عرب کی تاریخ ِقدیم پر طائر انہ نظر

عرب کی تاریخ ِقدیم پر طائر انہ نظر

 

زمانہ قدیم میں طوفانِ نوح کے بعد جزیر ۂ عرب میں سام بن نوح کی نسل کے لوگ آباد تھے۔چنانچہ بنویعرب بن قحطان بن عامر بن شالخ بن اَ رْفَخْشَدبن سام یمن میں بستے تھے۔بنو جرہم بن قحطان اور بنو عِمْلِیْق بن لَوذ بن سام حجاز میں رہتے تھے۔ بنوطَسَم بن لُوذ اور بنو جَدِیس بن عامر بن اِرَم بن سام یمامہ میں بحر ین تک پھیلے ہوئے تھے۔قوم عادبن عَوَض بن اِرَم شِحْر وعُمَان و حَضْرمَوت کے مابین اَحقاف میں آباد تھی اس قوم کی طرف اللّٰہ تعالٰی نے حضرت ہو د عَلَیْہِ السَّلَامکو بھیجاتھا۔قوم ثمودبن جاثَربن اِرَم حجاز وشام کے درمیان حجر میں آباد تھی۔ ان کی طرف حضرت صالح عَلَیْہِ السَّلَام بھیجے گئے تھے۔
ایک زمانہ گزرنے پر عاد وثمود وجَدِیس وعَمالِیق و جرہم فنا ہو گئے۔اس واسطے ان کو عرب بائِدہ (1) بو لتے ہیں ان میں سے جو باقی رہے وہ حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں مل جل گئے۔حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی شادی قبیلہ جرہم میں ہوئی تھی اس واسطے ان کی اولاد کو عرب مُستَعرِبہ کہتے ہیں (2) اور بنو قحطان کو عرب عارِبہ یعنی اصلی عرب بولتے ہیں ۔ القصَّہ مَذکورہ بالا تباہی و اِختلاط کے بعد عرب میں دو بڑے قبیلے رہ گئے۔ بنوقَحطان اور بنو عدنان (بنواسمٰعیل) ان دونوں کی بہت سی شاخیں تھیں ۔ اب عرب کا بڑا حصہ خاندانِ اسمٰعیل سے ہے اور خود حضور سید المر سلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اسی خاند ان سے ہیں ۔
قدیم الا یَّام سے عربوں کی تجارت مصروشام کے ساتھ تھی۔چنانچہ جب بھائیوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو کنوئیں میں گر ادیا تو انہوں نے دیکھا کہ گِلْعاد سے اسماعیلیوں کا قافلہ آرہا ہے۔جن کے اُونٹوں پر اَدْوِیَ (3) وبَلَسان (4) ومُر (5) لد ے ہوئے ہیں اور وہ مصر کو جارہے ہیں ۔ (6) یہ چیز یں لاشوں کے معطربنا نے میں مصریوں کے کام

آیا کر تی تھیں ۔اس کے مدتوں بعد وہ اَہالی صُوَر (1) کے ساتھ مویشیوں اور اَدْوِیَہ اور بیش بہا پتھر وں اور سونے کی تجارت کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔ (2)
قرونِ ماضیہ (3) میں عربوں پر بہت سے بیر ونی حملے ہوئے مگر وہ کسی کے ماتحت نہ رہے، چنانچہ مصری فاتح شیشک ان کو زیر نہ کر سکا۔قیر وش فارِسی (.4مُتَوَ فّٰی.4 ۵۲۹قبل مسیح) نے عرب کے شِمالی حصے کے بعض عربوں کو مغلوب کیا مگر مؤرخ ہِیرُودَوتَس (4) (.4مُتَوَفّٰی ۴۲۴قبل مسیح) ہمیں یقین دلا تا ہے کہ دار ا ہشتاسپ (جس نے سلطنت ِفارِس کی تو سیع کی تھی) کے عہد میں عرب خراج سے بری تھے۔ بخت نَصَّربابلی نے ان پر حملہ کیا اور ان کے بہت سے شہر فتح کیے مگر غنیمت لے کر اپنے وطن کو چلا آیا۔ (5) سکند رِاعظم کا جانشین اَنْطِیغَونَس (6) (.4مُتَوَ .4فّٰی ۳۰۱قبل مسیح ) ان پر حملہ آور ہوا، مگر اسے ان کے ساتھ ان ہی کی شرائط پر صلح کر نی پڑ ی۔رومی فاتح پومپے (مولود ۱۰۶ قبل مسیح) نے ملک عرب کے ایک حصے کو تاخت وتاراج (7) کیامگر اس کی فوج پسپا ہوئی تو عربوں نے شدت سے تعاقب کیا اور وہ کچھ عرصے تک شام میں رومیوں کو تنگ کر تے رہے ، ولادتِ مسیح سے تقریباً ۲۳ سال پہلے رومی سپہ سالار الیوس گا لس بُحَیْرَۂ قُلْزُم تک آیا۔اس نے چاہاکہ عرب کو فتح کر لے مگر ناکام رہا۔ طراجان رومی نے ۱۲۰ء کے قریب ان پر حملہ کیا اور شہر حجر کا محاصرہ کر لیا مگر رَعْدوژالہ و گِردباد (8) اور مکھیوں کے جُھنڈ کے سبب سے اس کا لشکر کامیاب نہ ہوا۔جب وہ حملہ کر تے تو یہی آفتیں پیش آتیں ۔ ۲۰۰ء کے قریب سیو اروس رومی نے لشکر کثیر اور سامان ِحرب کے ساتھ شہر حجر کا دوبارہ محاصرہ کیا مگر لشکر وشاہ کے درمیان ایک بے وجہ تنا زُع نے شاہ کو محاصرہ اٹھا لینے پر مجبور کر دیا۔ (9)
شاہِ فارِس شاپور ذوالاکتاف نے عرب پر حملہ کیا تو بحرین وہجر ویمامہ میں کشْت وخون کر تا ہوا مدینہ تک پہنچ گیا۔ سردار ان ِعرب جو گر فتار ہو کر آتے تھے وہ انکے مونڈھے نکال دیتا تھا اس لئے اسے ذوالاکتاف کہتے تھے۔ (10) مگر اسی
بادشاہ نے ۳۶۰ء کے قریب تکریت پر جو خود مختار عربوں کا ایک مضبوط قلعہ تھا حملہ کیا تو ناکام رہا۔ (1)
دسویں صدی قبل مسیح میں یمن میں ملوکِ حمیر بن سبامیں سے ایک فاسق خبیث بادشاہ مالک نام تھا وہ باکر ہ عورتوں کو بلا کر ان کی آبر و ریزی کر تا تھا چنانچہ اس نے اپنی چچا زاد بہن بِلقیس سے بھی یہی ارادہ ظاہر کیا۔ بِلقیس نے کہاکہ میرے محل میں آجانا اور اس کے قتل کر نے کے لئے اپنے اقرباء میں سے دوآدمی مقرر کیے۔جب وہ محل میں داخل ہوا تو ان آدمیوں نے اسے قتل کر ڈالا۔اہل یَمَن نے اسی سبب سے بِلقیس کو اپنا حکمر ان بنا یا ورنہ وہ عورت کی حکومت کو پسند نہ کر تے تھے۔یہ وہی بِلقیس ہے جس کا قصہ قرآن مجید میں مذکورہے۔ (2)
بِلقیس کے بعد خاندان حِمیرکے بہت سے بادشاہ یکے بعد دیگرے تخت ِیَمَن پر متمکن ہو ئے۔جب اہل یَمَن نے خدا تعالٰی کی نافرمانی کی تو ان پر سَیْلِ عَرِم (3) بھیجا گیا جس سے ان کے باغات وغیرہ بر باد ہوگئے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں وارِدہے وہ رزق ومعاش کی تلا ش میں مختلف اَطر اف کو ہجرت کر کے چلے گئے چنانچہ بنو لخم بن عَدِی کی ایک جماعت خراسان کی طرف نکلی انہوں نے دریائے فرات کے قریب شہر حیرہ کی بنا ڈالی جو بعد میں اسی خاندان کا دَارُ السلطنت رہا۔ مُلُوک بنولَخْمیہ و مَنا ذِرَہ ۶۳۴ء تک اَکاسِرہ (4) کی طرف سے عراق پر گو رنر ہوتے رہے اس کے بعد اسلام کا تَسلُّط ہو گیا۔
بنو لخم کی طرح بنو قحطان کی ایک جماعت ہجرت کر کے دِمَشْق کے متصل ایک چشمہ پر جسے غَسَّان کہتے تھے جا اُتری۔ وہ آخرکا ر شام کے حکمر ان بن گئے۔ ملوکِ غَسَّان جنہیں مؤر خینِ عرب، عربِ مُتَنَصِّرَہ (5) سے تعبیر کر تے ہیں قیاصر ہ روم (6) کی طرف سے قریباً ۲۰۰ء سے ۲۳۶ء تک ملک شام میں حکمر انی کر تے رہے۔اس خاندان کا آخری بادشاہ جبلہ بن اَیہم تھا جو بھاگ کر قیصرکے ہاں چلا گیا تھا اس کے بعد یہ ملک حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد میں مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔
بنو قحطان میں سے قبیلہ اَزْدکے دوبھائی اَوس وخَزرَج مدینہ میں آبسے۔ انصار ان ہی کی اولا د میں سے ہیں ۔

