Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حیض کے احکام و مسائل

حیض کا بیان

حیض کی تعریف

بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ ہونے کی وجہ سے نہ ہو، اُسے حیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نفاس کہتے ہیں ۔
مسئلہ۱: حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں ہیں یعنی پورے بہتر گھنٹے ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں ۔
مسئلہ۲: بہتر 72 گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہوجائے تو حیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے، ہاں اگر صبح کو کرن چمکتے ہی شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حیض ہے اور اس صورت میں بہتر گھنٹہ پور ا ہونا ضروری نہیں البتہ کسی اور وقت شروع ہو تو گھنٹوں ہی سے شمار ہوگا اور چوبیس گھنٹہ کا ایک دن رات لیا جائے گا۔ ( بہار شریعت)
مسئلہ۳: دس رات دن سے کچھ بھی زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اُسے آیا ہے تو دس دن تک حیض ہے بعد کا استحاضہ اور اگر پہلے اِسے حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا استحاضہ ہے، اِسے یوں سمجھو کہ پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حیض کے باقی سات
دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن آیا کبھی پانچ دن آیا تو پچھلی بار جتنے دن آیا اتنے ہی دن حیض کے سمجھے جائیں باقی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۴: یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جبھی حیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت آئے جب بھی حیض ہے۔

حیض آنے کی عمر

کم سے کم نوبرس کی عمر سے حیض شروع ہوگا اور انتہائی عمر حیض آنے کی پچپن سال کی عمر ہے، اس عمرو الی کو آئسہ اور اس عمر کو سن اِیاس کہتے ہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۵: نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آیا وہ استحاضہ ہے، یوں ہی پچپن سال کی عمر کے بعد جو خون آئے وہ استحاضہ ہے اگر پچپن برس کی عمر کے بعد خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اُسی رنگ کا آیا تو حیض ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۶: حمل والی کو جو خون آیااستحاضہ ہے یوں ہی بچہ ہوتے وقت جو خون آیا اور ابھی بچہ آدھے سے زیادہ باہر نہیں نکلا تو وہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۷: دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس و حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۸: حیض اس وقت شمار کیا جائے گا جب کہ خون فرج خارج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے خون فرج خارج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا رہا تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حیض والی نہ ہوگی، نمازیں پڑھے گی روزہ رکھے گی۔

حیض کے رنگ

مسئلہ۹: حیض کے چھ رنگ ہیں : سیاہ، سرخ، سبز، زرد، گدلا ، مٹیلا، سفیدرنگ کی رَطوبت حیض نہیں ۔
مسئلہ۱۰: دس دن کے اندر رَطوبت میں ذرا بھی میلا پن ہے تو وہ حیض ہے اور اگر دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لیے جو دن عادت کے ہیں اتنے دن حیض کے اور عادت کے بعد والے استحاضہ اور اگر کچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حیض، باقی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۱۱: جس عورت کو عمربھر خون آیا ہی نہیں یا آیا مگر تین دن سے کم آیا تو عمر بھر وہ پاک ہی رہی اور اگر ایک بار تین دن رات خون آیا پھر کبھی نہ آیا تو وہ فقط تین دن رات حیض کے ہیں ، باقی ہمیشہ کے لیے پاک۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!