب مؤذن اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِکہے تو مستحب ہے کہ سننے والا کہے ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‘‘اور جب دوسری مرتبہ یہ کلمات سنے تو یوں  کہے ’’قَرَّتْ عَیْنِی بِک یَا رَسُولَ اللَّہِ اللّٰہُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ ‘‘اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں  پر لگائے ایسا کرنے والے کو نبیِ کریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ساتھ جنَّت میں  لے جائیں  گے۔ 
علامہ شامی قُدِّسَ سرُّہُ السَّامی کتابُ الْفِردوس کے حَوالے سے مزید فرماتے ہیں  :’’ مَنْ قَبَّلَ ظُفْرَیْ اِبْہَامِہِ عِنْدَ سَمَاعِ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ فِی الْاَذَانِ‘‘یعنی جوشخص اَذان میں  ’’اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہ ‘‘سن کر اپنے انگوٹھوں  کے ناخنوں  کوچوم لیا کرے گا‘’’اَنَا قَائِدُہُ وَمُدْخِلُہُ فِی صُفُوفِ الْجَنَّۃِ‘‘میں  ایسے شخص کی قِیادت کروں  گااور اُسے جَنَّت کی صفوں  میں  داخل کروں  گا ۔ ‘‘(درمختاروردالمحتار،کتاب الصلاۃ ،مطلب فی کراہۃتکرار الجماعۃفی المسجد،۲ /۸۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سرکار کے اَسمائے مُبارَکہ 

یاد رکھئے ! یوں  تو حُضُور نبیِّ اکرم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ 
وَسَلَّمکے مُتَعدَّد اسمائے گرامی ہیں  ۔ بعض محدثین کرام رَحِمہُم اللّٰہ السَّلام فرماتے ہیں  :’’جس طرح اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے نناوے (صفاتی )نام ہیں  اسی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نیحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھی نناوے (صفاتی)ناموں  سے نوازا ہے ۔ اِبنِ عربی (مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی) نے عارِضَۃُ الاَحْوَذِی میں  نقل کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہزار  نام ہیں  اور نبیِّ کریم رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بھی ہزار  نام ہیں  ابنِ فارس سے منقول ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَسمائے شریفہ دوہزار سے زائد ہیں  ۔ان میں  سے ہر ایک نام آپ کی سیرت وکردار کے کسی نہ کسی پہلوکو اُجاگر کرتاہے۔ یہ بھی ذِہن نشین رہے کہ جس طرح اللّٰہربُ العزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ کے بے شُمار نام ہیں  مگر ذاتی نام صرف ایک ہے یعنی ’’اللّٰہ‘‘ اسی طرح حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسماء کی تعداد بھی ہزاروں  میں  ہے اور حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کے بھی کثیر نام ہونے کے باوجودآپ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ ’’محمد‘‘ ہے۔ یہ وہ نام ہے جسیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے روزِاَوَّل ہی سے آپ کے لئے چُن لیا تھا۔ (مطالع المسرات مترجم، ص ۱۹۳،ملتقطاًمفہوماً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسمِ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس قَدر پیارا ہے کہ اس کے سنتے ہی فرطِ تَعْظِیْم سے اہلِ مَحَبَّت جُھوم اُٹھتے ہیں  اور

 عاشقانِ رسول کی زبان پر بے ساختہ دُرُود و سلام جاری ہوجاتا ہے اور یہ سب  تَعْظِیْم وتَوقیر کیوں  نہ ہوکہ محمد تو کہتے ہی اُسے ہیں  جو قابلِ صَد سَتائش و تعریف ہو کیونکہ لفظِ محمد ’’حمد ‘‘سے مُشْتَق (یعنی بنا )ہے اور حمد کے معنی مَدْح و ثَنا بیان کرنے کے ہیں  تواس طرح لفظِ محمد کا معنی ہوا وہ ذات جس کی تعریف و توصیف بیان کی جائے ۔ امام راغب اَصْفَہانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانیاسمِ محمد کے بارے میں  فرماتے ہیں  : ’’وَمُحَمّدٌ اِذَا کَثُرَتْ خِصَالُہٗ الْمَحْمُوْدَۃُ، محمد اس ذات کو کہا جاتا ہے جس میں  قابلِ تعریف خَصْلَتیں  بہت کثرت سے پائی جائیں ۔ ‘‘ (المفردات ،ص ۲۵۶)

آنکھوں   کا  تار ا  نام مُحمَّد
دل  کا  اُجالا نام  مُحمَّد
ہیں  یوں  توکثرت سے نام لیکن
سب سے ہے پیارا ناممُحمَّد
  (قبالۂ بخشش،ص۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات کی طرح آپ کا نام بھی ہر عیب و نَقْص اور خامی سے پاک ہے اور یہ نام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی بے حَد محبوب ہے ۔ چُنانچہ
صَدرُ الشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامُفْتی محمد امجد علی

 اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :’’ حَبِیبِ مُکَرَّم،نَبِیِّ امُعَظَّم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسمِ پاک محمد و احمد ہیں  اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں  نام خود اللّٰہتعالیٰ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے مُنْتَخَب فرمائے ، اگر یہ دونوں  نام خُدا تعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لیے پسند نہ فرمایا ہوتا۔‘‘ (بہارشریعت، ۳/ ۶۰۱)

اگر ہم بھی اس مُعزَّز و مُکرَّم نام سے بَرَکت حاصل کرنے کے لئے اپنے بیٹوں  کا نام محمد رکھیں  تویہ مُبارک نام ہماری بَخشش و مَغْفِرت کا ذَرِیعہ بن سکتاہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بَرَکت سے ہمیں   جَنَّت میں  داخل فرمادیگا۔ چُنانچہ 

نامِ مُحمَّد کی بَرَکت

سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان خُوشبودار ہے : ’’مَنْ وَلَدَ لَہٗ مَوْلُوْدٌ فَسَمَّاہٗ مُحَمَّداً حُبّاً لِیْ وَتَبَرُّکاً بِاِسْمِیْ یعنی جس کے یہاں  بچے کی وِلادت ہو اور وہ  مجھ سے مَحَبَّت اور میرے نام سے بَرَکت حاصل کرنے کے لئے اپنے لڑکے کانام محمد رکھ دے ، کَانَ ہُوَ وَمَوْلُوْدُہٗ فِی الْجَنَّۃِ تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں  جَنَّت کے حق دار قرار پائیں  گے۔‘‘(السیرۃ الحلبیہ،باب تسمیتہ محمداًواحمداً،۱/ ۱۲۱)
ایک اور حدیثِ قُدسی میں  ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان باقرینہ ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : ’’وَعِزَّتِیْ 

وَجَلَالِیْ لَا اُعَذِّبُ اَحَدًا تُسَمّٰی بِاِسْمِکَ فِی النَّارِ،یعنی اے محبوب! مجھے اپنی عزَّت وجَلال کی قسم!میں  کسی ایسے بندے کو دَوزخ کا عذاب  نہیں   دوں  گا جس نے اپنا نام تیرے نام پررکھاہوگا۔‘‘ (ایضاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُحَمَّد نام رکھو تو اس کی
تَعْظِیم بھی کرو

امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے : ’’اِذَا سَمَّیْتُمُ الْوَلَدَ مُحَمَّداً فَاَکْرِمُوْہ، یعنی جب تم کسی بچے کانام محمد رکھو تو پھر اس کی عزَّت کرو ،وَاَوْسِعُوْالَہٗ فِی الْمَجْلِسِ وَلَا تُقَبِّحُوْا لَہٗ وَجْہاً،اورمَجلس میں  اس کیلئے جگہ کُشادہ کرو اور اس کے چہرے کی برائی بیان مت کرو۔‘‘  (احکام شریعت، ص ـ۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یادرکھئے ! جن کے نام محمد و احمد یا کسی مُقدَّس ہَسْتی کے نام پر رکھے جائیں  تو ان کا اَدب بھی ہم پر لازِم ہے ۔ لیکن فی زمانہ ہمارے مُعاشَرے میں  نام تو اچھے اچھے رکھے جاتے ہیں  لیکن بَدقِسمتی سے ان مبارک اَسماء کا اِحْتِرام بالکل  نہیں   کیا

 جاتا اور ا نہیں   بگاڑ کر عجیب و غریب ناموں  سے پکارا جاتا ہے حالانکہ ہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کی یہ عادت کریمہ تھی کہ مُقدَّس ناموں  کا حتّی الامکان اَدب واِحْتِرام بجا لایا کرتے۔ چُنانچہ

بے وضو نام مُحَمَّد نہ
لینے والے بُزُرگ

مشہور بادشاہ،سُلطان محمود غَزنوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقوی ایک زَبر دَست عالمِ دین اور صوم و صلوٰۃ کے پابندتھے اور باقاعدگی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرتے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی ساری زِندگی عَین دینِ اسلام کے مُطابق گزاری اور پرچمِ اسلام کی سربُلَندی اور اِعلائے کلمۃُ اللّٰہ کے لئے بہت سی جنگیں  لڑیں  اورفتحیاب ہوئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ شُجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عَظِیْم مَنْصَب پر بھی فائز تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمانبردار غلام ایازکا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا۔ حضرت محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقوی جب بھی اس لڑکے کو بُلاتے تو اس کے نام سے پُکارتے ، ایک دن آپ نے خِلافِ معمول اُسے اے اِبنِ ایاز ! کہہ کر مُخاطب کیا۔ ایاز کو گمان ہوا کہ شاید بادشاہ آج ناراض ہیں  اس لئے میرے بیٹے کو نام سے  نہیں   پکارا ، وہ آپ کے دَربار میں  حاضِر ہوا اور عرض کی: حُضُور! میرے

 بیٹے سے آج کوئی خَطا سَرزد ہوگئی جو آپ نے اس کا نام چھوڑ کر اِبنِ ایاز کہہ کر پکارا؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :’’میں  اسمِ محمد کی تَعْظِیْم کی خاطِر تمہارے بیٹے کا نام بے وضو نہیں   لیتا چُونکہ اس وَقت میں  بے وضو تھا اس لیے لفظِ محمد کو بِلا وضو لبوں  پر لانا مناسب نہ سمجھا ۔ ‘‘

لو جُھوم کے نام محمدکا، اس نام سے راحت ہوتی ہے
اس نام کے صَدقے بٹتے ہیں  ، اس نام سے بَرَکت ہوتی ہے
اپنے تونیازی اپنے ہیں  ، غیروں  نے بھی ہم سے پیار کیا
سب نامِ نبی کا صَدَقہ ہے، اپنی جو یہ عزَّت ہوتی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجلَّ! ہمیں  حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعْظِیم کرنے اور آپ کی ذاتِ پاک پر کثرت کیساتھ دُرُود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ 
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!