قحطان یوں میں سے بعضے اندرون جزیرہ عرب میں چلے گئے۔ چنانچہ مُلُوکِ کندَہ نے نجد میں اپنی سلطنت قائم کی ان کے علاوہ عرب میں اور متفرق ملوک تھے جن کے ذکر کی یہاں چند اں ضرورت نہیں ۔
سَیْلِ عَرِم (1) کے بعد جو لوگ یَمَن میں رہ گئے ان پر بنو قحطان بدستور حکمر انی کرتے رہے ان بادشاہوں میں سے ایک کانام شمربن اَفریقیس بن اَبْرَہَہ تھا۔ کہتے ہیں کہ شمر مذکوربڑاعالی ہمت تھا اس نے عراق پر لشکر کشی کی اور اسے فتح کر کے چین کی طرف روانہ ہوا راستے میں جب وہ صغد میں پہنچا تو اس نواح کے باشند ے ایک مقام میں پناہ گزین ہوگئے۔شمر نے چاروں طرف سے محاصرہ کر کے ان کو قتل کیا اور اس مقام کو کھدواکر ویران کر دیااس واسطے اس مقام کو شمر کند کہنے لگے، جسے عرب معرب کر کے سمر قند بو لتے تھے۔ شمروہاں سے چین کی طرف بڑھامگر وہ اور اس کی فوج پیاس سے ہلاک ہو گئی۔ (2)
تَبَابِع (3) یمن (4) میں سے تُبّان اسعد ابو کرب تھا۔وہ بلا دِ مشرق کو فتح کر کے واپس آتا ہوامد ینہ میں اترا، جہاں وہ جاتا ہوا اپنے بیٹے کو چھوڑ گیا تھا مگر اس کو کسی نے ناگہاں قتل کر دیا تھا اس لئے تبَّع مذکورہ نے مدینہ اور اہل مدینہ کو تباہ کر نا چاہا مگر یہودِ بنی قُرَیْظَہ سے دوعالموں نے تبَّع کو منع کیا۔اس نے وجہ دریافت کی تو عالموں نے کہا کہ ٓاخرزمانہ میں قریش میں سے ایک پیغمبر پیدا ہوگا جس کی ہجرت اسی شہر مدینہ کی طرف ہوگی۔ وہ یہ سن کے باز آیا اور اس نے مذہب ِیہوداِختیار کر لیا۔
تبَّع مذکورہ مدینہ سے اپنے وطن یَمَن کی طرف روانہ ہو ا، را ستے میں اس نے مکہ میں چھ دن قیام کیا اور طواف کر کے کعبہ پر بُردِ یَمانی چڑھائی۔ یہ تبَّع پہلا شخص ہے جس نے سب سے پہلے کعبۃ اللّٰہ پر پر دہ چڑھایا۔مکہ سے وہ یَمَن میں آیا دونوں عالم اس کے ساتھ تھے ا س نے اپنی قوم یعنی حِمیر کو یہودیت کی دعوت دی۔ حِمیر اس وقت تک بت پرست تھے انہوں نے تبَّع کی دعوت سے آخر کارمذ ہب یہوداختیار کر لیا۔
تُبّان اسعد کے بعد اس کے بیٹے حسان کو عَمْرْو (5) بن تبان اسعد نے ملک کے لالچ میں قتل کر دیا۔عَمرو مَذکور بھی جلدی ہلاک ہو گیا اور حِمیر کی سلطنت کا شیر ازہ پر اگندہ ہوگیا۔ لخنیعہ ینوف ذُوشَناتر جو شاہی خاندان میں سے نہ تھاان کا بادشاہ بن بیٹھا۔وہ فاسق خبیث تھا۔ اَبنائے مُلوک (6) سے لواطت کیا کر تا تھا تا کہ وہ بادشاہ نہ بن جائیں کیونکہ اس زمانے میں عرب

کی عادت تھی کہ ایسے شہزادے کو بادشاہ نہ بنا تے تھے۔زُرْعہ بن تُبَّان اسعداپنے بھائی حسان کے قتل کے وقت بچہ ہی تھا وہ بہت خوبصورت تھا اس کے سر کے بال پیٹھ تک پہنچتے تھے اس واسطے اس کا لقب ذُونواس تھا خوبصورتی کے سبب سے لوگ اسے یوسف کہا کر تے تھے۔ذوشناتر نے اسے بلا بھیجا۔ ذُونواس سمجھ گیا اور ایک تیز چھری جو تے میں پاؤں تلے چھپا کر لے گیاجب وہ خلوت میں پہنچا تو اسی چھری سے ذوشنا تر کا کام تمام کر دیا، یہ شجاعت دیکھ کر حِمیر نے ذُونواس ہی کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔اہل نجر ان اس وقت عیسا ئی تھے ذُونواس لشکر سمیت نَجران میں گیا اور اس نے اہل نَجران کو یہودیت کی دعوت دی۔ ذُونواس نے ایک خندق ُکھد واکر آگ سے بھردی، جو لوگ یہودی ہو نے سے انکار کر تے وہ ان کو آگ میں گر ادیتا تھا۔ قرآنِ کریم میں اسی ذُونواس اور اس کے اصحاب کو سو رۂ بروج میں اَصحابُ الا ُخْدُود کہا گیا ہے۔ نَجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص دَوْس ذُوْثَعْلَبان قیصر روم جستینین (.4مُتَوَفّٰی ۵۶۵ء) کے پاس پہنچااور اسے سب ماجر اکہہ سنا یا۔ قیصر نے جواب دیا کہ تمہارا ملک ہم سے بہت دور ہے ہم شاہِ حبشہ نجاشی کو جو عیسائی ہے تمہاری مدد کے لئے لکھ دیتے ہیں ، چنانچہ دَوس قیصر کا نامہ نجاشی کے پاس لایا۔نجاشی نے اپنے ایک امیراَرْیاط کو لشکر جرار دے کر دوس کے ساتھ روانہ کیا۔اس لشکر میں اَبْرَہَہ اَشْرَم بھی تھا۔ذُونواس کو شکست ہوئی وہ بد یں خیال کہ مبادا دشمن کے ہاتھ گر فتارہو جائے ۵۲۸ء میں سمند ر میں ڈوب کر مر گیا۔ اَرْیاط ۵۲۹ء سے ۵۴۹ء تک یَمَن میں حکمران رہا، وہ کمزوروں پر تَعَدِّی (1) کیا کر تا تھا، اس لئے بہت سی رعیت اس کے خلاف اَبْرَہَہ سے مل گئی۔اَبْرَہَہ نے اَرْیاط سے کہا کہ ہم دونوں سمجھ لیں چنانچہ دونوں لڑ نے لگے۔اَبْرَہَہ نے پس پشت ایک غلام کو مقرر کیا تھا۔جب اَرْیاط نے حربہ مارا تو اَبْرَہَہ کی پیشانی پر پڑا اور اس کی آنکھ، ناک اور ہونٹ کاٹ دیئے۔ اسی سبب سے اس کو اَبْرَہَہ اَشْرَم کہتے ہیں ۔یہ دیکھ کر اس غلام نے اَبْرَہَہ کی پشت کی طرف سے نکل کر اَرْیاط کو قتل کر ڈالا۔اس طرح حبشہ اور یَمَن نے اَبْرَہَہ کو بادشاہ تسلیم کر لیا۔نجاشی یہ حال سن کر اَبْرَہَہ پر ناراض ہو امگر اَبْرَہَہ نے معافی مانگ کر اس کورا ضی کر لیا۔اسی اَبْرَہَہ نے صَنْعَاء میں ایک گر جابنا یا تھا، تاکہ عرب بجائے کعبۃ اللّٰہکے اس کا طواف کیا کریں ، مگر بنو کنانہ میں سے ایک شخص نے اس میں بول وبر از (2) کر دیا۔اس پر اَبْرَہَہ ہاتھی لے کر خانہ کعبہ کو ڈھا نے آیا مگر وہ اور اس کی فوج تباہ ہو گئی۔یہ قصۂ اصحابِ فیل قرآن مجید میں مذکور ہے۔حضور ختم المر سلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تولد شریف اس واقعہ کے پچپن دن بعد ہوا۔
اَبْرَہَہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم تخت ِیَمَن پر بیٹھامگر جلد ہی ہلاک ہو گیا۔پھر یکسوم کا بھائی مسروق تخت نشین ہوا۔ اہل یَمَن اَجنبیوں کی حکومت سے تنگ آئے ہوئے تھے۔اس لئے سیف بن ذِی یزن حمیر ی قیصرروم کے پاس گیا اور اپنے ملک کو غیر وں کی غلامی سے آزاد کر نے کے لئے اس سے مدد مانگی۔قیصر نے مدد دینے سے انکار کردیا اس لئے وہ کسریٰ نوشیرواں کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہمارے ملک پر اَجنبیوں کی حکومت ہے اگر آپ مددکریں تو ہمارا ملک آپ کے زیر فرمان ہو جائے گا۔ کسریٰ کے ایک مَرزبان نے یہ مشورہ دیاکہ بادشاہ کے قید خانہ میں آٹھ سو آدمی واجب القتل موجود ہیں ان کو بھیج دیا جائے۔اگر وہ ہلا ک ہو گئے فَہُوَا لْمُرَاد اور اگر فتحیاب ہوگئے تو علاقہ مفتوحہ آپ کے قبضے میں آجائے گا، چنانچہ قید یوں میں سے ایک شخص وَہْرِز کی سر کردگی میں وہ سب مہم یَمَن پر بھیج دیئے گئے۔ اہل فارِس کو فتح نصیب ہوئی اور مسروق مار اگیا۔اس طرح حبشہ کا تصرف یَمَن پر بہتّر سال (۵۲۹ء سے ۶۰۱ء تک) رہا۔
وَہْرِز کے بعد کسریٰ کی طرف مَر زُبان بن وَہْرِز پھر تینُجَانبن مَر زبان نائب السلطنت مقرر ہوا۔ تینُجَان کے بعد اس کابیٹا جانشین ہوا مگر کسریٰ نے اسے معزول کر کے باذان کو اپنا نائب مقرر کیا۔ جب حضور سید المر سلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممبعوث ہوئے تو اس وقت یہی باذان حاکم ِیمن تھا۔ جب کسریٰ (خسروپر ویز ) کو حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت کی خبر پہنچی تو اس نے باذان کو لکھا کہ تم اس مُدَّعی نبوت کے پاس جاؤاور اسے کہہ دو کہ اپنے دعوے سے بازآجائے ورنہ اس کا سر قلم کر کے ہمارے پاس بھیج دو۔ باذان نے وہ خط رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اَقدس میں بھیج دیا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے باذان کو جواب میں لکھا کہ کسریٰ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قتل ہوجائے گا۔جب یہ نامہ باذان کو مِلا تو کہنے لگا کہ اگر وہ نبی ہیں تو ایساہی ہو گا۔چنانچہ کسریٰ کو اس کے بیٹے شیر وزنے اسی مہینے اور اسی تاریخ کو قتل کر دیاجیسا کہ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔یہ دیکھ کر باذان اور دیگر اہل فارِس جو یمن میں تھے مشرف باسلام ہوئے۔ (1)
حروبِ عرب کی، جنہیں ا یامِ عرب سے تعبیرکیا جاتا ہے اس مختصر مقدمہ میں گنجائش نہیں ، عرب کی جاہلیت کی دینی و اَخلاقی حالت کا بیان آگے آ ئے گا ان شآء اللّٰہ تعالٰی۔

________________________________
1 – ہلاک ہونے والی قوم۔
2 – یعنی عرب میں آ کرآباد ہونے والے غیر عربی۔
3 – دوا کی جمع ہے۔
4 – ایک خاص قسم کے درخت کے پتے جن سے دوا حاصل کی جاتی ہے۔
5 – ایک دوا۔
6 – کتاب پیدائش، باب۳۷،آیۃ ۲۵۔

________________________________
1 – شام کے ساحلی شہر صور کے باشندوں ۔
2 – حزقیل باب ۲۷ آیۃ ۲۰تا۲۲۔
3 – گزشتہ زمانوں ۔
4 – Herodotus
5 – تاریخ کامل ابن اثیر۔(الکامل فی التاریخ،ذکر غزو بختنصرالعرب، ج۱، ص۲۰۶-۲۰۷ علمیہ)
6 – Antigonus
7 – تَہس نَہس۔
8 – بجلی کی کڑک، اَولوں اور تند و تیز ہواوؤں ۔
9 – لغت بائبل مصنفہ پادری جان برون مطبوعہ نیویارک ۱۸۳۳ء تحت لفظِ عرب۔
10 – تاریخ کامل ابن اثیر ذکر شافور ذُو الاکتاف۔ (الکامل فی التاریخ،ذکرملک ابنہ سابور ذی الاکتاف،ج۱، ص۳۰۱-۳۰۲علمیہ۔)

________________________________
1 – تنزل وزوال رومۃ الکبریٰ مصنفہ ایڈورڈگبن در چہار جلد،جلد اوّل ص۵۲۵۔
2 – الکامل فی التاریخ،ذکرما جری لہ مع بلقیس،ج۱،ص۱۷۷-۱۷۸ علمیہ۔
3 – تباہ کن سیلاب۔
4 – کِسریٰ کی جمع، کِسریٰ یعنی ایران کے بادشاہ۔
5 – یعنی مدد کیلئے کوشاں رہنے والے عربی۔
6 – قیصر کی جمع، قیصر یعنی روم کے بادشاہ۔

________________________________
1 – تباہ کن سیلاب۔
2 – معجم البلدان یاقوت حموی،تحت سمرقند۔(معجم البلدان لیاقوت حموی،باب السین والمیم ومایلیہما،تحت سمرقند،ج۵،ص۶۶۔علمیہ)
3 – یہاں سے سیرت ابن ہشام سے ماخوذ ہے۔
4 – یَمَنی بادشاہوں ۔
5 – عمر اور عمرو لکھنے میں یکساں ہیں اس لیے امتیاز کے لیے عَمْرْو کے ساتھ واو اور عُمَر بغیر واو کے لکھا جاتا ہے۔ علمیہ
6 – بادشاہوں کے بیٹوں ۔

 

________________________________
1 – الکامل فی التاریخ،ذکر حوادث العرب ایام قباذ وغیرہ،ج۱، ص۳۲۱-۳۴۸ و السیرۃ النبویۃلابن ھشام،ذکر ماانتھی الیہ امر الفرس بالیمن،ص۱۲-۳۲ علمیہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *