مُردوں کو زندہ کرنا

مُردوں کو زندہ کرنا

امام ( 2) بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی ہے کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو دعوتِ اسلام دی۔ اس نے جواب دیا کہ میں آپ پر ایمان نہیں لاتا یہاں تک کہ میری بیٹی زندہ کی جائے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ مجھے اس کی قبر دکھا۔ اس نے آپ کو اپنی بیٹی کی قبر دکھائی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لڑکی کانام لے کر پکارا۔ لڑکی نے قبر سے نکل کر کہا: لَبـَّیـْکَ وَسَعْدَیْکَ ( 3) نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا تو پسند کرتی ہے کہ دنیا میں پھر آجائے؟ اس نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقسم ہے اللّٰہکی! میں نے اللّٰہ کو اپنے والدین سے بہتر پایا اور اپنے لئے آخرت کو دنیا سے اچھا پایا۔ (4 )
حافظ ابو نُعَیْم ( 5) نے کعْب بن مالک کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ متغیر پایا اس لئے وہ اپنی بیوی کے پاس واپس آئے اورکہنے لگے: میں نے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہر ہ متغیر دیکھاہے میرا گمان ہے کہ بھوک کے سبب سے ایسا ہے کیا تیرے پاس کچھ موجود ہے؟ بیوی نے کہا: اللّٰہ کی قسم! ہمارے پاس یہ بکری اور کچھ بچا ہوا توشہ ہے۔ پس میں نے بکری کو ذبح کیا اور اس نے دانے پیس کر روٹی اور گوشت پکایا پھر ہم نے ایک پیالہ میں ثرید (6 ) بنایا۔ پھر میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لے گیا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر! اپنی قوم کو جمع کر لو۔ میں ان کو لے کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آیا۔ آپ نے فرمایا: ان کو میرے پاس

جدا جدا جماعتیں بناکر بھیجتے رہو۔ اس طرح وہ کھانے لگے۔ جب ایک جماعت سیر ہوجاتی تو وہ نکل جاتی اور دوسری آتی یہاں تک کہ سب کھاچکے اورپیالے میں جتنا پہلے تھا اتنا ہی بچ رہا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے تھے: کھاؤ اور ہڈی نہ توڑو۔ پھر آپ نے پیالے کے وسط میں ہڈیوں کو جمع کیا ان پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا پھر آپ نے کچھ کلام پڑھا جسے میں نے نہیں سنا۔ ناگاہ (1 ) وہ بکری کان جھاڑتی اٹھی آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: اپنی بکری لے جا۔ پس میں اپنی بیوی کے پاس آیا، وہ بولی یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اللّٰہ کی قسم! یہ ہماری بکری ہے جسے ہم نے ذبح کیا تھا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللّٰہ سے دعا مانگی پس اللّٰہ نے اسے زندہ کردیا۔ یہ سن کر میری بیوی نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ وہ اللّٰہ کے رسول ہیں ۔ ( 2)
غزوۂ خیبر کے بعد سَلام بن مِشکَم یہودی کی زوجہ نے بکری کا زہر آلود گوشت آنحضرت صَلَّیاللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا۔ آپ اس میں سے بازو اٹھا کر کھانے لگے وہ بازو بولا کہ مجھ میں زہر ڈالا گیا ہے۔ وہ یہودیہ طلب کی گئی تو اس نے اعتراف کیاکہ میں نے اس گوشت میں زہر ملایا ہے۔ ( 3) یہ معجزہ مردے کے زندہ کرنے سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ یہ میت کے ایک جزو کا زندہ کرنا ہے حالانکہ اس کا بقیہ جو اس سے منفصل تھا مردہ ہی تھا۔
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والدین کا آپ کی خاطر زندہ کیا جانا اور ان کا آپ پر ایمان لانا بھی بعض احادیث میں وارد ہے۔ علامہ سیوطی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس بارے میں کئی رسالے تصنیف کیے ہیں ، اور دلائل سے اسے ثابت کیا ہے۔ جزاہ اللّٰہ عنّا خیر الجزاء ۔ ( 4)
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے توسل سے بھی مردے زندہ ہوگئے چنانچہ حضرت انس (5 ) رَضِیَ

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک جوان نے وفات پائی اس کی ماں اندھی بڑھیاتھی۔ ہم نے اس جوان کو کفنا دیااور اس کی ماں کو پُرسَہ دیا۔ (1 ) ماں نے کہا: کیا میرا بیٹامرگیاہے؟ ہم نے کہا: ہاں ! یہ سن کر اس نے یوں دعا مانگی: یااللّٰہ! اگر تجھے معلوم ہے کہ میں نے تیری طرف اور تیرے نبی کی طرف اس امید پر ہجرت کی ہے کہ تو ہر مشکل میں میری مدد کرے گا تو اس مصیبت کی مجھے تکلیف نہ دے۔ ہم وہیں بیٹھے تھے کہ اس جوان نے اپنے چہرے سے کپڑا اٹھا دیا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی اس کے ساتھ کھایا۔ (

________________________________

________________________________
1 – شفاء شریف۔ اس حدیث کو طبرانی نے معجم اوسط میں بسند حسن حضرت جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت کیاہے۔ (مواہب لدنیہ) اور بیہقی نے اسمٰعیل بن عبدالرحمن سے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ (خصائص کبریٰ للسیوطی)۱۲منہ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،الباب الرابع۔۔۔الخ،فصل فی انشقاق القمر۔۔۔الخ،الجزء الاول،ص۲۸۴-۲۸۵۔ علمیہ)
2 – دیکھو مواہب لدنیہ۔
3 – ترجمہ: میں تیری طاعت کے لیے اور تیرے دین کی تائید کے لیے حاضر وتیار ہوں ۔۱۲منہ
4 – المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،المقصد الرابع۔۔۔الخ،ابراء ذوی العاہات واحیاء الموتی۔۔۔الخ،ج۷،ص۶۱-۶۲۔ علمیہ
5 – خصائص کبریٰ، جزء ثانی، ص ۶۷۔۱۲منہ
6 – ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی کے ٹکڑوں کو گوشت کے شو ر بے میں ترکرنے سے تیار ہوتا ہے۔۱۲منہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *