Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

علامہ قاضی شمس الدین احمد جونپوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

علامہ قاضی شمس الدین احمد جونپوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت ، شمس العلماء، حضرت علامہ قاضی ابو المعالی شمس الدین احمد جعفری رضوی جونپوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت با سعادت۲۸ذی الحجۃ۱۳۲۲ھ مطابق ۵ مارچ ۱۹۰۵ء محلہ میر مست جونپور (یوپی، ہند) میں ہوئی۔آپ نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت جدامجد اور ناناجان نے کی۔ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت کے حامل تھے مزید ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں سے بھر پور تربیت نے آپ کو گونا گوں صفات کا مظہر اور اَخلاقِ حمیدہ کا خوگر بنا دیا اورحصولِ علم کا ذوق و شوق اجاگر کر دیا، چنانچہ طلب علم کی پیاس بجھانے کے لیے آپ نے متعدد بزرگوں کی بارگاہ میں حاضری کا شرف پایا جن میں صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی اور صدرالشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی رَحِمَہُمَا اللّٰہُ الْقَوِی جیسی جلیل القدر ہستیاں سر فہرست ہیں ۔ مزید امام اہلسنت، مجدد دین وملت، پروانہ شمع رسالت اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان اور آپ کے شہزادوں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اور حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْحَنَّان کے فیوضات سے بھی مستفیض ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کے بعدجامعہ نعیمیہ مرادآباد تشریف لائے اور درس نظامی کی متعدد کتب کا درس لیا۔ پھر صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شہرہ سن کر تشنگی علم کی تسکین کے لیے اجمیر شریف پہنچے اور دارالعلوم مُعِیْنِیہ عُثمانِیہمیں داخلہ لیا جہاں صدرالشریعہ اور دیگر اَساتذہ سے علوم وفنون حاصل کرنے میں مصروف رہے۔ ۱۳۵۲ھ میں جب صدرالشریعہ دارالعلوم

منظر اسلام بریلی شریف آگئے تو آپ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اسی سال آپ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فارِغُ التحصیل ہوئے۔
دس سال کی عمرمیں آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے بیعت کا شرف حاصل کیا اوربعدمیں خلافت سے بھی نوازے گئے ۔ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان اورمفتی اعظم ہندمولانامحمدمصطفیٰ رضاخان رَحِمَہُمَا اللّٰہُ الْحَنَّان نے بھی خلافت عطا فرمائی۔
تدریس کا آغاز آپ نے دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے کیا۔جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں بھی تدریس فرمائی۔مدرسہ منظرحق ٹانڈہ ،مدرسہ حنفیہ جونپور اورجامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں آپ صدرُالْمُدَرِّسین رہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ معقولات ومنقولات میں ماہراورفقہ پر اچھی نظررکھتے تھے۔ ہر فن میں سیر حاصل گفتگو فرماتے اور معلومات کا دریا بہاتے، کلام کے تجزیہ پر عبور رکھتے تھے اور جب تک اس کے دلائل اور مقدمات کو پرکھ نہ لیتے قبول نہ فرماتے۔نقد و تنقید کا ملکہ بھی حاصل تھابرملا تنقید فرماتے اور غلطیوں کی نشاندھی کرتے لیکن انداز تعمیری ہوتا جس میں کہیں کہیں مزاح بھی پایا جاتا۔ اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ جانتے اور وہ ذات تھی فاضل بریلوی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی، آپ ان کے بارے میں فرمایا کرتے:
’’ میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کرکے جانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنقیح کی بالکل صحیح اور مناسب کی، اس میں چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ‘‘

اسی طرح صدر الشریعہ سے بھی بڑی عقیدت تھی اور آپ کے بارے میں فرماتے :
’’ میرے مخدوم حضور صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو جملہ علوم و فنونِ متداولہ میں کافی دَرک تھا (یعنی کمال مہارت تھی) بالخصوص معقولات پڑھاتے وقت معقولات کو پانی پانی کردیتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ قدرت کی فیاضیوں نے انہیں علم فقہ کا امین و وارث بنا دیا، لوگ دارالافتاء میں فتوے کی مشق کرتے کرتے زندگی تمام کر دیتے ہیں ، تاہم اس منصب کو نہیں پہنچ پاتے ہیں جو صدر الشریعہ کو قدرت کا عطیہ تھا۔ ‘‘
آپ کی تصانیف میں ’’ قانونِ شریعت ‘‘ جو بہارِ شریعت کا خلاصہ ہے بہت مشہور اور خاص و عام میں مقبول ومعروف ہے۔ فن منطق میں ’’ قواعد النظر فی مجافی الفکر ‘‘ اور علم نحو میں ’’ قواعد الاعراب ‘‘ بھی آپ کے وُفورِ علم پر دلالت کرتی ہیں نیز دورانِ مطالعہ تاعمر جو اہم باتیں اور عبارتیں آپ نے اپنی بیاض (نوٹ بک) میں تحریر فرمائیں وہ بھی کشکولِ جعفری کے نام سے علوم و معارف کا خزانہ ہیں ۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یکم محرم الحرام ۱۴۰۱ھ مطابق ۹نومبر۱۹۸۰ء میں وصال فرمایا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزار مبارک شیرازِ ہند جون پور (یو۔پی۔ہند) کے علاقے شیخ پورمیں دربارِ حضرت مخدوم سید قطب الدین بینادِل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قلندرِ جون پوری کے قریب ہے۔ (1)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم۔

________________________________
1 – مفتی اعظم ہنداوران کے خلفا،ص۴۳۴،تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ص۱۹۸، تذکرہ علمائے اہلسنت ص۱۰۴ماخوذاً

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!