حضرت قیس بن خرشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت قیس بن خرشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ قبیلہ بنی قیس بن ثعلبہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے اسلام لانے کی تاریخ متعین نہیں کی جاسکی لیکن یہ معلوم ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد یہ اپنے وطن سے مدینہ منورہ آئے اورحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روبرو حاضر ہو کر عرض گزارہوئے کہ یا رسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں ہر اس چیز پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اور عمر بھر حق گوئی کرنے پر آپ سے بیعت کرتاہوں ۔ آپ نے فرمایا: اے قیس!تم کیا کہتے ہوممکن ہے تم کو ایسے ظالم حاکموں سے سابقہ پڑے جن کے مقابلہ میں تم حق گوئی سے کام نہ لے سکو۔ عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ایسا کبھی ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خدا کی قسم! میں جن جن چیزوں پرآپ سے بیعت کرتاہوں اس کو ضرورضرور پوراکروں گا۔ یہ سن کر سرکار رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیغمبرانہ لہجے میں ارشادفرمایا کہ اگر ایسا ہے تو تم اطمینان رکھو کہ تم کو کسی شر سے کبھی بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا ۔چنانچہ آپ عمر بھر اپنے اس عہد پر عزم وسختی کے ساتھ قائم رہے۔
بنو امیہ کے دور حکومت میں زیاداورعبیداللہ بن زیاد جیسے ستم کیشوں اورظالم گورنروں پر برملا نکتہ چینی کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ عبیداللہ بن زیاد ظالم گورنرکے منہ پر کھلم کھلا یہ کہہ دیا کہ تم لوگ اللہ ورسول پر افتراپردازی کرنے والے مفتری ہو۔

کرامت
جان گئی مگر آن نہیں گئی

عبیداللہ بن زیاد گورنر آپ کا دشمن ہوگیا تھا اس نے آ پ کو قتل کی دھمکی دی ۔

آپ نے اس کو کہہ دیا کہ تو میر اکچھ بھی نہیں بگاڑسکتا۔عبیداللہ بن زیاد نے طیش میں آکر جلادوں کو بلا لیا اور حکم دے دیا کہ تم لوگ قیس بن خرشہ کے مکان پر جاکر ان کی گردن اڑادو ، جلاد آگئے لیکن جب آپ کی گردن اڑانے کیلئے آپ کے مکان پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ہیں اوران کی مقدس روح پرواز کر چکی ہے ۔جلاد ان کے بدن کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے او رناکام ونامراد واپس چلے گئے اور اس طرح آپ ایک ظالم کی سزا کے شر سے بچ گئے ۔(1)(استیعاب ، ج۲،ص۵۴)

تبصرہ

آپ نے عبیداللہ بن زیاد سے فرمایا تھا کہ ”تو میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔” حالانکہ اس نے اپنی گورنری کے زعم میں یہ چاہا کہ جلاد سے ان کو قتل کرا کر انتقام لے لے مگر اس کا یہ منصوبہ خاک میں مل گیا اورجلاد ناکام ونامراد ہوکر واپس چلے گئے ۔ سبحان اللہ! سچ ہے کہ ؎

جو جذب کے عالم میں نکلے لب مؤمن سے
وہ بات حقیقت میں تقدیر الٰہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *