نفس وسوسہ کوئی بری چیز نہیں

نفس وسوسہ کوئی بری چیز نہیں

یہاں یہ بھی معلوم کر نے کی ضرورت ہے کہ شیطان کی صرف وسوسہ اندازی سے کوئی نقصان نہیں ، اس لئے کہ وہ شیطان کا فعل ہے اس کی جزاء وہی بھگتے گا ۔ صرف اس وسوسے کے دل میں پیدا ہونے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دل بھی نجس یا خراب ہو گیا ،کیونکہ ابھی معلوم ہوا کہ کوئی چیز اپنی ذات سے بری نہیں ۔ اگر فرض کیا جائے کہ عمر بھر برابر وسوسہ دل میں رہے اور آدمی اس کو اچھا یا برا نہ سمجھے تو اس سے کوئی نقصان نہیں، ہا ں اگر اس برے وسوسے کو اچھا سمجھے تو یہ سمجھنا جو اس کا فعل ہے قابل مؤاخذہ ہو گا اور برا سمجھے تو وہ قابل تحسین ہوگا ۔ چنانچہ صحابہ ؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی کہ بعض وقت برے خطرات د ل میں آ تے ہیں جن کا بیان ناگورا ہو تا ہے ؟فرمایا کیا تم ان کو برے سمجھتے ہو؟عرض کیا کہ جی ہاں ! فرمایایہی تو ایمان ہے ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اگر ایمان نہ ہوتا تو اس کو برا کیوں سمجھتا؟ بے ایمان تو برے خطروں کو پرورش کر کے ان سے کام لیتا ہے ۔
غرضکہ نفسِ خطرہ اور وسوسہ برا نہیں اس وقت تک کہ برے وسوسے کو اچھا نہ سمجھے ،یا اس پر عمل نہ کرے ۔جب وسوسہء شیطانی دل میں پیدا ہو اور آدمی یہ خیال کرے کہ ا س کا خالق خداے تعالیٰ ہے اس میں میرے فعل کو کوئی دخل نہیں کیونکہ ہر اختیاری کام میں پہلے اس کا علم اور ارادہ ضرور ہواکرتا ہے ،اور اس خطرے کے وقت نہ اس کا علم اور ادارک تھا نہ اس کی جانب ارادہ مبذل ہوا ،جس سے ظاہر ہے کہ ہمارے فعل کو اس میں کوئی دخل نہیں ! تو یہی باعث تقرب الٰہی ہوگا ۔ کیونکہ جب تک اس خیال میں وہ مصروف ہے خدا ے تعالیٰ کا ذکر اور مشاہدہ ٔصفات الٰہیہ ہے اور بمصداق حدیث شریف انا جلیس من ذکر نی حق تعالیٰ کے ساتھ اس کو مجا لست حاصل ہے ۔ اور بمصداق آیت شریف فاذکرونی اذکرکم وہ اس درجہ پر فائز ہے کہ خداے تعالیٰ ا س کا ذکر فرما رہا ہے ۔دیکھئے وہ وسوسہ شیطانی کس قدر باعث تقرب الٰہی ہوگیا !مگر یہ بات ہر شخص کو حاصل ہونا مشکل ہے ۔ ہم لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ جہاں شیطان نے وسوسہ ڈال کر برے کام کی طرف توجہ دلائی اس کام کی طرف متوجہ ہوگئے اور نفس ناطقہ کو اپنی خواہش پوری کرنے کی فکر ہوگئی ،اگر کوئی مانع نہ ہوتو اس کو پوری کر بھی لیا ۔مثلاً جس طرح دیوانو ں کا حال ہو تاہے کہ جب ان کے دل میں کسی کو مارنے کا وسوسہ اور خیال آجا تاہے تو بلا تامل مار بیٹھتے ہیں ،بخلاف عقلاء کے کہ وہ اس خیال میں غور و تامل کر تے ہیں ۔ پھر جس قدر عقل زیادہ ہوگی غور و فکر زیادہ ہوگی ،اعلیٰ درجے کا عاقل و ہ سمجھا جائے گا جو اس امر پر غور کرے کہ ایسا خیال کیوں پیدا ہوا ؟ اور اس کا منشا کیا ہے ؟اور اس کے موافق عمل کیا جائے تو اس سے کس قسم کی خرابیاں پیدا ہوں گی
غرض کہ جو جو عقلاء ہیںوہ سب سے پہلے یہ خیال کر تے ہیں کہ اس خیال کا پیدا کرنے والا کو ن ہے ؟ جب ان کو ایمانی طریقہ سے معلوم ہو تا ہے کہ سوائے خداے تعالیٰ کے کوئی اس کا خالق نہیں تو اس کے نتائج پر غور کر تے ہیں کہ آیا وہ فعل جس سے وسوسہ متعلق ہے باعثِ خوشنودی الٰہی ہے یا باعث غضب ؟ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ باعثِ خوشنودی الٰہی ہے تو فوراً اس وسوسہ کے مطابق کا م کر لیتے ہیں اور اس وسوسہ کو اس حدیث کے موافق اچھا سمجھتے ہیں جو تفسیر در منثور میں مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کر تے تھے اللہم اعمر قلبی من وسواس ذکرک و اطر د عنی وسواس الشیطان یعنی : ’’یا اللہ میرے دل کو تیرے ذکر کے وسواس سے آباد رکھ ،اور شیطان کے وسواس مجھ سے دور کر ‘‘۔ اوراگر یہ معلوم ہو کہ وہ

سوسہ باعث غضب الٰہی ہے تو خشیت اور خشوع ان پر طاری ہو تے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صفت اضلال کا ظہور ہو رہا ہے اور واسطہ اس میں شیطان ہے ،کیونکہ ہدایت کرنا اور گمراہ کرنا دونوں خداے تعالیٰ ہی کے کام ہیں ،چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما تے ہیں کہ : نہ مجھے ہدایت میں دخل ہے نہ شیطان کو گمراہی میں ۔ یعنی دونوں خدا ہی کے کام ہیں ، چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے یضل من یشاء و یھدی من یشا ء یعنی جس کو وہ چاہتا ہے گمراہ کر تا ہے اور جس کی چہا تا ہے ہدایت کر تاہے ،اور ارشاد ہے ومن یضل فلا ہادی لہ ۔ جب یہ خیال متمکن ہو تا ہے کہ اب خداے تعالیٰ گمراہ کرنا چا ہتا ہے تو کمال عجزو انکسار سے وہ دعائیں اورعرض و معروض شروع کرتے ہیں جس کی تعلیم حق تعالیٰ نے دی ہے مثلاًربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب یعنی : اے رب ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈال بعداس کے کہ تونے ہمیں ہدایت کرکے اسلام کی سیدھی راہ دکھلا دی ہے ۔ اس کے سوا اور دعائیں جن کی تعلیم دی گئی ہے کمال تضرع وزاری سے کرنے لگتے ہیں جس سے رحمتِ الٰہی جوش میں آکر اسی وسوسہ کو بے اثر کر دیتی ہے،اور شیطان حسر ت بھری نگا ہوں سے دیکھتا رہتا ہے کہ کرنا کیا چا ہا تھا اور ہوگیا کیا۔ اور اگر بمقتضائے بشریت گناہ صادر ہو گیا توان کو حزن و ندامت ہو تی ہے اور توبہ کر تے ہیں ،یعنی خداے تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تے ہیں کہ الٰہی گناہ صادر تو ہوگیا اور اس کی سزا کا مستحق بھی ہوں مگر اپنے فضل سے تو معاف فر مادے تو تیر ی عام رحمت سے کچھ بعیدنہیں تو غفارہے، ستارہے ۔
کنز العمال میں یہ روایت ہے کہ فرما یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : بندہ گناہ کر تا ہے پھر جب وہ گناہ اسے یاد آئے اور اس فعل پر غم ہوتو خداے تعالیٰ اس کے دل کو دیھکتا ہے اس کی حالت غم کو دیکھ کر وہ گنا ہ معاف فر ما دیتا ہے
والذین اذافعلو افا حشۃ ا وظلمو ا انفسہم ذکرو االلہ فستغفرو لذنوبہم ۔ولم یصروا علیٰ ما فعلو ا وہم نا دمون غرضکہ صدق دل سے وہ خداے تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کر کے گناہ کو معاف کر وا لیتا ہے اور وہ اس شخص کے مثل ہو جا تا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث شریف میں وارد ہے التائب من الذنب کمن الاذنب لہ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *