ہماری بداعمالیاں اور معاشی بحران

ہماری بداعمالیاں اور معاشی بحران

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سچائی اور دیانتداری کے ساتھ رزقِ حلال کے حُصُول کے لئے بیان کردہ مدنی پھولوں پر عمل کرنا نہایت ضروری ہےمگر افسوس!آجکل اس کی طرف سے توجہ ہٹتی جارہی ہے۔ایک طرف ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا مبارک دور تھا جب ہرطرف سچائی ، دیانت داری اور احکاماتِ الٰہیہ کی بجاآوری کا لحاظ کیا جاتا تھاجبکہ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ حرص ِ مال اور لالچ کی پٹی ہماری آنکھوں پربندھی ہے ۔اذان کی صدا بلند ہوتی ہے مگر ہماری حرص ہمیں کاروبار چھوڑ کرربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نہیں جھکنے دیتی۔

بددیانتی ،جھوٹ ، دھوکے بازی اور بالخصوص سُود کی برائی ہمارے کاروبار کا حصہ بن چکی ہے ۔آج ہماری اکثریت کاروبار اور تجارت میں خدا کی یاد سے غافل رہتی ہے ، اگر اس دوران ہماری زبان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام آتا بھی ہے تو جھوٹی قسم کھانے اور خود کو ایک مہذَّب و خُوش اخلاق شخصیّت کے طور پر مُتعارف کروانے کیلئے تاکہ سامنے والا ہماری دینداری اور خُوش اخلاقی سے متاثر ہوکر ہم پر اندھا اعتماد کرلے اور ہم اس کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائیں ۔انجامِ آخرت سے بے خوف نہ جانے کتنے ہی تاجر(Business men)دنیا کے عارضی نفع کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹنے کے باوجود آج ہماری معاشی صورتِ حال انتہائی اَبتر ہے اور پورا معاشرہ ایک بدترین معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہےظاہر ہے ہمارے کاروبار اور بازار میں جب اس قدر کثرت سے برائیاں پائی جائیں گی تو معیشت تباہ نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا۔آج جسے دیکھو وہی معاشی ناہمواری اور فقر و تنگ دستی کے سبب پریشان ہے۔اس معاشی بحران کی زَد میں آکر کسی کی زمین گئی تو کسی کا گھر بک گیا،کوئی اپنی گاڑی بیچ رہا ہے تو کوئی گھر والوں کے زیور۔بوڑھا باپ بسترِ علالت پر لیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے لیکن بے روزگار بیٹے کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ باپ کے علاج کیلئے دواؤں کا انتظام کرسکے،غریب باپ جب شام کو خالی ہاتھ گھر پہنچتا ہے تو بچوں کا حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنا اسے غمزدہ اور افْسُردہ کردیتا ہے۔غربت،بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کے عفریت (بُھوت)
نسلِ انسانی کو اپنے آہنی پنجوں میں دبوچ کر اسکا خون نچوڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بھتہ خوری،لُوٹ ماری،قتل و غارت گری اور اس طرح کے دیگر جرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ زندگانی تنگ ہوکر رہ گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *