دوسرا سبق : پانی کی اَقسام  

دوسرا سبق : پانی کی اَقسام

پانی کی مندرجہ ذیل پانچ اَقسام ہیں ۔

(1): طاہِر مُطَہِّرغیرِ مَکرُوہ۔

خود پاک ہے ، پاک کرنے والا ہے اور اِس کا اِستعمال مکروہ نہیں۔

اور یہ مائِ مطلق ہے جس طرح بارش کا پانی ،سمندر ،برف اورکنویں وغیرہ کا پانی ۔
حکم: یہ مائِ مطلق ہے اور یہ حدث اور نجاست دونوں کودور کر دیتا ہے۔

(2): طاہِر مُطَہِّر مَکرُوہ۔

خود پاک ہے ،پاک کرنے والا ہے اور اِس کا اِستعمال مکروہِ تنزیہی (صغیرہ گناہ)ہے۔
یہ وہ پانی ہے جس سے بلی ،چوہے یا مرغی نے پانی پیا اور ہمیں اِن کے منہ کی پاکیزگی کا علم نہ ہو۔
بہر حال جب ہمیں پتہ چل جائے کہ اِن کا منہ پا ک ہے تو پھر کراہت ختم ہو جائے گی اور جب یہ پتہ چل جائے کہ منہ ناپاک ہے توپھر پانی ناپاک ہوگا،لہذٰا پانی کی پاکی اور ناپاکی کا حکم اِن جانوروں کے منہ کے لحاظ سے ہوگا۔
حکم: یہ پانی حدث اور نجاست کو دور کردیتا ہے مگر جس صورت میں اِس پانی کے علاوہ مطلق پانی ہوگا تو پھر اِس کا اِستعمال مکروہِ تنزیہی ہوگا اورجب اِس پانی کے علاوہ مائِ مطلق موجود نہ ہو تو پھر اِس کا اِستعمال مکروہ نہ ہوگا۔

(3): طاہِرغیرِ مُطَہِّر۔

خودپاک ہے لیکن پاک کرنے والا نہیں۔
اور یہ وہ پانی ہے جس کا رنگ، ذائقہ یا بو کسی پاک چیز کے ملانے سے بدل جائے۔
اِس پانی کی چند مثالیں ہیں۔
(۱): درختوں اور پھلو ں کا پانی۔
(۲): وہ پانی جو بدن کی پاکی حاصل کرنے میں اِستعمال کیا گیا ہو، جیسے: وہ پانی جو وضو کرنے والے شخص کے اَعضاء سے گرا ہوتو وہ پانی مستعمل کہلاتا ہے ۔
حکم: یہ پانی نجاستِ حسیہ(ظاہرہ) کو زائل کرتا ہے مگر حدث(بے وضو ہونا) کو دور نہیں کرتا۔

(4): مائِ نَجَسْ۔

یہ وہ پانی ہے جس میں نجاست گر جائے تو اِس کے کسی ایک وصف کو بدل ڈالے جب

کہ وہ پانی کثیر ہو یا اُس کا کوئی وصف بھی نہ بدلے جب کہ وہ پانی قلیل ہو(یعنی جب کثیر پانی ہو تو پھر نجاست پڑنے کی و جہ سے کوئی وصف بدلے گا تو وہ پانی ناپاک اور جب پانی کثیر نہ ہو، قلیل ہوتو صرف نجاست پڑنے سے ہی ناپاک ہوجائے گا اگرچہ پانی کا وصف نہ بھی بدلے)
حکم: یہ حدث اور نجاست دونوں کو دور نہیں کرتا۔

(۱): کثیر پانی

جب پانی رُکا ہوا ہو تو پھر دَہ دَر دَہ (یعنی دس ہاتھ لمبائی اور دس ہاتھ چوڑائی) کا حوض ہوگا تو یہ پانی کثیر میں شمار ہوگا(یعنی جب حوض کی کل لمبائی چوڑائی۱۰۰ ہاتھ ہو) اور جب پانی جاری ہو تو اُسے کثیر ہی کہیں گے اگرچہ وہ پانی دہ در دہ سے کم ہو۔
حکم: یہ پانی پاک ہے، پاک کرنے والا ہے مگر جب نجاست کی وجہ سے کوئی وصف بدل جائے تو پھر پاک کرنے والا نہیں ہوگا۔

(۲): قلیل پانی

وہ پانی جو کثیر پانی کی مقدار سے کم ہو۔
حکم: اگر اِس مائِ قلیل میں نجاست گر جائے تو یہ ناپاک ہو جاتاہے اگرچہ پانی کا کوئی وصف نہ بدلے۔

(5): مائِ مَشْکُوک۔

وہ پانی جس کی طہارت میں شک ہو،جیسے: وہ پانی جس سے گدھے نے پیا ہو۔
حکم: اگر کوئی شخص اِس پانی کے علاوہ کوئی اور پانی نہ پائے توپہلے اس پانی سے وضو کرے اورپھرتیمم بھی کرے اور شک کا سبب یہ ہے کہ فقہاء کے دَلائل میں اِختلاف ہے کہ کیا گدھے کا جھوٹاپاک ہے یا ناپاک ہے؟

ٖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *