تھپڑ معاف کیا مگر کب؟

تھپڑ معاف کیا مگر کب؟

حضرت سیِّدُنا مَعْمر بن راشد علیہ رحمۃ اللّٰہِ الواحد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُناقتادہ بن دِعامہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے صاحبزاے کو زور دار تھپڑ مارا ۔آپ نے تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا بلال بن ابی بُردہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے اس کے خلاف مدد چاہی ، لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ دی ۔چنانچہ ، آپ نے ’’قَسْرِی‘‘ سے شکایت کی تو اس نے حضرت سیِّدُنا بلال بن ابی بُردہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو لکھا : آپ نے ابوخطاب حضرت سیِّدُنا قتادہ بن دِعامہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔چنانچہ ، حضرت سیِّدُنا بلال بن ابی بُردہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے تھپڑ مارنے والے کو بلایا اور بصرہ کے سرداروں کو بھی بلایا ۔وہ حضرت سیِّدُناقتادہ بن دِعامہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے اس شخص کی سفارش کرنے لگے ، لیکن آپ نے سفارش قبول نہ کی اور بیٹے سے فرمایا : تم بھی اسی طرح اسے تھپڑ مارو جس طرح اس نے تمہیں مارا تھا ! اور فرمایا : بیٹا ! آستینیں اوپر کر لو ! اور ہاتھ بلند کر کے زوردار تھپڑ مارو ۔چنانچہ بیٹے نے آستینیں اوپر کیں اور تھپڑمارنے کے لئے ہاتھ بلند کیا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا : ہم نے رضائے الٰہی کے لئے اسے معاف کیا ، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ معاف کرنا قدرت کے بعد ہی ہوتا ہے ۔(حلیۃ الاولیاء ، قتادۃ بن دعامۃ ، ۲/ ۳۸۶ ، رقم : ۲۶۶۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *