جھوٹے پانی کے اَحکام

جھوٹے پانی کے اَحکام

[ اَلْاَسْآرْ ]: یہ [ سُؤْرٌ ] کی جمع ہے اور[ سُؤْرٌ ] اُس پانی کو کہتے ہیںجو پینے کے بعدبرتن میں بچ گیا ہو۔
جھوٹے پانی کی چار اَقسام ہیں۔
(۱): طاہر مطہر
ایسا جھوٹا جو پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے ، جیسے: اِنسان کا جھوٹا۔
(۲): طاہر مطہر مکروہ
ایسا جھوٹا جو پاک ہے مگر اِس کا اِستعمال مکروہِ تنزیہی ہے، یہ حدث اور نجاست دونوں کو دور کرتا ہے، جیسے: بلی اور گھریلو مرغیوں کا جھوٹا۔
اَلبتہ اِس جھوٹے پانی کے علاوہ کوئی دوسرا پانی نہ پائے جانے کے وقت اِس کا اِستعمال مکروہ نہیں ہوگا۔
(۳): مائِ نجس

Advertisement

ایساجھوٹا جو ناپاک ہو اور اِس کا اِستعمال بہت مجبوری کے بغیر جائز نہیں،جیسے : خنزیر ، کتا ، چیتا، بھیڑیا اور بجھو کا جھوٹا ۔
اِن سب کا جھوٹا اِس لئے ناپاک ہے کیونکہ اِن کا جھوٹا لعاب سے ملا ہوتا ہے اور اِن کا لعاب گوشت سے بنتا ہے اور اِن کا گوشت ناپاک ہے، اِس لئے اِن کا جھوٹا بھی ناپاک ہوا۔
(۴): ماء ِمشکوک
ایسا جھوٹا جس کی پاکی میں شک ہو۔
یہ وہ پانی ہے جس سے گدھے نے پیا ہو اور اُ س کا حکم بیان ہو چکا ہے ۔

 

 

جھوٹے پانی کا حکم اِس جدول میں ملاحظہ فرمائیں ۔
جھوٹے پانی کا حکم اِس جدول میں ملاحظہ فرمائیں ۔
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!