Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جو لوگ فقہ کو حدیث کے مخالف کہتے ہیں اُس کا سبب اُن کی کم علمی ہے

جو لوگ فقہ کو حدیث کے مخالف کہتے ہیں اُس کا سبب اُن کی کم علمی ہے

اب غور کیجئے کہ امام صاحب کا کوئی قول اُن کل حدیثوں کے مخالف ہوتا ، جو اس باب میں وارد ہیں تو وہ کبھی فقہ کی تعریف و توصیف نہ کرتے بلکہ توہین کرنا اُن کا فرض تھا ۔

اس سے امیر المومنین فی الحدیث ابن المبارک ؒ کے اُس قول کی تائید بھی ہوگئی جو فرمائے ہیں کہ ’’جو شخص امام صاحب کی بدگوئی کرتاہے اُس کا سبب تنگیٔ علم ہے ‘‘۔
اس لئے کہ یحییٰ ابن معینؒ کاسا وسیع علم ہو تو معلوم ہو کہ جو قول بظاہر کسی حدیث کے مخالف ہے دوسری حدیثوں کے موافق ہے ؛ جو اس باب میں وارد ہیں ۔ اور جس کو دوسری حدیثیں معلوم ہی نہ ہو تو وہ چند مخالف حدیثوں کو دیکھ کر ضرور بدگوئی پر آمادہ ہوجائیگا ، کیونکہ اُس کی دانست میں تو یہی ہوگاکہ امام صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ، پھر کون مسلمان ہوگا کے ایسے مخالف شخص کو برا نہ کہے ؟ اس سے ظاہر ہے کہ جو بعد والے بعض محدثین امام صاحب کے اقوال کو مخالف حدیث کہتے ہیں ، اُن کو وہ حدیثیں پہونچی ہی نہیں ، جن کے موافق وہ اقوال ہیں اور اگر پہونچی بھی تو اُن کا مطلب نہیں سمجھا ، کیونکہ احادیث کا مطلب سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں ۔ اس کا تصفیہ شیخ الشیوخ اعمش اور اوزاعی رحمہم اللہ نے کر دیا کہ محدثین ’’عطار ‘‘ہیں اور امام صاحب ’’طبیب ‘‘۔ اور امیر المومنین فی الحدیث نے صاف کہدیا کہ حدیث فہمی کے لئے ابو حنیفہ کی ضرورت ہے ۔
اب دیکھئے کہ جو لوگ بڑے غصہ سے کہتے ہیں کہ ’’فقہ کے مسئلوں کو ماننا کھلا نفاق اورحماقت ہے ‘‘ کس قدر زیادتی ہے ۔ انصاف تو یہ تھا کہ یہ حضرات اپنی تنگیٔ علم اور کم فہمی پر افسوس کرتے ؛ مگر افسوس ہے کہ تنگی حوصلہ سے اپنا قصور نہیںدیکھتے اور اکابر محدثین پر نفاق اور بے علمی کا الزام لگاتے ہیں ۔

ایک قوی اعتراض اور اس کا جواب

یہ بات اوپر معلوم ہوچکی ہے کہ پوری حدیثوں کا سرمایہ کم ازکم ایک کروڑ حدیث چاہئے ، جس کی خبر امام احمد بن حنبلؒ نے دی ہے اور اگر صحیح سات لاکھ حدیثیں جو امام احمد کو یاد تھیں
یا ایک ہی لاکھ جو امام بخاری ؒ کو یاد تھیں ، موجود ہوتیں تو کسی قدر معلوم ہوسکتا کہ فقہ موافق حدیث ہے، یا مخالف۔ بخلاف اس کے جن حدیثوں پر اعتماد کر کے مخالفت بیان کی جاتی ہے وہ تو بہت تھوڑی ہیں ۔
’’جواہر الاصول ‘‘میں ابو الفیض محمد بن علی الفارسی ؒ نے لکھا ہے کہ بخاری و مسلم میں بحذف مکررات صرف چار ہزار (4,000) حدیثیں ہیں ، وہ بھی فقط احادیث مرفوعہ نہیں ، اُن میں صحابہ اور تابعین کے اقوال و افعال وغیرہ بھی شامل ہیں ، پھر وہ بھی صرف احکام ہی سے متعلق نہیں بلکہ اُن میں فضائل اور قصص و حکایات وغیرہ بھی شریک ہیں ۔
اب صرف چند حدیثوں کو دیکھ کر فقہ کو مخالفِ حدیث قرار دینا ، جس کی توثیق اکابر محدثین نے کی ہے ، کس قدر ظلم و بیداد ہے ؟ اور طرفہ یہ کہ لوگوں کے بہکانے کی غرض سے کہا جاتا ہے کہ جب کوئی حدیث مخالفِ مذہب پہونچی تو اُس کو چھوڑ کر کسی امام غیر معصوم کی تقلید کریں تو قیامت میں خدا کو کیا جواب دیں گے؟
درست ہے ! خدائے تعالیٰ کے روبرو جوابدہی مشکل ہے ! خدا کرے کہ محاسبہ کی نوبت نہ آئے ۔ ورنہ اُس کا بھی جواب دینا ہمیں مشکل ہوگا کہ صدہا محدثین میں سے بخاری کو کیوں مثل معصوم بنالیا ، جن کی کتاب آسمانی قرار دے کر دوسری کتابوں کو اس کے مقابلہ میں ساقط الاعتبار کر دیا ، کیا کوئی آیتِ قرآنی یا حدیثِ متواتر اس باب میں پہونچی تھی ؟ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ امام بخاری کو دین میں وجاہت حاصل ہے اور اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ خدائے تعالیٰ کے محبوب ہیں ، تو ہمیں امیدِ قوی ہے کہ اگر یہ ہمارا خیال جرم اور قابل باز پُرس بھی ہو تو ہماری خوش اعتقادی کے باعث ہماری شفاعت وہ کریں گے ۔ اسی طرح امام اعظم اکابر محدثین کے کہنے پر اپنے اور خدائے تعالیٰ کے درمیان میں جو واسطہ قرار دیا ، اُس میں بھی ہمیں بڑی بڑی اُمیدیں ہیں اور بڑا عذر تو ہمارا
یہ ہوگا کہ امام بخاریؒ نے کُل صحیح حدیثوں کو جمع کر کے ہم تک پہونچایا ہی نہیں ، انہوں نے بلکہ کُل محدثین نے لاکھوں صحیح حدیثوں کو تلف کر دیااور محدثین ہی کی گواہیوں سے ہمیں ظن غالب ہوگیا تھا کہ امام صاحب نے حدیثوں کی مخالفت نہیں کی بلکہ اُن کے مضامین کو فقہ میں ہمارے لئے محفوظ کر دیا تھا ، اس لئے ہم نے اُن کی تقلید کی ۔
اور چونکہ امام صاحب کو دین میں اعلیٰ درجہ کی وجاہت حاصل ہے اور خدائے تعالیٰ کے محبوب ہیں ، یقین ہے کہ ہماری خوش اعتقادی ہے ، ہماری شفاعت ضرور کریں گے۔ اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ بمقتضائے ’ ’انا عند ظن عبدی بی‘‘ حق تعالیٰ اُن کی شفاعت کو قبول بھی فرمائیگا ۔ واللہ ذو الفضل العظیم ۔

فقہ حنفیہ نہایت سرعت سے بلاد ِاسلامیہ میں شائع ہوئی اور اس کا سبب

اب غور کیجئے کہ جب خزانِ حدیث اور جامعِ کُل احادیث اور وہ حضرات جن پر احادیثِ صحیحہ کا مدار ہے اور دوسرے صدہا شیوخ محدثین اپنے اپنے شاگردوں سے فقہ حنفیہ کی تعریف و توثیق بیان کرتے ہوں گے تو کس سرعت سے وہ بلا داسلامیہ میں پہونچ گئی ہوگی ؟ کیونکہ اسلامی شہروں میں کوئی شہر ایسا خیال نہیں کیا جاسکتا جس کے سربرآوردہ محدثین ان حضرات کے فیض صحبت سے محروم رہ گئے ہوں گے۔ کیا اتنی کھلی دلیل اور واضح قرینہ کے بعد بھی یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ حنفیہ ابو یوسف کی قضاء ت کے باعث مشہور ہوئی جیساکہ بعض حضرات کا خیال ہے ۔
م ک ۔ سفیان بن عُیینہؒ کہتے ہیں کہ اوائل میں خیال کیاجاتا تھا کہ ابو حنیفہ کی رائے کوفہ کے پُل سے تجاوز نہ کرے گی ، مگر تھوڑی مدت میں آفاق میں پہونچ گئی ۔ ۔
سفیان بن عینیہؒ وہ شخص ہیں کہ ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں اُن کو ’’ العلامہ ، الحافظ ، الامام ، الحجۃ ، عُیینہ واسع العلم ، کثیر’’ القدر‘‘لکھا ہے اور لکھا ہے کہ انہوں نے
ستر (۷۰) حج کئے ، اکثر لوگ انہی کے ملاقات کے خیال سے حج کو جایا کرتے ، اُن کے پاس خلق کاہجوم رہتا تھا ۔ امام احمدؒ کہتے ہیں کہ اُن سے زیادہ حدیث جاننے والا میں نے نہیںدیکھا ۔
فقہ کی غیر معمولی شہرت جو ابن عُیینہ بیان فرما رہے ہیں کوئی قابل تعجب بات نہیں ، اس لئے کہ قطع نظر اور اسباب شہرت کے صرف ایسے جلیل القدر امام مرجع انام کا فقہ کی توثیق کرنا ایک قوی ذریعہ ہے ۔
دیکھئے !جب محدثین صرف اُن کی ملاقات کے لئے حج کو جا یا کرتے تھے تو اور حجاج اور محدثین اُن کی ملاقات کو کیسی نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہوں گے ۔ اور ظاہر ہے کہ بلادِ اسلامیہ میں کوئی شہر ایسا نہ ہوگا جس کے لوگ جوق جوق نہ جاتے ہوں گے ۔ پھر جب وہ امام صاحب کے اعلیٰ درجہ کے مداح تھے ۔ چنانچہ سابقاً معلوم ہوا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ امام صاحب اپنے زمانہ میں بے نظیر شخص تھے اور جس کو فقہ کی ضرورت ہو امام صاحب کے اصحاب کی صحبت اختیار کرے ۔ تو غور کیجئے کہ کس سرعت سے فقہ حنفیہ کی شہرت بلادِ اسلامیہ میںہوئی ہوگی ۔
بہرحال مختلف ذرائع سے تھوڑے سے عرصہ میں فقہ حنفیہ کو وہ شہرت ہوئی کہ محدثین کو رشک ہونے لگا ؛ چنانچہ صرف اس غرض سے کہ فقہ کی طرف سے لوگوں کی توجہ پھیر دیں بعض محدثین نے حدیثیں بنا ڈالیں جس کا حال اوپر معلوم ہوا ۔
ک ۔ ابونعیم ؒ کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ کی مجلس میں دن بھر اور رات کے ایک حصہ میں طلبہ کا ہجوم رہتاتھا اور لوگ طوعاً و کرہاً اُن کے منقاد ہوتے جاتے تھے ۔
ابو نعیمؒ کے ترجمہ میں ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں امام احمدؒ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ شیوخ و انساب اور رجال کو سب سے زیادہ جانتے تھے ۔
ابن معینؒ کہتے ہیں کہ اُن سے اور عفان سے افضل شخص میں نے نہیں دیکھا ۔
احمد بن صالح کہتے ہیں کہ اُن سے اصدق میں نے نہیں دیکھا ۔
اب غور کیجئے کہ ایسے جلیل القدر ، اصدق محدث کی گواہی سے ثابت ہے کہ لوگ طوعاً و کرہاً امام صاحب کے منقاد ہوتے جاتے تھے ، جس کی وجہ بھی انہوں نے اشارۃً بیان کر دی ، ہر وقت لوگوں کا ہجوم اُن کے ہاں رہاکرتا تھا ۔ کیونکہ امام صاحب کی تقریر سننے کے بعد اہل انصاف کے دلوں میں ضرور اذعانی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی ، جس سے وہ منقاد ہوجاتے اورکثرت کی بھی یہی وجہ ہے ۔ اس انقیاد کا مفہوم سوائے تقلید کے اور کیا ہوسکتا ہے ؟ رہا ’’طوعاً و کرہاً منقاد ہونا ‘‘ سو اُس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ امام صاحب زبردستی سے اُن کو اپنے مقلد بناتے تھے ، کیونکہ امام صاحب کو کسی قسم کی حکومت نہ تھی بلکہ اُس کا مطلب یہ ہے کہ امام صاحب کے دلائل ایسے مستحکم ہوتے تھے کہ کسی کو انکار کرنے کی مجال نہ تھی ، اس لئے قوت دلائل کے مقابلہ میں مجبور ہو کر امام صاحب کے قول کو تسلیم کرنا پڑتا تھا ۔
م ک ۔ یحیی بن آدم کہتے ہیں کہ’’ اگر ابو حنیفہ کو دنیا کا کوئی لگاؤ ہوتا تو باوجود حاسدوں کی کثرت کے اُن کا کلام آفاق میں پورے طور نافذ نہ ہوتا ‘‘ ۔
اس سے بھی ثابت ہے کہ تمام آفاق یعنی بلاد اسلامیہ میں فقہ حنفیہ ہی کی تقلید کی جاتی تھی۔
یہاں قابل غور یہ بات ہے کہ امام صاحب کا مذہب منتہائے بلاد اسلامیہ تک کیونکر شائع ہوا اور اکابر محدثین نے کیوں اُن کی تقلید کی ؟ نہ امام صاحب کا ذاتی تسلط تھا ، نہ سلطنت کی طرف سے اُن کو کسی قسم کی مدد ملی بلکہ حکومت اُن کی دشمن تھی ، جس کی وجہ سے وہ قید ہوئے اور فتوے دینے سے روک دیئے گئے تھے ۔ ایسی بیکسی کی حالت میں اُن کے فتوے اور فقہ کو فروغ ہونے کی کیا صورت تھی ؟ بجز اس کے کوئی بات نہیں تھی کہ اُن کے صدق و اخلاص ، قوت ِد لائل نے اکابرِ دین کی حق پسند طبیعتوں میں پورا اثر کیا ،جس سے وہ بغیر
فرمائش و درخواست کے اُن کی تقلید کی ۔
م ۔ یحیٰ بن سعید قطان کہتے ہیں کہ جن مسائل کی ضرورت لوگوں کو ہر وقت پڑتی ہے اُن کو بیان کرنے والا سوائے ابو حنیفہؒ کے کوئی دوسرا شخص نہیں ۔
اوائل میں اُن کی یہ حالت نہ تھی ، لیکن بہت جلد اُن کا معاملہ اس درجہ تک پہونچ گیا اور سرعت سے ترقی ہوئی ۔

error: Content is protected !!