مغیبات پر مطلع ہونا

مغیبات پر مطلع ہونا

حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات میں سے آپ کا مغیبات پر مطلع ہو نا اور غیوب ماضیہ اور مستقبلہ کی خبر دینا بھی ہے۔ (۵ ) علم غیب بالذات اللّٰہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے جو کچھ اس قبیل سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان مبارک سے ظاہر ہوا وہ اللّٰہ تعالٰی کی وحی واِلہام سے ہوا جیسا ( ۶) کہ آیاتِ ذیل سے ظاہر ہے۔

{1}
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ- (بقرہ، ع۱۷)
اور اسی طرح ہم نے تم کو بہتر امت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہوا وررسول تم پر گواہ ہو۔ (۱ )
{2}
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕ- (آل عمر ان، ع۵)
یہ غیب کی خبر وں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں ۔ (۲ )
{3}
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- (آل عمران، ع۱۸)
نہیں ہے اللّٰہ کہ خبر دار کرے تم کو غیب پرلیکن اللّٰہپسند کر تا ہے اپنے پیغمبر وں میں سے جس کو چاہے۔ (۳ )
{4}
وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (۱۱۳) (نساء، ع۱۷)
اور خدا نے اتا ری تجھ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا تجھ کو جو کچھ کہ تو نہ جانتا تھا اور اللّٰہ کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔ ( ۴)
{5}
تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَۚ-مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا ﳍ (ہود، ع۴)
یہ بعض خبر یں ہیں غیب کی جن کو ہم تیری طرف وحی کر تے ہیں ان کو جانتا نہ تھا تو اور نہ تیری قوم اس سے پہلے۔ ( ۵)

{6}
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَۚ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ (۱۰۲) (یوسف، ع۱۱)
یہ غیب کی خبر وں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں اور توان کے پاس نہ تھاجس وقت انہوں نے اپنا کام مقرر کیا اور وہ مکر کر تے تھے۔ (1)
{7}
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ (۱۰) (نجم، ع۱)
پس اللّٰہ نے وحی پہنچا ئی اپنے بندے کی طرف جو پہنچائی۔ (۲ )
{8}
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ (۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (جن، ع۲)
وہ غیب کا جاننے والاپس مطلع نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو مگر وہ پیغمبر جس کو اس نے پسند کر لیا۔ (۳ )
اس مضمون کی اور آیتیں بھی ہیں ۔ان سب کی تفسیر کے لئے ایک علیحد ہ کتاب در کار ہے یہاں صرف آیت {1} کے حصہ اخیر کی نسبت کچھ ذکر کیا جاتا ہے۔ علامہ اسمٰعیل حقی قُدِّسَ سِرُّہٗاپنی تفسیر ’’ روح البیان ‘‘ میں بعض اَربابِ حقیقت کا قول یوں نقل فرماتے ہیں :
و معنی شھادۃ الرّسول علیھم اطلاعہ علٰی رتبۃ کل متدین بدینہ و حقیقتہ الّتی ھو علیھا من دینہ وحجابہ الّذی ھو بہ محجوب عن کمال دینہ فھو یعرف ذنوبھم و حقیقۃ ایمانھم و اعمالھم و حسناتھم وسیاتھم و اخلاصھم و نفاقھم و غیر ذلک بنور الحق ۔
ان پر رسول کے گواہ ہو نے کے معنی یہ ہیں کہ حضور مطلع ہیں ا پنے دین کے ہر متدین (۴ ) کے رتبے پر اور اس کے ایمان کی

حقیقت پر اور اس حجاب پر کہ جس کے سبب سے وہ کمال دین سے محجوب ہے۔پس حضور ان کے گناہوں کو اور ان کے ایمان کی حقیقت کو اور ان کے اعمال کو اور ان کی نیکیوں اور برائیوں کو اور ان کے اخلاص ونفاق وغیرہ کو نو ر نبوت سے پہچا نتے ہیں ۔ (۱ )
اسی طرح مولیٰنا شاہ عبد العزیز قُدِّسَ سِرُّہٗ ’’ تفسیر عزیز ی ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں : وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ- (۲ ) یعنی وباشدر سول شمابر شماگواہ۔زیراکہ اومطلع است بنورنبوت بر رتبۂ ہر متدین بدین خود کہ درکدام در جہ ازدین من رسیدہ وحقیقت ایمان او چیست وحجاب کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است۔پس اومے شنا سد گناہان شمار ا و درجات ایمان شمار اواعمالِ نیک وبد شمار اواخلاص ونفاق شمارا۔ ‘‘
حالت خواب (۳ ) میں بھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کے حالات سے آگاہ رہا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قُدِّسَ سِرُّہٗ مُلَّاحَسَن کشمیر ی کو یوں تحریر فرماتے ہیں : حدیث تنام عینای و لا ینام قلبیکہ تحریر یافتہ بود اشارت بدوام آگا ہی نیست بلکہ اخبار است از عد م غفلت از جریان احوال خویش وامت خویش۔ ( ۴)
عالم برزخ میں بھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اپنی امت کے احوال سے آگاہ رہتے ہیں ۔ چنانچہ علامہ قسطلانی آدابِ زِیارَت میں یوں تحریر فرماتے ہیں :
و ینبغی ان یقف عند محاذاۃ اربعۃ اذرع و یلازم الادب و الخشوع و التواضع غاض البصر فی مقام الھیبۃ کما کان یفعل فی حال حیاتہٖ اذ لا فرق بین موتہٖ و حیاتہ فی مشاہدتہ لامتہ و معرفتہ باحوالھم و نیاتھم وعزائمھم وخواطرھم ذلک عندہ جلی لاخفاء بہ فان قلت ھذہ الصفات مختصۃ باللّٰہ تعالٰی فالجواب ان من انتقل الٰی عالم البرزخ من المؤمنین یعلم احوال الاحیاء غالباً وقد وقع کثیر من ذلک کما ہو مسطور فی مظنۃ ذلک من الکتب و قد روی ابن المبارک عن سعید بن المسیب: لیس من یوم الا و تعرض

علی النّبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلم اعمال امتہ غدوۃً وعشیۃً فیعرفھم بسیماھم واعمالھم فلذلک یشھد علیھم۔ (مواہب لدنیہ) (۱ )
چاہیے کہ زیارت کر نے والا قبر شریف سے چار ہاتھ پر سامنے کھڑا ہووے، اور ادب و خشوع و تواضع کو لازم پکڑے اور مقام ہیبت میں آنکھیں بند کرے جیسا کہ حضور کی حیات شریف کی حالت میں کیا جاتا تھا کیونکہ اپنی امت کے مشاہدے اور ان کے احوال ونیات وعزائم و خواطرکی معرفت میں (۲ ) حضور کی موت وحیات یکساں ہے اور یہ آپ کے نزدیک ظاہر ہے اس میں کوئی پو شید گی نہیں ۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ یہ صفات تو اللّٰہ تعالٰی سے مختص ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ (کامل) مومنوں میں سے جو شخص عالم برزخ میں چلا جاتا ہے وہ زندوں کے حالات غالباً جانتا ہے۔ایسا بہت وقوع میں آیا ہے جیسا کہ اس کے متعلق کتابوں میں مذکور ہے۔حضرت عبد اللّٰہ بن مبارک نے بروایت سعید بن مسیب نقل کیا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں کہ صبح وشام امت کے اعمال آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پیش نہ کیے جاتے ہوں ۔ لہٰذا آپ ان اعمال کو اور خود ان کو ان کے چہرے سے پہچا نتے ہیں ۔اسی واسطے آپ ان پر گواہی دیں گے۔
مواہب لدنیہ کی طرح مَدخل ابن حاج میں بھی زیارتِ سید الاوّلین والآخرین میں یہی مضمون مذکور ہے اور یہ بھی لکھا ہے:
فاذا زارہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ و الہ و سلم فان قدر ان لا یجلس فھو بہ اولٰی فان عجز فلہ ان یجلس بالادب والاحترام والتعظیم، و قد لا یحتاج الزائر فی طلب حوائجہ و مغفرۃ ذنوبہ ان یذکرھا بلسانہ ، بل یحضر ذلک فی قلبہ و ھو حاضر بین یدیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ و الہ و سلم لانہ علیہ الصَّلٰوۃ و السلام اعلم منہ بحوائجہ ومصالحہ وارحم بہ منہ لنفسہ واشفق علیہ من اقاربہ۔ وقد قال علیہ الصلٰوۃ و السلام: ’’ انما مثلی و مثلکم کمثل الفراش تقعون فی النار و انا اخذ بحجزکم عنھا ‘‘ اوکما قال و ھٰذا فی حقہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ و الہ و سلم فی کل وقت و اوان اعنی فی التوسل بہ و طلب الحوائج بجاھہ عند ربہ عز و جل و من لم یقدر لہ زیارتہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلم بجسمہ فلینوھا کل وقت بقلبہ ، و لیحضر

 

قلبہ انہ حاضر بین یدیہ متشفعا الٰی من منّ بہ علیہ ۔ (مدخل لابن الحاج، جزء اول، زیارت سید الاولین والاٰخرین صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ والہ وسلم )
جس وقت زائر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کرے اگر وہ طاقت رکھتا ہو کہ نہ بیٹھے تو اس کے لئے نہ بیٹھنا اَولیٰ ہے۔اگر وہ کھڑا ر ہنے سے عاجز ہو تو اسے ادب واحترام اور تعظیم سے بیٹھنا جائز ہے۔زائر کے لئے اپنی حاجتیں اور گناہوں کی معافی طلب کر نے میں یہ ضروری نہیں کہ ان کو اپنی زبان سے ذکر کرے بلکہ ان کو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حضور میں دل میں حاضر کرلے کیونکہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو زائر کی حاجات و ضروریات کا علم خود زائر سے زیادہ ہے، اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس پر خود اس کی نسبت زیادہ رحم والے اور اس کے اقارب سے زیادہ شفقت والے ہیں ۔ چنانچہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا ہے: ’’ میرا حال اور تمہارا حال پروانوں کے حال کی طرح ہے کہ تم آگ میں گر تے ہو اور میں تم کو کمرسے پکڑ کر آگ سے بچا نے والا ہوں ۔ ‘‘ اور یہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں ہر وقت اور ہر لحظہ میں ہے یعنی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم سے توسل کرنے میں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جاہ کے وسیلہ سے حاجتیں مانگنے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے، اور جس شخص کے لئے بذات خود آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کا مقدورنہ ہو اُ سے چاہیے کہ ہر وقت اپنے دل میں زیارت کی نیت کرے اور یہ سمجھے کہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے حاضر ہوں اور حضور کو بار گاہ الٰہی میں شفیع لارہا ہوں جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھیج کر مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ (۱ )
علامہ سیو طی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عالم بر زخ میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَشغال میں یوں تحریر فرماتے ہیں :
النظر فی اعمال امتہ و الاستغفار لھم من السیّات و الدعاء بکشف البلاء عنھم و التردد فی اقطار الارض لحلول البرکۃ فیھا و حضور جنازۃ من مات من صالحی امتہ فان ھذہ الامور من جملۃ اشغالہ فی البرزخ کما وردت بذلک الاحادیث و الاثار۔ ( ۲)

اپنی امت کے اعمال کو دیکھنا اور ان کے گناہوں کی بخشش طلب کر نا اور ان سے بلا دور کر نے کی دعا کر نا اور اقطار زمین میں حلول بر کت کے لئے تشریف لے جانا، اپنی امت کے صالحین میں سے کسی کے جنازے میں حاضر ہونابیشک یہ امور برزخ میں حضور کے اَشغال میں سے ہیں جیسا کہ احادیث وآثار میں وار دہے۔
اللّٰہ تعالٰی نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو علم ما کان و ما یکون عطا فرمایا، چنانچہ صحیح (۱ ) بخاری ومسلم میں حضرت حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم میں (وعظ کے لئے ) کھڑے ہوئے۔ اس میں آپ نے جو کچھ قیامت تک واقع ہونے والا ہے سب بیان فرمادیااسے یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھلا دیا جس نے بھلا دیا۔اس واقعہ کا میرے یاروں کو بھی علم ہے جو کچھ آپ نے خبر دی اس میں سے ایسی چیز واقع ہو تی ہے جس کو میں بھول گیا ہوں جب اس کو دیکھتا ہوں تو یاد کر لیتا ہوں جس طرح ایک شخص دوسرے شخص کا چہرہ (بطریق اجمال) یاد رکھتا ہے، جب کہ وہ غائب ہو جاتا ہے پھرجب اس کو دیکھتا ہے تو اسے (بہ تفصیل و تشخیص) پہچان لیتا ہے۔ ( ۲)
حضرت ابو زید (۳ ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہوگیا آپ منبر سے اتر آئے اورنماز پڑھی پھر منبرپر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیاپھر آپ اتر آئے اور نماز پڑھی پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں وعظ فرمایایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم کو جو کچھ واقع ہوچکا ہے اور جو ہونے والا ہے سب کی خبر دی۔ہم میں سے جو زیادہ یاد رکھنے والا ہے وہ زیادہ عالم ہے۔ (۴ )
حضرت ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللّٰہنے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا اور قریب ہے کہ میری امت کی

سلطنت ان تمام مقامات پر پہنچے اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیئے گئے۔ الحدیث (۱ )
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ کے قلعوں میں سے ایک پر کھڑے ہوئے۔ پھر فرمایا: کیا تم دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمہارے گھروں کے بیچ بارش کی طرح گر رہے ہیں ۔ (۲ )
حضرت عبد الرحمن بن عائش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں نے اپنے پر ور دگار کو نہایت اچھی صورت میں دیکھا۔ اس نے پوچھا کہ فرشتے کس چیز میں جھگڑرہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا: تو زیادہ دانا ہے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: پس پروردگار نے اپنا ہاتھ میرے دو شانوں کے درمیان رکھامیں نے اس ہاتھ کی ٹھنڈک اپنے دو پستانوں کے درمیان پائی اور جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں تھا (۳ ) اور آنحضرت نے یہ آیت پڑھی :
وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ (۷۵)
اور اسی طرح ہم دکھا نے لگے ابراہیم کو سلطنت آسمان اور زمین کی تاکہ اس کو یقین آوے۔ (۴ )
اس حدیث کو دارمی نے بطریق ارسال روایت کیا ہے ، اسی کی مانند ترمذی میں ہے۔ (۵ )
حضرت عبد اللّٰہ بن عمر وبن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(اپنے دولت خانہ سے) نکلے اور آپ کے دونوں ہاتھوں میں دوکتابیں تھیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ دوکتابیں کیسی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مگر یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں ۔ جو آپ کے دائیں ہاتھ میں تھی اس کی نسبت فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں بہشتیوں کے نام اور ان کے آباء و قبائل کے نام ہیں پھر اخیر میں ان کا مجموعہ دیا گیا ہے، ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ہو گی۔ پھر جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بائیں ہاتھ میں تھی اس کی نسبت فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں دوزخیوں کے نام ہیں پھر اخیر میں مجموعہ دیا گیا ہے۔ان میں کبھی نہ زیادتی ہوگی اور نہ کمی ہو گی۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اگر اس امر سے فراغت ہو چکی تو عمل کس واسطے ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اپنے عملوں کو درست کرو اور قرب الٰہی ڈھونڈو کیونکہ جو بِہِشْتِی ہے اس کا خاتمہ بِہِشْتِیوں کے عمل پر ہو گا خواہ وہ عمر بھر کیسا ہی عمل کر تا رہے اور جو دوزخی ہے اس کا خاتمہ دوز خیوں کے عمل پر ہو گا خواہ وہ عمر بھر کیسا ہی عمل کر تا رہے۔ پھر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا اور ان دو کتابوں کو پس پشت ڈال دیا۔ پھر فرمایا: اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں سے فارغ ہوگیا ہے ایک گر وہ بِہِشْت میں اور ایک گر وہ دوزخ میں ۔ اس حدیث کو تر مذی نے روایت کیا ہے۔ (۱ )
امام اَحمد و طبرانی نے بر وایت ابوذَر نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس سے آئے اس حال میں کہ آسمان میں پرندہ جو اپنا بازو ہلاتا ہے اس کے متعلق بھی اپنے علم کا آپ نے ہم سے ذکر فرمادیا۔ (۲ )
طبرانی میں بروایت ابن عمر مروی ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللّٰہ تعالٰی نے میرے سامنے رکھا دنیا کو میں دنیاکی طرف اور اس میں قیامت تک ہو نے والے حوادِث کی طرف یوں دیکھتا تھاجیسے

اپنے اس ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ۔ (۱ )
طبرانی میں حضرت حذیفہ بن اَسید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ کل رات اس حجر ہ کے پاس میری امت اول سے آخر تک مجھ پر پیش کی گئی۔آپ سے عرض کیا گیا: یا رسول اللّٰہ ! پیش کیے گئے آپ پر وہ جو پیدا ہوچکے ہیں کیونکہ وہ موجود ہیں مگر وہ کیونکر پیش کیے گئے جو پیدا نہیں ہو ئے؟ آ پ نے فرمایا کہ میرے لئے آب وگل میں (۳ ) ان کی صورتیں بنا ئی گئیں یہاں تک کہ میں ان میں سے ہر ایک کو اس سے بھی زیادہ پہچانتا ہوں جتنا کہ تم اپنے ساتھی کو پہچا نتے ہو۔ (۲ )
مسند فردوس میں ہے کہ میرے لئے آب وگل میں میری امت کی شکل بنا ئی گئی اور مجھے تمام اَسماء کا علم حضرت آدم کی طرح دیا گیا۔ ( ۴)
جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم کی وسعت کا یہ حال ہے تو اِنس وجن ومَلک میں سے کس کو یارا ہے کہ اس کااحاطہ کر سکے لہٰذا یہاں جو کچھ بیان ہو تا ہے اسے سَمُنْدَر میں سے ایک قطرہ تصور کر نا چاہیے۔
صاحب قصیدہ بر دہ شریف یوں فرماتے ہیں :
فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّ نْیَا وَ ضَرَّتَھَا وَ مِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَ الْقَلَمِ (۵ )
کیونکہ دنیا اور آخرت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بخشش سے ہے اور لوح وقلم کا علم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علوم میں سے ہے۔
اس بیت (۱ ) کی شرح میں مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْبَارِی زُبْدَ ہ شرح بُرْدَ ہ میں یوں فرماتے ہیں : ’’ توضیحہ ان المراد بعلم اللوح ما اثبت فیہ من النقوش القدسیۃ والصور الغیبیۃ وبعلم القلم ما اثبت فیہ کما شاء و الاضافۃ لادنی ملابسۃ وکون علمھا من علومہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلم لان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات وحقائق ودقائق وعوارف ومعارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھما انما یکون سطراً من سطور علمہ ونھرًا من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلم ‘‘
تو ضیح اس کی یہ ہے کہ لوح کے علم سے مر اد نقوش قدسیہ اور صورغیبیہ ہیں جو اس میں منقوش ہیں ، اور علم قلم سے مراد وہ ہے جو اللّٰہ نے جس طرح چاہا اس میں ودیعت رکھا۔ان دونوں کی طرف علم کی اضافت ادنیٰ علاقہ کے باعث ہے اور ان دونوں کا علم آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علوم کا ایک جزوہے اس لئے کہ حضرت کے علم کئی قسم کے ہیں علم کلیا ت، علم جزئیات، علم حقائق اشیائ، علم اسرار اور وہ علوم ومعارف جو ذات وصفات باری تعالٰی سے متعلق ہیں اور لوح وقلم کے علوم تو علوم محمد یہ کی سطروں میں سے ایک سطر اور ان کے دریاؤں میں سے ایک نہر ہیں بایں ہمہ علم لوح وقلم آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے وجود کی برکت سے ہے۔ (کہ اگر حضور نہ ہو تے تو نہ لوح وقلم ہو تے نہ ان کا علم )
اس بیت کی شرح میں شیخ ابراہیم باجوری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یوں لکھتے ہیں :
استشکل جعل علم اللوح والقلم بعض علومہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلمبان من جملۃ علم اللوح والقلم الامور الخمسۃ المذکورۃ فی اخر سورۃ لقمان مع ان النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام لا یعلمھا لان اللّٰہ قد استاثر بعلمھا فلا یتم التبعیض المذکور واجیب بعدم تسلیم ان ھذہ الامور الخمسۃ مما کتب القلم فی اللوح والا لاطلع علیہ من شانہ ان یطلع علی اللوح کبعض الملائکۃ المقربین وعلی تسلیم انھا مما کتب القلم فی اللوح فالمراد ان بعض علومہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلمعلم اللو ح والقلم الذی یطلع علیہ المخلوق فخرجت ھذہ الامور الخمسۃ۔ علی انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ والہ وسلملم یخرج من الدنیا الا بعد ان اعلم اللّٰہ تعالٰی بہذہ الامور۔ فان قیل اذاکان علم اللوح والقلم بعض علومہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ
والہ وسلمفما البعض الاٰخر اجیب بان البعض الاٰخر ھو ما اخبرہ اللّٰہ عنہ من احوال الاٰخرۃ لان القلم انما کتب فی اللوح ما ھو کائن الٰی یوم القیامۃ۔
ناظم نے علم لوح وقلم کو حضرت کے علوم کا ایک جزء قرار دیا ہے اس میں یہ اشکال پیش آتا ہے کہ امور خمسہ جو آخر سورۂ لقمان میں مذکور ہیں علم لوح وقلم میں سے ہیں حالانکہ حضرت ان کو نہیں جانتے کیونکہ ان کا علم اللّٰہ تعالٰی نے اپنے لئے خاص کرلیا ہے لہٰذا جزئیت مذکورہ درست نہیں رہتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو ہم یہ تسلیم نہیں کر تے کہ امور خمسہ مذکورہ قلم نے لوح محفوظ میں لکھے ہیں اگر ایساہو تا تو بعض مقرب فرشتے جن کی شان یہ ہے کہ وہ لوح پر مطلع ہوتے ہیں ان امور پر مطلع ہوتے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں کہ امور خمسہ کو قلم نے لوح میں لکھا ہے تواس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت کے علوم کا جزء وہ علم لوح و قلم ہے جس پر مخلوق مطلع ہے پس یہ امور خمسہ نکل گئے۔ علاوہ ازیں حضرت اس دنیا سے تشریف نہیں لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللّٰہ تعالٰی نے آپ کو ان امور کا علم دے دیا۔ اگریہ کہا جائے کہ جب علم لوح و قلم حضرت کے علوم کا ایک جزء ٹھہرا تو دوسرا جزء کونسا ہے؟ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ دوسرا جزء وہ اَحوالِ آخرت ہیں جن کی اللّٰہ تعالٰی نے حضرت کو خبر دی ہے کیونکہ قلم نے تو لوح میں فقط وہ لکھا ہے جو روز قیامت تک ہو نے والاہے۔
علامہ شیخ محی الدین محمد بن مصطفی معروف بہ شیخ زادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جنہوں نے ’’ تفسیر بیضاوی ‘‘ پر حاشیہ لکھا ہے اسی بیت کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’ والعلم فی ھذا البیت اما بمعناہ او بمعنی المعلوم ای معلوماتک المعلومات الحاصلۃ منھما ولعل اللّٰہ اطلعہ علٰی جمیع ما فی اللوح وزادہ ایضاً لان اللوح والقلم متناھیان فما فیھما متناہ ویجوز احاطۃ المتنا ھی با لمتناھی ھذا علی قدر فھمک اما من اکتحلت عین بصیرتہ بالنور الاِلٰھی فیشاھد بالذوق ان علم اللوح والقلم جزء من علومہ کما ھی جزء من علم اللّٰہ سبحانہ لانہ علیہ السلام عند الانسلاخ من البشریۃ کما لا یسمع ولا یبصر ولا یبطش ولا ینطق الا بہ جلت قدرتہ و عمت نعمتہ کذلک لا یعلم الا بعلمہ الذی لا یحیطون بشیء منہ الا بما شاء کما اشار الیہ بقولہ: (۱ )
’’ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ- ‘‘ (۲ )

اس بیت میں علم یا تو اپنے معنی میں ہے یا معلوم کے معنی میں ہے یعنی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معلومات وہ معلومات ہیں جو دونوں سے حاصل ہوئے ہیں اور شاید اللّٰہ نے حضرت کو اس تمام پر مطلع کردیا ہے جو لوح میں ہے اور اس سے زیادہ کا بھی علم دیا ہے چونکہ لو ح وقلم متنا ہی ہیں ۔پس جو کچھ ان دونوں میں ہے وہ متناہی ہے اور متنا ہی کا احاطہ متنا ہی سے جائز ہے۔اس قدربات تیری سمجھ کے مطابق ہے۔ لیکن وہ شخص جس کی بصیرت کی آنکھ میں نورالٰہی کا سر مہ پڑا ہو ا ہے وہ ذوق سے مشاہدہ کر تا ہے کہ علوم لوح وقلم حضرت کے علوم کا جزء ہیں جیسا کہ اللّٰہ سبحانہ کے علم کا جزء ہیں کیونکہ حضور عَلَیْہِ السَّلام بشریت سے انسلاخ کے وقت جیسا کہ نہیں سنتے، نہیں دیکھتے، نہیں پکڑتے اور نہیں بو لتے مگر ساتھ اللّٰہ کے اسی طرح حضور نہیں جانتے مگر ساتھ اس علم خدا کے جس میں سے کسی چیز کو نہیں گھیر تے ملائک و انبیا ء وغیرہ مگر جو وہ چاہے۔ جیسا کہ اس نے اپنے ارشاد: (وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکْنْ تَعْلَمُ) میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔
بیان بالاسے یہ نہ سمجھا جا ئے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا علم اللّٰہ تعالٰی کے علم کے مساوی ہے کیونکہ دونوں میں بلحاظ کیفیت وکمیت بڑا فرق ہے۔ اللّٰہ تعالٰی کا علم بغیر ذرائع ووسائل، ذاتی، قدیم۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا علم عطائی، حادث ہے۔ اسی طرح کمیت میں بھی فرق بین ہے کیونکہ انبیاءے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام کا علم اللّٰہ تعالٰی کے علم سے وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جو قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری (تفسیر کہف) میں قصہ حضرت موسیٰ وحضرت خضر عَلَیْہِمَا السَّلام میں ہے: ’’ قال و جاء عصفور فوقع علی حرف السفینۃ فنقر فی البحر نقرۃ فقال لہ الخضر ما علمی و علمک من علم اللّٰہ الا مثل ما نقص ھذا العصفور من ھذا البحر۔ (۱ )
فرمایا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کہ ایک چڑ یا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھی اس نے اپنی چونچ سَمُنْدَر میں ڈُبو ئی۔ حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا کہ میرا علم اور آپ کا علم اللّٰہ تعالٰی کے علم کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں جتنا (پانی ) اس چڑیا نے سَمُنْدَر میں سے اپنی چو نچ میں لے لیا۔
شیخ اسمٰعیل حقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تفسیر ’’ روح البیان ‘‘ میں آیہ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا

شَآءَۚ- ( ) کے تحت میں یوں لکھتے ہیں :
قال شیخنا العلامۃ ابقاہ اللّٰہ بالسلامۃ فی الرسالۃ الرحمانیۃ فی بیان الکلمۃ الفرقانیۃ : علم الاولیاء من علم الانبیاء بمنزلۃ قطرۃ من سبعۃ ابحر وعلم الانبیاء من علم نبینا محمد علیہ الصلٰوۃ والسلام بھذہ المنزلۃ وعلم نبینا من علم الحق سبحانہ بھذہ المنزلۃ ۔ ( )
ہمارے استادعلامہ نے، اللّٰہ ان کو سلامت رکھے، ’’ الرسالۃ الرحمانیہ فی بیان الکلمۃ العرفانیہ ‘‘ میں فرمایا کہ اولیاء کا علم انبیاء کے علم کے مقابلہ میں بمنز لہ ایک قطرہ کے ہے سات سمندروں میں سے اور انبیا ء کا علم ہمارے نبی محمد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے علم کے ساتھ یہی نسبت رکھتا ہے اور ہمارے نبی کا علم حق سبحانہ کے علم کے ساتھ یہی نسبت رکھتا ہے۔
صاحب قصیدہ بر دہ شریف فرماتے ہیں :
وَ کُلُّھُمْ مِّنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ مُلْتَمِسٌ غَرْفًا مِّنَ الْبَحْرِ اَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّیَمٖوَ وَاقِفُوْنَ لَدَیْہِ عِنْدَ حَدِّھِمٖ مِنْ نُّقْطَۃِ الْعِلْمِ اَوْ مِنْ شَکْلَۃِ الْحِکَمٖ ( )
ترجمہ منظوم
ہیں رسول اللّٰہ کے فیضان سے سیر اب سب
وہ کسی کے حق میں شبنم ہیں کسی کے حق میں یم
اس کی پیشی میں کھڑے ہیں اپنی اپنی حد پہ سب
ہے کوئی تو نقطہ علم کوئی اعراب حکم
ان شعروں کی تشریح ومطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے سب سے پہلے سید نا محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی رُوحِ پاک کو پیدا کیا پھر اسے خِلْعَتِ نبوت سے سر فراز فرمایا وہ رُوحِ پاک عالم اَرواح میں دیگر انبیا عَلَیْہِمُ السَّلام

کی روحوں کو تعلیم دیا کرتی تھی ہر ایک رُوح نے حسب قابلیت واِستِعد اد حضور عَلَیْہِ الصلٰوۃُ السَّلام کی رُوح سے اِستفادۂ علم کیا۔کسی نے حضور کے علم کے ’’ بحر زَخار ‘‘ سے بقدر ایک چلو کے لیا اور کسی نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فیضان کی لگا تار بارشوں سے بقدر ایک قطرہ یا گھونٹ کے لیا۔ ’’ علوم ومعارِف ‘‘ جو انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روحِ اَقدس سے حاصل کئے ان کی غایت ونہایت (۱ ) حضور کے علم کے دفتر کا فقط ایک نقطہ یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معارف کے دفتر کا محض ایک اعراب ہے۔
جو شخص حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کا مطلقاً انکا ر کر تا ہے اسے آیۂ ذیل اور اس کا شانِ نزول مطا لعہ کر نا چاہیے:
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ (۶۵) لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ- (توبہ، ع۸)
اور البتہ اگر تو ان سے پو چھے تو البتہ وہ کہیں گے سوائے اسکے نہیں کہ ہم بول چال کر تے تھے اور کھیلتے تھے تو کہہ دے کیا تم اللّٰہ سے اور اسکے کلام اور اسکے رسول سے ٹھٹھا کرتے ہو بہانے مت بناؤ تحقیق تم اپنے ایمان کے بعد کا فر ہو گئے۔ (۲ )
علامہ جلال الدین سُیُو طی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تفسیر ’’ دُرِّ منثور ‘‘ ( جزء ثالث، ص۲۵۴ ) میں فرماتے ہیں کہ ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم وابو الشیخ نقل کرتے ہیں کہ امام مجاہد نے اللّٰہ تعالٰی کے قول: وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-کاشان نزول یہ بیان کیا ہے:
قال رجل من المنافقین یحدثنا محمد ان ناقۃ فلان بواد کذا وکذا فی یوم کذا وکذا وما یدریہ الغیب ( ) منافقین میں سے ایک شخص نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں شخص کی اونٹنی فلاں دن فلاں وادی میں تھی وہ غیب کیا جانیں ۔

مطلب یہ کہ ایک شخص کی اونٹنی گم ہو گئی تھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ وہ فلاں وادی میں ہے۔ ایک منافق بولا: وہ غیب کی خبر یں کیا جانیں ، اس پر اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا کہ منافقین جو بطریق استہزاء کہتے ہیں کہ حضرت غیب کی خبر کیا جانیں اور اس کے لئے بہانے بنا تے ہیں ، ان سے کہہ دیجئے کہ اس استہزاء کے سبب تم کا فر ہو گئے۔یہ قصہ غز وۂ تبو ک میں پیش آیا تھاجسے ہم بروایت ابن اسحاق و واقدی پہلے نقل کر آئے ہیں ۔
’’ اخباربالمغیبات ‘‘ (۱ ) کی دو قسمیں ہیں : ایک تو وہ جو قرآن مجید میں مذ کور ہیں ، دوسرے وہ جو احادیث میں وارد ہیں ۔ قسم اوَّل کا ذکر اعجاز القرآن میں ہو چکا، قسم دُوُم کی چند اور مثالیں یہ ہیں :
کفار پر اپنی امت کے غلبہ کی خبر دینا۔حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن کی طرف روانہ کر تے وقت فرمادینا کہ اس سال کے بعد تو مجھے نہ پا ئے گا۔ حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو راستے کے امن کی خبر دینا اور فرمادینا کہ اگر تیری زندگی دراز ہوئی تو دیکھ لے گا کہ ایک عورت حِیْرَہ سے تنہاسفرکر کے خانہ کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا۔ صحیفہء قریش جسے انہوں نے بحفاظت تمام خانہ کعبہ کی چھت میں رکھا تھا اس کی نسبت تین سال کے بعد بتا دینا کہ اللّٰہکے نام کے سوا باقی کو دیمک چاٹ گئی ہے۔ حضرت فاطمۃالز ہر اکی نسبت فرمانا کہ اہل بیت میں سے میری وفات کے بعد وہ سب سے پہلے میرے پاس پہنچے گی۔ ام المومنین حضرت زینب کی نسبت یوں فرمانا کہ میری وفات کے بعد میرے اَزواج میں سے سب سے پہلے جو مجھ سے ملے گی وہ دراز دست (لمبے ہاتھ والی) ہے۔ ابی بن خلف کی نسبت خبر دینا کہ یہ میرے ہاتھ سے قتل ہو گا۔ اصحمہ نجاشی کی موت کی خبر دینا جس دن اس نے حبشہ میں وفات پائی۔ شب معراج کی صبح کو قریش کے قافلوں کی خبر دینا جو تجارت کے لئے شام کو گئے ہوئے تھے۔ غارِ ثور سے نکلنے کے بعد مدینہ کے راستے میں سر اقہ بن مالک سے فرمانا کہ تو کسریٰ کے کنگن پہنا یا جائے گا۔ سلسلہ خلافت اور خلفائے ثلا ثہ حضرت عمرو عثمان وعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شہادت کی خبر دینا، واقعہ جمل وصفین کی خبر دینا، وباء عمواس کی خبر دینا، حضرت اما م حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دو گروہ اسلام میں ذریعۂ صلح ہو نے کی خبر دینا، حضرت امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کی خبر دینا، حضرت امیر معاو یہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولایت کی خبر دینا، حضرت عمار بن یاسر رَضِیَ

