Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جن کو غایت درجہ کا خوفِ الہٰی تھا ، امام صاحب کی تقلید کو باعث نجاست سمجھتے تھے

جن کو غایت درجہ کا خوفِ الہٰی تھا ، امام صاحب کی تقلید کو باعث نجاست سمجھتے تھے

’’تہذیب التہذیب ‘‘میں عبدالعزیزؒ کے حال میں لکھا ہے کہ ابن مبارکؒ کہتے کہ خوف الٰہی کا اُن پر یہ غلبہ تھا کہ وہ باتیں کرتے اور اشک اُن کے رخساروں پر جاری رہتے تھے ۔ اشعث بن حزب کہتے ہیں کہ ان کی حالت سے یہ نمایاں تھا کہ قیامت اُن کے پیش نظر ہے۔
اب قیاس کیجئے کہ دین میں اُن کو کس قدر احتیاط ہوگی ، ایسے محتاط شخص جب ہر بات میں امام صاحب کے قول پر عمل کرتے تھے تو غور کیجئے کہ فقہ حنفیہ میں کس قدر احتیاط ملحوظ ہے ۔
اس کا انکار نہیں ہوسکتا کہ اُس زمانہ میں بڑے بڑے محدثین اور فقہاء مثل امام مالک و ثوریؒ وغیرہ موجود تھے ، مگر اُن کو امام صاحب ہی کے علم پر اعتماد تھا ۔ اس وجہ سے وہ ہر مسئلہ امام صاحب سے پوچھ کر اُ س پر عمل کرتے تھے ، اسی کا نام تقلید شخصی ہے ، جس کو آخری زمانہ والے شرک بتاتے ہیں ۔
م ۔ جریر بن عبدالحمید کہتے ہیں : مغیرہ نے کسی مسئلہ میں فتویٰ دے کر کہا کہ یہ بات مجھے پہونچی ہے کہ وہ جوان خزاز جودار عمر و بن حریث میں رہتا ہے یعنی ابو حنیفہ اُس کا بھی یہی قول ہے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ جب مغیرہ کوئی فتویٰ دیتے اور لوگ اُن سے جھگڑتے تو وہ کہدیتے کہ یہ قول ابو حنیفہ کا ہے ۔ انتہی
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نام سن کر جھگڑنے والے خاموش ہوجاتے تھے ؛ کیونکہ امام صاحب کی شہرت ہوگئی تھی اور محدثین کہا کرتے تھے کہ اُن کی جو بات ہوتی ہے پختہ ہوتی ہے ۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مغیرہ ؒ امام صاحب کے مقلد تھے ۔
م ۔ ابو معاویہ کہتے ہیں کہ ہمارے شیوخ فتویٰ تو دیتے مگر اُن پر ہیبت طاری رہتی تھی ،

پھر جب سنتے کہ ابو حنیفہؒ نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے ، تو خوش ہوجاتے ۔ راوی نے اُن سے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں ؟ کہا : اُن میں سے ایک ابن ابی لیلی ہیں۔
دیکھئے ! ابن ابی لیلیٰ باوجود یکہ امام صاحب کے سخت مخالف تھے ، مگر ان کی بھی نظر امام صاحب ہی کے فتویٰ کی طرف لگی رہتی تھی ، اور بجائے اس کے کہ مخالفت کا اثر کوئی اُس پر ڈالیں اُس سے مستفید ہوتے تھے ۔ اس لئے اندازہ ہوسکتا ہے کہ امام صاحب کا قول کس قدر مستحکم ہوتا ہے !
م ص ۔ ایک بار ابوامیہ جزری جو امام صاحب کے زمانہ میں اہل جزیزہ کے امام تھے ، اُن سے کسی نے فتویٰ پوچھا ،انہوں نے اپنے اجتہاد سے جواب دیا ، کہیں اُس جلسہ میں ابو حمزہ بھی بیٹھے تھے ؛ جو امام صاحب کے شاگرد ہیں، انہوں نے کہا کہ حضرت اس کا یہ جواب نہیں بلکہ امام صاحب نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ سنتے ہی انہوں نے مستفتی کو بلوایا اور اپنا فتویٰ واپس لیکر امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیا ۔اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے امام صاحب کی تقلید کی ۔
ص ک ۔ عیسی بن یونس ؒ امام صاحب ؒکے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ عیسیٰ بن یونس وہ شخص ہیں کہ حماد اور ابن مدینی جیسے اکابر محدثین اُن کے شاگرد ہیں اور کل صحاح ستہ میں اُن کی روایتیں موجود ہیں۔ کما فی الخلاصۃ ۔ ایسے جلیل القدر امام المحدثین امام صاحب کے مقلد ہیں ۔
ک ۔ عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مسجد الحرام میں ایک مسافر شخص سے مناظرہ کیا ، جس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے ، پھر پوچھا تم کس شہر کے ہو ؟ کہا : طنجہ کے ’’جو بلاد مغرب کی انتہا پر ہے اور اُس کے پرے اسلام نہیں ، یہاں سے وہ مقام تخمیناً ڈیڑھ ہزار فرسخ پر واقع ہے ۔ کہا : یہ دقیق مسائل تمہارے یہاں کہاں سے آگئے؟

کہا : ابو حنیفہؒ کی کتابیں ہمارے یہاں پہونچ گئی ہیں اور امام مالک اور اوزاعی کے اقوال بھی وہاں بیان کئے جاتے ہیں؛ لیکن فتویٰ ابو حنیفہؒ کی رائے پر دیا جاتا ہے ۔
اِس کو تائید منجانب اللہ کہتے ہیں ۔ دیکھئے !باوجودیکہ امام مالک اور اوزاعی ؒ کی جلالت شان پوشیدہ نہیں اور اُسی زمانہ میں وہ استاذ الاساتذہ مانے جاتے تھے ، اور امام صاحب کی کتابوں کے ساتھ اُن کے اقوال بھی وہاں پہونچ گئے تھے مگر تقلید امام صاحب ہی کی ، کی گئی ۔ اس کا وہی سبب تھا جس کی تشخیص یحییٰ بن آدمؒ نے کی کہ امام صاحب کے خلوص نے اُن کے کلام کو آفاق میں پورے طور نافذ کر دیا ’’ذلک فضل اللہ یؤیہ من یشاء‘‘ ۔
یہ روایت اوپر لکھی گئی ہے کہ اعمش ؒ جب حج کو گئے اور امام صاحب بھی وہاں موجود تھے تو انہوں نے امام صاحب پر فرمائش کی کہ مناسک حج کے مسائل عمل کرنے کے لئے لکھدیں اور اپنے شاگردوں سے بھی فرمایا کہ وہ مسائل لکھ لیں ۔
دیکھئے ! اعمش ؒ طبقۂ تابعین میں سربرآوردہ شخص ہیں ۔ امام ذہبی نے ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘میں لکھا ہے : ’’کان الاعمش اقرأھم لکتاب اللہ و احفظھم للحدیث و اعلمھم بالفرائض … وکان رأسا فی العلم النافع والعمل الصالح ‘‘ ایسے جلیل القدر تابعی نے جن کو تمام محدثین سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں اور فرائض سب سے زیادہ جانتے تھے ، اسلامی ایک فرض اور رکن اعظم یعنی حج کے تمامی مسائل میں امام صاحب کی تقلید کی ، تو اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ امام صاحب کی نظر ۔ فن حدیث میں کیسی وسیع اور قوت اجتہادی کس درجہ قابل وثوق تھی !۔
اعمش ؒ کی اس تقلید سے علاوہ اس کے کہ امام صاحب کی جلالت شان ظاہر ہو ، حضرات حنفیہ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ وہ ایسے امام کے مقلد رہیں جن کی تقلید کو ایک جلیل القدر تابعی ، شیح الشیوخ نے ضروری سمجھا۔

error: Content is protected !!