مَلِک بادشاہ کو کہتے ہیں جس کا تصرف اورحکم نافذہو

ملک

مَلِک بادشاہ کو کہتے ہیں جس کا تصرف اورحکم نافذہو ،اور لوگ اپنے امن وآشائش میں اس کے محتاج ہوں ۔ ہر چند ’’مَلِک ‘‘ اور ’’مالِک ‘‘دونوں کا اشتقاق میم ،لام،کاف سے ہے ۔ مگر مَلِک مُلْک والے یعنی بادشاہ کو کہیں گے اور مالک مِلک والے کو ،مَلِک میں جو خصوصیات ہیں وہ مالِک میں نہیں ، کیونکہ مَلِک کی اضافت صرف عقلاء کی طرف ہو تی ہے اور مالک کی اضافت غیر ذوی العقول کی طرف بھی ،
چناچہ مالک الدواب یعنی جانوروں کامالک کہتے ہیں او رملک الدواب نہیں کہتے ،بلکہ مَلِک الناسِ کہیں گے ۔
نفس ناطقہ کی سلطنت :
حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس صفت کا اظہار فرمائے اس لئے تمد ن کی بنیاد ڈالی گئی ، جس سے ہر ملک کے لئے ایک بادشاہ کی ضرورت ہوئی ۔چونکہ ہر فرد بشر میں بھی ایک مستقل سلطنت قائم ہے ا س لئے اس سلطنت کا بھی ایک بادشاہ مقرر فرما یا جس کانام ’’نفس ناطقہ ‘‘ ہے ،اور اس کے لئے دو زیر مقررکئے ایک وزیر خارجیہ دوسرا وزیر دخلیہ ،وزیر خارجیہ عقل ہے جس کا مقام ِاجلاس دماغ ہے ۔
حس مشترک جس کو یونانی میں ’’نبطا سیا ‘‘ یعنی لوح نفس کہتے ہیں ،گویا یہ بارگاہ سلطانی ہے یہاں دول خارجیہ کے اخبار و کیفیات پیش ہوا کرتی ہیں ، دول خارجیہ سے مراد دوسرے اشخاص و اشیاء ہیں ۔ کیونکہ ہر فرد انسان وغیرہ میںایک خاص سلطنت ہے جس کا حال بیان کیا جا تا ہے ۔
’’باصرہ ‘‘کاکام ہے کہ دول خارجیہ کے نقشے اور فوٹو پیش کردیا کرے تاکہ سلطنت کو صدمہ پہو نچانے والی چیزوں سے حفاظت اور مفید چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر کی جائے ۔ دیکھئے جب بصارت عرض کرتی ہے کہ کوئی درندہ یا گزندہ وغیرہ حملہ کرنے کو ہے تو اس سے حفاظت کا سامان کیا جا تا ہے ۔ اور مفید سلطنت کوئی چیز ہو مثلاً عمدہ غذاء وغیرہ کے متعلق عرض کر دے تو اس کو سلطنت میں پہونچا نے کی تدبیر کی جاتی ہے ،یہ گویا عرض بیگی یا ایڈی کانگ ہے ۔
ڈاکخانے کی خدمت ’’سامعہ ‘‘ سے متعلق ہے جو دور دور کے خبریں پیش کرتا رہتاہے ،مثلاً فلاںمقام میں طوفان وغیرہ امراض ہیں جو مضر سلطنت ہیں ، اور فلاں مقام میں مفید سلطنت چیزیں ملتی ہیں ۔
حس مشترک میں باصرہ جتنے فوٹو پیش کر تا ہے ان سب کا محافظِ دفتر خیال ہے جس کو ’’مصورہ ‘‘ کہتے ہیں ،یہ اس غرض سے محفوظ رکھے جا تے ہیں کہ وقتا ً فوقتا ً ان سے ضرورتیں متعلق ہو تی رہتی ہیں ، اگر یہ دفتر درہم و برہم ہو جائے تو ریاست میں اندھیرا ہوجائے ۔
سرحدی واقعہ نگار ’’لامسہ ‘‘ ہے ، اس لئے کہ آدمی کا پوست سرحدِ کالبد انسانی ہے اور اس میں قوتِ لامسہ ،رکھی گئی ہے ۔ جب اس سرحد میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا مثلاً کانٹا چبھ گیا یا کسی گزندے نے کانٹا فوراً بذریعہء تار برقی بارگاہِ حسِ میں اس نے خبر کر دی ۔
پولٹیکل امور ’’واھمہ ‘‘سے متعلق ہیں اس کا کام یہ ہے کہ باصرہ جن صورتوں کو پیش کرتا ہے ان میں وہ غور وفکر کرکے معانی پیدا کر تا ہے ،مثلاً یہ کہ شیر اور گھوڑے میں معنوی فرق کس قسم کا ہے ؟چنانچہ شیر سے عداوت اور ضرر رسانی کے معنی نکالنا ہے اور گھوڑے سے نفع رسانی کے ۔ اس کی کار گز اری کی مسلیں جو تیار ہو تی ہیں اس کی مخالفت ’’حافظہ ‘‘ کر تا ہے جس کا نام ’’متذکرہ ‘‘ بھی ہے جب کبھی باصرہ مکرر کوئی صورت پیش کرتا ہے جس کی ضرر رسانی اور عداوت مثلاً وہم نے تشخیص کی تھی ’’ متخلیہ ‘‘ اس کا پہلا فوٹو جو خیال میں رکھا تھا نکالتا ہے ، اس وقت حافظہ نے اس صورت سے اگر عداوت کے معنی استخراج کئے تھے وہ پیش کر دیتا ہے جس سے عقل حکم کرتی ہے کہ اس شخص سے حفاظت کی جائے ،اور اگر دوستی کا مضمون حافظہ نے پیش کیا تو مجلسِ وزارات سے اس کے ساتھ ملنے اور محبت رکھنے کا حکم نافذ ہو تا ہے ۔
انتظام کلی ’’متخلیہ ‘‘سے متعلق ہے جس کو ’’متفکر ‘‘ بھی کہتے ہیں ،وہ اور متعلقہ ک وترتیب دے کر نتیجہ نکالتا ہے ،مثلاً جب کسی زہر یلے جانور کی صورت باصرہ پیش

کرے اور واہمہ اس کاموذی ہونا ثابت کردے تو متخلیہ یہ راے پیش کر تا ہے کہ یہ موذی ہے اور جو موذی ہواس کو مارنا چا ہئے ۔چونکہ مقاصد مختلف ہوتے ہیں اس لئے کبھی متخلیہ کو خزانہ ء خیال کی صورتوں میں گھٹا نے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے ،مثلاً سانپ کی صورت کی تفصیل کرے فقط اس کا دانت لے لیتا ہے اور یہ حکم لگا دیتا ہے کہ وہی مہلک ہے اور مہلک دورکر دیا جاتا ئے تو پھر اس سے ضرر رسانی کا اندیشہ نہیں ، اور زیادتی کی مثال یہ ہے جیسے کہ حضرت شیخ سعدیؒ فرما تے ہیں :
گربہء مسکین ا گر پر داشتے
تخم کنجشک ا ز جہاں برداشتے
یہاں بلی کی صورت میں پر لگا دئے اور پر درا بلی بنائی گئی ۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ باصرہ کسی کا فوٹو پیش کرتا ہے اور وہم اس کی حرکات و سکنات سے محبت کے معنیٰ استخراج کر تا ہے اس وقت متخلیہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کبھی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں ؟چناچہ خیال میں جو صورتیں جمع ہیں ان میں تلاش کر تا ہے کہ اس وقت اس کے افعال کس قسم کے تھے ؟کیونکہ افعال کا خزانہ بھی حافظہ ہی ہے اگر حافظہ نے ان کوتلف نہ کردیا ہوتووہ پیش نظر ہو جاتے ہیں ،اور اگر اسی صورت سے وہم نے محبت کے معنیٰ نکالے تھے توفی الجملہ متخلیہ کو اطمینان ہو تا ہے ورنہ اس سے احتیاط کر نے کی ضرورت بتلاتا ہے ، چناچہ کسی کاشعر ہے :
بر تواضع ہائے دشمن تکیہ کردن ابلہیست
پائے بوسِ سیل از پا افگند دیوار را
باصرہ وغیرہ کی خبر رسانی کے بعد متخلیہ کی تحقیق میں جب یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی موذی سلطنت کو ضرر پہنا نے پر آمادہ ہے تو اس وقت محکمہء دفاع و حرب پر جس کا افسر قوت غضبیہ ہے حکم جا ری کر تا ہے کہ انتظام کیا جائے ،وہ شجاعت کو جو خاص دشمن کی سرکوبی کے لئے مقرر ہے حکم دیتا ہے ،وہ پہلے تخویف کی غرض سے آنکھوں او رچہرہ کوہیبت ناک اور آواز کودہشت انگیز بناکر اس کے مقابلے میں پیش کر تا ہے ، اور ارادے اور قدرت کو حکم دیتا ہے کہ فوراً قواے محرکہ کو حکم دیں کہ اوتار و عضلات وغیرہ کو اعضاء پر مسلط کرے دشمن پر ان کا حملہ کر ادیں ،چناچہ وہ مقابلہ کرکے دشمن پر فتح پا تے ہیں ۔اور کبھی جبن جس سے صیغہ ،مصالح اندیشی اور بقائے امن متعلق ہے یہ راے پیش کر تا ہے کہ اس وقت بھاگ جانا مناسب ہے ،اور بمجرد منظوری جس طریقے سے غصہ فوج کو دشمن کے مقابلے میں لایا تھا اسی طریقے سے بھاگنے کا کام اس سے لیتا ہے ۔
یہ چند امور جو بیان کئے گئے وہ وزارت خارجیہ سے متعلق تھے ۔ ان کے سوا اور بہت سے کام اس صیغے سے متعلق ہیں ۔
اب وزارت داخلیہ کابھی تھوڑا سا حال سماعت فر مالیجئے :نفس ناطقہ کا دوسرا وزیر’’ قوت شہو یہ ‘‘ہے جس سے اس سلطنت کے اندرونی کا م متعلق ہیں اس سلطنت میں بہت سے اضلاع و تعلقات ہیں مثلاً معدہ ، جگر ،دل ، دماغ ، گوشت ،پوست ، عضلات ، گردے ،ہڈی ، اور جھلیاں وغیرہ ۔ہر ایک کی طبعیت خاص قسم کی ہے ، اور وہا ںکا وہی مقامی افسر او ر تعلقدار ہے ،کسی ضلع میں کوئی مخالفت پیدا ہو جائے تو وہ وہاں سے اس کو دفع کر دیتا ہے ،مثلاً معدے میں کوئی ایسی چیز آجائے جو مضر ہو تو مقامی افسر یعنی طبعیت فوراً قے یا اسہال کے ذریعہ سے اس کو نکال دیتی ہے ۔صیغہ کو تو الی بھی اسی سے متعلق ہے ۔ اور جس چیز کی ضرورت ہو تی ہے وہ شہوت یعنی خواہش کے روبرو پیش کر تی ہے اور وہ اس کا انتظام کر دیتی ہے ،مثلاً پانی کی ضرورت ہو تو اس کی خواہش یعنی پیاس نفس ناطقہ کے حکم سے پانی وہاں پہونچا دیتی ہے ۔علی ہذا القیاس غذا اور مقویات اور ادویہ وغیرہ حسب ضرورت ہر مقام میں پہونچاتی رہتی ہیں ۔ ۔
اس سلطنت میں بہت سے محکمے قائم ہیں جن میں سے چند یہاں لکھے جا تے ہیں :
محکمہ تفتیش : اس کا کام یہ ہے کہ کسی مفسد کو اندر قدم نہ رکھنے دے ۔ اس کے افسر ذائقہ اور شامہ ہیں ، یہ جانچ پڑتال کرکے اُن ہی کو اجازت دیتے ہیں جو سلطنت کے حق میں مفید ہو ں ۔صیغہء طبابت بھی ان ہی سے متعلق ہے کہ مفید اشیاء کو اندر روانہ کریں۔ لیکن قوت عاقلہ کا حکم ہوتو اپنے خلاف مرضی اشیاء

کو اندر روانہ کر یں ۔لیکن قوت عاقلہ کا حکم ہوتو اپنے خلاف مرضی اشیاء مثلاً دوائے تلخ اورکریہہ کو بھی جانے دیتے ہیں ۔
محکمہ افزائش وتوقیر : نامیہ سے متعلق ہے ، جو ضرورت سے زیادہ غذاء فرہم کر تا ہے۔
محکمہء فراہمی اشیاء ما یحتاج : جاذبہ سے متعلق ہے ، جس طرح ایام قحط میں ایک مستقل عہد ہ دار رعایا کی غذاء فراہم کرنے کے لئے مقرر کیا جا تا ہے اس سلطنت میں جا ذبہ مقرر ہے ،چونکہ برس کے بارہ مہینے اس سلطنت میں قحط رہتا ہے اس لئے ہر ضلع میں یہاں خاص طورپر کا جاذبہ مقرر ہے جو ادھر ادھر سے غذا فراہم کر تا رہتا ہے۔چونکہ غذاء کی آمد و شد نلکیوں کے ذریعہ سے ہے اس لحاظ سے سررشتہ ء ریلوے سے بھی اس کا تعلق ہے ،جس طرح کہ سررشتہ ء آب رسانی سے بھی ہے اوران کا افسر جاذبہ ہو گا ۔جب جاذبہ ہر ایک کی روزی فراہم کر دیتا ہے تو قوت غاذیہ جو قسمت ارازق پر مامور ہے ہرایک کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے لحاظ سے روزی تقسیم کر تی ہے ۔محکمہء آب رسانی بھی اسی سے متعلق ہے کیونکہ جب تک غذاسیال نہ ہو ہر عضو میں جانہیں سکتی اس لئے پانی کی ضرورت ہے ۔قوت ماسکہ خزانہ دار ہے جو ہر ضلع و مقام میں آمدنی کی حفاظت کر تی ہے ۔
تعمیراتِ عامہ : ہاضمہ سے متعلق ہے اس لئے کہ جو مقامات بوسیدہ اور تحلیل ہو جا تے ہیں ہاضمہ وقتاً فوقتا ً بدل ما یتحلل پہونچا کر تعمیر و ترمیم کر دیتا ہے اسی وجہ سے ہر عضو کا ہاضمہ جداہے ۔ صیغہء کمیسٹری بھی اسی سے متعلق ہے چونکہ غذامیں دوقسم کے اجزاء ہو تے ہیں بعضوں میں جزو بدن ہونے کی صلاحیت ہے اور بعضوں میں نہیں ،ہاضمہ غذاء کی تحلیل کر تا ہے ۔ابتداء اً یہ کمیسٹری معدہ میں ہوتی ہے ،کیلوں کے لطیف اور عمدہ اجزاء علیحدہ کر کے جگر کی طرف بھیجتا ہے اور کثیف اجزاء بذریعہء قوتِ دافعہ آنتو ں کی راہ سے نکال دیے جا تے ہیں ۔ پھر جگر میں عمل تحلیل ہو تا ہے لطیف اجزاء بلغم ،خون ، صفرا ء اور سود ء بنتے ہیں اور پھر خون کو گردوں میں صاف کر کے زہر یلا فضلہ مثانہ کی راہ سے نکال دیا جا تا ہے ،پھر ان میں سے جو خون دل میں جا تا ہے وہاں لطیف اجزاء روح حیوانی بنتے ہیں اور فضلات ناک ،کان ، آنکھوں اور مسامات کی راہ سے نکال دیے جاتے ہیں ۔
اور جو خون اعضاء میں جا تا ہے وہاں قابل اجزاء اعضاء کے بننے میں صرف کئے جا تے ہیں اور باقی سے منی ،ناخن اور بال وغیرہ بنتے ہیں ۔
محکمہء صفائی : قوت دافعہ سے متعلق ہے جو ہر مقام کی نالیوں اور موریوں وغیرہ کے میل کچیل اور فضلات دفع کر کے پاک وصاف کر دیتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *