تَوَ لُّد شریف

تَوَ لُّد شریف

Advertisement

جب حمل شریف کو چاند کے حساب سے پورے نو مہینے ہوگئے تو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارہ ربیع الاوّل کو دو شنبہ کے دن فجر کے وقت کہ ابھی بعض ستارے آسمان پر نظر آرہے تھے پیدا ہوئے۔دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے، سر آسمان کی طرف اٹھا ئے ہوئے (جس سے آپ اپنے علو مرتبہ کی طرف اشارہ فرمارہے تھے ) ، بدن بالکل پاکیزہ اور تیزبو کستور ی کی طرح خوشبودار، ختنہ کیے ہو ئے، ناف بُرِیدہ (2) ، چہر ہ چودہویں رات کے چاند کی طرح نورانی، آنکھیں قدر ت الٰہی سے سرمگیں ، دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دَرَخشاں (3) ، آپ کی والد ہ نے آپ کے دادا عبدالمُطَّلِب کو جواس وقت خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے بُلا بھیجا۔وہ حضرت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بیت اللّٰہ شریف میں لے جاکر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے صدقِ دل سے دعا کی اور اللّٰہ تعالٰیکی اس نعمت عظمیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ابو لَہَب کی لونڈی ثُوَیْبَہ نے ابو لَہَب کو تو لد شریف کی خبر دی تو اُس نے اس خوشی میں ثُوَیْبَہ کو آزاد کر دیا۔
حضرت (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جس مہینے میں پیدا ہو ئے اس کانام تو ربیع تھا ہی مگر وہ موسم بھی ربیع (بہار ) کا تھا۔کسی نے کیا خوب کہاہے ؎
رَبِیْعٌ فِیْ رَبِیْعٍ فِیْ رَبِیْعٍ

وَ نُوْرٌ فَوْقَ نُوْرٍ فَوْقَ نُوْرٍ

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!