Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جہاد سے نفرت دلانے میں منافقوں کی کوشش اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کا حکم

جہاد سے نفرت دلانے میں منافقوں کی کوشش اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْاۚ-لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۱۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب وہ سفر میں یا جہادمیں گئے کہ اگریہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے ۔ ( ان کی طرح یہ نہ کہو) تاکہ اللہ ان کے دلوں میں اس بات کا افسوس ڈال دے اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے تمام اعمال کوخوب دیکھ رہا ہے ۔ (اٰل عمران : ۱۵۶)
(لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا : کافروں کی طرح نہ ہونا ۔ )یہاں کافروں سے مراد اصلی کافر بھی بیان کئے گئے ہیں اور منافق بھی ۔ ہم منافقین والا معنیٰ سامنے رکھ کر تفسیر کرتے ہیں ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! عبداللہ بن اُبی اور ان جیسے کافروں منافقوں کی طرح نہ ہونا جن کے نسبی بھائی یا منافقت میں بھائی بندسفر میں گئے اور مرگئے یا جہاد میں گئے اور مارے گئے تو یہ منافق کہتے ہیں کہ اگریہ جانے والے ہمارے پاس رہتے اور سفر و جہاد میں نہ جاتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ۔ اس پر ایمان والوں سے فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! تم ان کافروں کی طرح کی کوئی بات نہ کہنا تاکہ ان کی بات اور ان کا یہ عقیدہ کہ اگر سفروجہاد میں نہ جاتے تو نہ مرتے ان کے دلوں میں باعث ِ حسرت بن جائے ۔ حقیقی مسلمان تو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ موت و حیات اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو مسافر اور غازی کو سلامت لے آئے اور محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے کو موت دیدے ۔ کیا گھروں میں بیٹھا رہنا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے اور جہاد میں جانے سے کب موت لازم ہے اور اگر آدمی جہاد میں مارا جائے تو وہ موت گھر کی موت سے کئی درجے بہتر ہے ۔ لہذا منافقین کا یہ قول باطل اور فریب ہے اوران کا مقصد مسلمانوں کو جہاد سے نفرت دلانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ارشا دہوتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!