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرما دینا کہ تجھے باغی گر وہ قتل کر ے گا، خلفا ئے بنی امیہ وبنی عباس کے حالات کی خبر دینا، حجاج ظالم اور مختار کذاب کی خبر دینا، حضرت عبد اللّٰہ بن زبیر کی نسبت فرمانا کہ یہ بیت اللّٰہ شریف کو بچائے گایہاں تک کہ شہید ہو جائے گا، خوارج ور افضہ وقدر یہ ومرجئہ وز ناد قہ کی خبر دینا ، امت کے تہتر فرقے ہو نے اور ان میں سے ایک کے ناجی ہو نے کی خبر دینا، غزوۂ احد میں خبر دینا کہ حضرت حنظلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں ، بدر کے میدان جنگ میں کفار قریش کے مر نے کی جگہوں کا الگ تھلگ نشان دینا کہ یہاں فلاں کا فر مر ے گا اور وہاں فلاں ، جنگ بدر کے خاتمہ پر اپنے چچا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بتا دینا کہ تم اپنی بیوی ام الفضل کے پاس مکہ میں مال چھوڑ آئے ہو حالانکہ عباس وام الفضل کے سوا کسی اور کو اس مال کا علم نہ تھا، غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ کے قریب فرما دینا کہ یہ تیز ہوا ایک بڑے منافق (رفاعہ بن زید بن التابوت ) کی موت کے لئے چلی ہے، حضرت اقرع بن شقی العکی سے حالت بیماری میں فرمادینا: تو اس بیماری میں نہیں مرے گا بلکہ ملک شام میں ہجرت کرے گا اور وہیں وفات پائے گا اور رملہ میں دفن ہو گا، فتح مکہ کی تیار یوں کے وقت حاطب بن ابی بَلتَعَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خط کی خبر دینا جواس نے اہل مکہ کو ان تیار یوں سے مطلع کرنے کے لئے لکھا تھا اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ سے بتا دینا کہ اس حلیہ کی ایک عورت اس خط کو لے جارہی ہے اور تم اسے فلاں جگہ جا پکڑ و گے، وفدعبد القیس کے آنے کی خبر دینا، غز وۂ موتہ جو مدینہ منورہ سے ایک مہینہ کی مسافت پر ملک شام میں ہو رہا تھا اس کی نسبت خبر دینا کہ حضرت زید وجعفر وابن رواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْیکے بعد دیگر ے شہید ہوگئے اور آخر حضرت خالد نے فتح پائی، مقام تبو ک میں جو شام ومدینہ کے درمیان ہے فرمادینا کہ آج مدینہ میں حضرت معاویہ لیثی نے انتقال فرمایا اور وہیں ان کی نماز پڑھنا، کسریٰ وقیصر کے ہلاک ہو نے اور فارس وروم کے فتح ہو نے کی خبر دینا، لبید بن عاصم یہودی کے جادو کی خبر دینا، مومنین ومنافقین کے اَسرار کی خبر دینا، حضرت اویس قرنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خبر دینا، بنا ئے بغداد و بصرہ و کوفہ کی خبر دینا، امام ابو حنیفہ ومالک وشافعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی بشارت دینا وغیرہ وغیرہ یہ تمام امور اسی طرح وقوع میں آئے جس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر دی تھی۔
قیامت کی نشانیاں جو آپ نے بیان فرمائیں وہ ان کے علاوہ ہیں اور وہ تین قسم کی ہیں : پہلی دو قسموں کو آثارِ صغریٰ سے تعبیر کیاجا تا ہے اور تیسری کو آثارِ کبریٰ کہتے ہیں ۔
اوّل: وہ آثار جو وقوع میں آچکے مثلاً حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات شریف، تمام صحابہ کرام رَضِیَ

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا اس دنیا سے رحلت فرمانا، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شہید ہونا، تاتاریوں کا فتنہ، حجازکی آگ، جھوٹے دجالوں کا دعوائے رسالت کے ساتھ نکلنا، بیت المقد س اور مدائن کافتح ہو جانا، سلطنت عرب کا زائل ہو جانا، تین خسوف کا وقوع، (ایک مشرق میں ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں ) (۱ ) قتل اور فتنوں اور زلزلوں کی کثرت، مسخ و قذف، ریح احمر ، انقطاع طریق حج، ( ۲) کعبۃ اللّٰہ سے حجر اسو د کا اٹھ جانا، (۳ ) کثرت موت وغیرہ۔
دوم: وہ آثار جو ظہور میں آچکے اور زیادہ ہو رہے ہیں حتی کہ قسم سو م سے مل جائیں گے۔مثلا عابد وں کا جاہل ہو نا، قاریوں کا فا سق ہو نا، چاند وں کا اتنا بڑا نظر آنا کہ کہاجائے یہ دوسری رات کا چاندہے، بارش کا زیادہ ہو نا اور روئیدگی ( ۴) کا کم ہونا، قاریوں کی کثرت اور فقہاء کی قلت، امیر وں کی کثرت اور امینوں کی قلت، فاسقوں کا سر دار قبیلہ اور فاجر وں کا حاکم بازار بننا، مومن کا اپنے قبیلہ میں نقد ( ۵) سے زیادہ ذلیل ہو نا، تجارت کی کثرت، عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ شریک تجارت ہونا، قطع رحم کر نا، کاتبوں کی کثرت اور علماء کی قلت، جھوٹی گواہی کا ظاہر ہو نا، امانت کو غنیمت سمجھنا، زکوٰۃ کو تاوان خیال کر نا، علم دین کو دنیا کی خاطر سیکھنا، عقوقِ والدین ( ۶) کی کثرت، بڑوں کی عزت نہ ہونا، چھوٹوں پر رحم نہ کیا جانا، اولا دِ زِنا کی کثرت، اونچے محلوں پر فخر کر نا، مسجد وں میں دنیا کی باتیں کر نا، نماز پڑھا نے کے لئے مسجد وں میں اماموں کا نہ ملنا، بغیر شروط و ارکان نمازیں پڑھنا حتیٰ کہ پچاس میں سے ایک نماز کا بھی قابل قبول نہ ہونا، مسجد وں کی آرائش کر نا، مسجدوں

کو راستے بنا نا، قریبی لڑکی سے اس کی مفلسی کے سبب نکاح نہ کرنا اور کسی دَنیۃ الاصل (۱ ) سے اس کی دولتمند ی کے سبب نکاح کر لینا، ناحق مال لینا، حلال درہم کانہ پایا جانا، سائل کا محروم رہنا، اسلام کا غریب ہونا، لوگوں میں کینہ وبغض ہونا، عمر یں کم ہونا، درختوں کے پھلوں کاکم ہونا، جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا جاننا، مال حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی منافقانہ مدح کرنا، خطباء کا جھوٹ بولنا، حکام کا ظلم کرنا، نجومیوں کو سچاجاننا، قضاء وقدر کو حق نہ جاننا، مرد کا عورت یا دوسرے مرد سے لواطت کرنا، جہاد نہ کرنا، مالداروں کی تعظیم کرنا، کبیرہ گناہوں کو حلال جاننا، سود اور رشوت کھانا، قرآن کو مزامیر بنانا، درندوں کے چمڑوں کے فرش بنا نا، ریشم پہننا، جہالت وزنا وشراب نو شی کی کثرت، خائن کو امین اور امین کو خائن سمجھنا، گانے والی لونڈیوں کا رکھنا، آلات لہو کا حلال سمجھنا، حدود شرعیہ کا جاری نہ ہونا، عہد تو ڑنا، عورتوں کا مر دوں سے اور مردوں کا عورتوں سے مشابہت پیدا کر نا، اخیر امت کا اوَّل امت کو برا کہنا، مردوں کا عمامے چھوڑ کر عجمیوں کی طرح تاج پہننا، قرآن کو تجارت بنا نا، مال میں سے اللّٰہ کا حق ادا نہ کر نا، جو اء کھیلنا، باجے بجانا، کم تولنا، جاہلوں کو حاکم بنانا، مسجدیں بنانے پر فخر کرنا، مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت یہاں تک کہ ایک مر دپچا س عورتوں کا متکفل ہو گاوغیرہ وغیرہ۔ (۲ )
سوم: آثار کبریٰ جن کے بعد ہی قیامت آجائے گی یہ آثا ر یکے بعد دیگر ے پے درپے ظاہر ہونگے جیسے سلک مروارید ( ۳) سے موتی گرتے ہیں ، اما م مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ظہور سے شروع ہو کر نفخ صور پر ختم ہو جائیں گے۔ ان کا بیان جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیثوں میں پا یا جاتا ہے اس کا خلاصہ حسب معلومات خود نیچے درج کیا جا تا ہے:
جب آثا رِصغریٰ سب ظاہر ہو چکیں گے تو اس وقت نصاریٰ کا غلبہ ہو گا، ایک مدت کے بعد خالد بن یزید بن ابی سفیان اموی کی اولاد سے ایک شخص سفیان نام جانب دمشق سے ظاہر ہو گا جس کی ننھیال قبیلہ قلب ہو گا وہ اہل بیت کو بری طرح قتل کرے گا، شام ومصر کے اطراف میں اس کا حکم جاری ہو گا۔ اسی اثناء میں شاہ روم کی عیسائیوں کے ایک فرقہ سے جنگ اور دوسرے سے صلح ہو گی، لڑنے والا فرقہ قُسْطَنْطِیْنِیَّہ پر قبضہ کر لے گا، شاہ روم ملک شام میں آجا ئے گا اور دوسرے فرقہ کی مدد سے ایک خونریز لڑائی کے بعد فتح پائے گا، دشمن کی شکست کے بعد فر قۂ موافق میں سے ایک شخص بول اٹھے گا کہ یہ فتح صلیب کی بر کت سے ہوئی ہے۔ اسلامی لشکر میں سے ایک شخص اسے مار پیٹ کرے گا اور کہے گا: نہیں بلکہ اسلام
کی برکت سے ایسا ہوا ہے۔ الغرض دونوں اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے پکار یں گے اور ’’ خانہ جنگی ‘‘ شروع ہو جائے گی (۱ ) جس میں بادشاہِ اسلام شہید ہو جائے گا اور دونوں عیسائی فریق باہم صلح کرلیں گے اس طرح شام میں عیسائی راج ہو جائے گا۔ بقیتہ السیف (۲ ) مسلمان مدینہ منورہ چلے آئیں گے اور عیسائیوں کی حکومت مدینہ منورہ کے قریب خیبر تک پھیل جائے گی۔ اس وقت اہل اسلام کو امام مہد ی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تلاش ہو گی۔

________________________________
1 – ترجمۂکنزالایمان:یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے۔(پ۱۳،یوسف:۱۰۲) ۔علمیہ
2 – ترجمۂکنزالایمان:اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔(پ۲۷،النجم:۱۰)۔علمیہ
3 – ترجمۂکنزالایمان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ (پ۲۹،الجن:۲۶۔۲۷)۔علمیہ
4 – ایمان والے۔

________________________________

6 – یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو علم غیب خود سے ہے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو غیب کی خبریں ارشاد فرمائیں ان کا علم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔علمیہ
1 – ترجمۂکنزالایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(پ۲،البقرۃ:۱۴۳)۔علمیہ
2 – ترجمۂکنزالایمان:یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں ۔(پ۳،اٰل عمرٰن:۴۴)۔علمیہ
3 – ترجمۂکنزالایمان:اور اللّٰہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دیدے ہاں اللّٰہچن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۷۹) ۔علمیہ
4 – ترجمۂکنزالایمان:اور اللّٰہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ (پ۵،النساء:۱۱۳)
5 – ترجمۂکنزالایمان:یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں انہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس سے پہلے ۔(پ۱۲،ہود:۴۹)

________________________________
1 – تفسیر روح البیان،سورۃ البقرۃ،تحت الایۃ:۱۴۳،ج۱،الجزء۲،ص۲۴۸۔علمیہ
2 – پ۲،البقرۃ:۱۴۳۔علمیہ
3 – یعنی نیند کی حالت۔
4 – مکتوبات احمدیہ، جلد اول، مکتوب ۹۹۔ (مکتوبات امام ربانی،دفتر اول،حصہ دوم،مکتوب۹۹،ج۱،ص۹۹۔علمیہ)

________________________________
1 – المواھب اللدنیۃ مع شرح زرقانی،المقصد العاشر، الفصل الثانی فی زیارۃ قبرھ الشریف ۔۔۔الخ،ج۱۲،ص۱۹۵۔علمیہ
2 – امت کو ملاحظہ فرمانے اور ان کے حالات،نیتیں ارادے اور دلی خیالات کا علم ہونے میں ۔

________________________________
1 – المدخل،فصل فی زیارۃ القبور،الوجہ الثالث،ج۱،ص۱۹۰۔علمیہ
2 – انتباہ الاذکیاء فی حیات الانبیاء، مطبوعہ مطبع محمدی واقع لاہور۔ (الحاوی للفتاوی،کتاب البعث،انباء الاذکیاء بحیاۃ الانبیاء، ج۲، ص۱۸۴۔علمیہ)

________________________________
1 – مشکوٰۃ، کتاب الفتن، فصل اول۔
2 – مشکاۃکتاب الفتن،الفصل الاول،الحدیث:۵۳۷۹،ج۲،ص۲۷۸ ۔علمیہ
3 – صحیح مسلم، جلد ثانی، کتاب الفتن۔
4 – صحیح مسلم،کتاب الفتن۔۔۔الخ،باب اخبار النبی فی ما یکون الی۔۔۔الخ، الحدیث:۲۸۹۲،ص۱۵۴۶۔علمیہ

________________________________
1 – صحیح مسلم، کتاب الفتن۔ (صحیح مسلم،کتاب الفتن۔۔۔الخ،باب ھلاک ھذھ الامۃ بعضھم۔۔۔الخ، الحدیث:۲۸۸۹، ص۱۵۴۴ ۔علمیہ)
2 – صحیح البخاری،کتاب الفتن،باب قول النبی ویل للعرب۔۔۔الخ،الحدیث:۷۰۶۰، ج۴،ص۴۳۱۔علمیہ
3 – عبارت است ازحصو ل تمام علوم جزئی وکلی واحاطۂ آں ۔ اشعۃ اللمعات۔۱۲منہ
4 – ترجمۂکنزالایمان:اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے۔(پ۷،الانعام:۷۵)۔علمیہ
5 – مشکوٰۃ، کتاب الصلوٰۃ، باب المساجد۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلوۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ،الحدیث: ۷۲۵،ج۱، ص۱۵۲۔علمیہ)

________________________________
1 – مشکوٰۃ، کتاب الایمان، باب الایمان بالقدر، فصل ثانی۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الایمان بالقدر، الحدیث: ۹۶،ج۱،ص۳۹۔علمیہ)
2 – مواہب لدنیہ، مقصد ثامن، فصل ثالث۔ (المواھب اللدنیۃ مع شرح زرقانی،المقصد الثامن،الفصل الثالث فی انبائہ بالانباء المغیبات،ج۱۰،ص۱۲۶۔علمیہ)

________________________________
1 – مواہب لدنیہ، مقصد ثامن، فصل ثالث۔ (المواھب اللدنیۃ مع شرح زرقانی، المقصد الثامن،الفصل الثالث فی انبائہ با لانباء المغیبات،ج۱۰،ص۱۲۳۔علمیہ)
2 – پانی و مٹی میں ۔
3 – خصائص کبریٰ للسیوطی، جز ء ثانی، ص ۱۹۷۔ (شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الرابع،الفصل الثانی فیما خصہ اللّٰہ بہ۔۔۔الخ،ج۷، ص۷۹۔علمیہ)
4 – مواہب لدنیہ، کتاب فی المعجزات والخصائص، الفصل الثانی فیما خصہ اللّٰہ تعالیٰ بہ من المعجزات۔ ایک روایت میں میری امت کی بجائے دنیا کالفظ ہے۔ دیکھو زرقانی۔ ( المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،المقصد الرابع، الفصل الثانی فیما خصہ اللّٰہ بہ۔۔ ۔۔الخ،ج۷،ص۷۹۔علمیہ)
5 – القصیدتان،البردۃ للبوصیری،الفصل العاشر فی ذکر المناجات،ص۳۶۔علمیہ

________________________________
1 – صحیح مسلم،کتاب الفتن۔۔۔الخ،باب فی الآیات التی۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۰۱،ص۱۵۵۱۔علمیہ
2 – حج کا موقوف ہو جانا۔
3 – حضرت سیدنا امام یوسف بن اسمٰعیل نبہانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ حج موقوف ہونے کا واقعہ ۳۲۰ ھ میں ہوااور فرقۂ قرامطہ کے فتنہ کے سبب بغداد شریف سے ۳۲۷ ھ تک حج کا سلسلہ موقوف رہا ۔ اسی طرح ۳۲۴ ھ میں عراق سے آنے والے حاجیوں کو راستے سے واپس لوٹنا پڑا کیونکہ اُصَیغَر اَعرابی نے انہیں باج (ٹیکس)لیے بغیر گزرنے سے روک دیا،اہل یمن و شام بھی حج نہ کرسکے ،صرف مصریوں نے حج کی سعادت پائی۔ خلافت بنو عثمان میں ، شیخ علوان حموی کے دور میں بھی شام کے راستے سے حج کا سلسلہ کئی سال موقوف رہا ۔اور حجر اسود اُکھیڑ کر لے جانے کا واقعہ خلیفہ مُقْتَدِربِاللّٰہ کے دور میں ہوااس نے جب حاجیوں کے ہمراہ منصور دیلمی کو مکہ مکرمہ روانہ کیا اور قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو اسی دوران دشمن خدا ابو طاہر قَرْمَطی یوم ترویہ کو وہاں پہنچ گیا اس نے مسجد حرام میں ہزاروں حاجیوں کو قتل کیا، حجر اسود کو اپنے گرز سے توڑ ڈالا اور اکھیڑ کر لے گیا ۔ بیس سال سے زیادہ عرصہ تک حجر اسود قَرَامِطہ کے قبضہ میں رہا پھرجب عباسی خلیفہ مطیع کے دور میں یہ مغلوب ہوئے تو حجر اسود کو لا کر دوبارہ کعبۃ اللّٰہ شریف کی دیوار میں نصب کردیا گیا۔ (حجۃ اللّٰہ علی العالمین،القسم الرابع،الباب الثانی،الفصل الثالث،ص۵۸۹)علمیہ
4 – ہریالی،سبزہ۔
5 – نقد بفتح نون وقاف۔ ایک قسم کی بدشکل بکری ہوتی ہے جس کے ہاتھ پاؤں چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں ۔ یہ ذلت میں ضرب المثل ہے۔ چنانچہ کہا جاتاہے: اَذَلُّ مِنَ النَّقَدِیعنی نقد سے زیادہ ذلیل۔ اس کی جمع نقاد ہے۔
6 – ماں باپ کی نافرمانی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *