ذبح ہو کر زندہ ہوجانے والے پر ندے

ذبح ہو کر زندہ ہوجانے والے پر ندے


حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا کہ یا اللہ تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے
ابراہیم کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے، تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟ میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو۔ پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ، ایک کبوتر، ایک گدھ، ایک مور۔ ان چار پرندوں کو پالا۔ اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا۔ پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا کہ یٰاَیُّھَا الدِّیْکُ  (اے مرغ) یٰاَیَّتُھَا الْحَمَامَۃُ (اے کبوتر) یٰاَیُّھَا النَّسْرُ  (اے گدھ) یٰاَیُّھَا الطَّاؤُسُ (اے مور)آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہرپرند کا گوشت، پوست ،ہڈی، پر، الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا۔ 
اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآنِ مجید کی سورئہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ:۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرْہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ
مِّنْہُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿260﴾٪


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});


ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔ فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (پ3،البقرۃ:260)

درسِ ہدایت:۔

مذکورہ بالا قرآنی واقعہ سے مندرجہ ذیل مسائل پر خاص طور سے روشنی پڑتی ہے۔ ان کو بغور پڑھیے اور ہدایت کا نور حاصل کیجئے اور دوسروں کو بھی روشنی دکھایئے۔

مردوں کو پکارنا:۔

چاروں پرندوں کا قیمہ بنا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہاڑوں پر رکھ دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ثُمَّ ادْعُھُنَّ یعنی ان مردہ پرندوں کو پکارو۔ چنانچہ آپ نے چاروں کو نام لے کر پکارا تو اس سے یہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ مردوں کو پکارنا شرک نہیں ہے کیونکہ جب مردہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے پکارنے کا حکم فرمایا اور ایک جلیل القدر پیغمبر نے ان مردوں کو پکارا تو ہرگز ہرگز یہ شرک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خداوند کریم کبھی بھی کسی کو شرک کا حکم نہیں دے گا نہ کوئی نبی ہرگز ہرگز کبھی شرک کا کام کرسکتا ہے۔ تو جب مرے ہوئے پرندوں کو پکارنا شرک نہیں تو وفات پائے ہوئے خدا کے ولیوں اور شہیدوں کا پکارنا کیونکر شرک ہوسکتا ہے، جو لوگ ولیوں اور شہیدوں کے پکارنے کو شرک کہتے ہیں اور یاغوث کا نعرہ لگانے والوں کو مشرک کہتے ہیں، انہیں تھوڑی دیر سر جھکا کر سوچنا چاہے کہ اس قرآنی واقعہ کی روشنی میں انہیں ہدایت کا نور نظر آجائے اور وہ اہل سنت کے طریقے پر صراط مستقیم کی شاہراہ پر چل پڑیں۔ (واللہ الموفق)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تصوف کا ایک نکتہ:۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن چار پرندوں کو ذبح کیا ان میں سے ہر پرند ایک بری خصلت میں مشہور ہے مثلاً مور کو اپنی شکل و صورت کی خوبصورتی پر گھمنڈ رہتا ہے اور مرغ میں کثرت شہوت کی بری خصلت ہے اور گدھ میں حرص اور لالچ کی بری عادت ہے اور کبوتر کو اپنی بلند پروازی اور اونچی اڑان پر نخوت و غرور ہوتا ہے۔ تو ان چاروں پرندوں کے ذبح کرنے سے ان چاروں خصلتوں کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے کہ چاروں پرند ذبح کئے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر نظر آیا اور ان کے دل میں نور اطمینان کی تجلی ہوئی۔ جس کی بدولت انہیں نفسِ مطمئنہ کی دولت مل گئی تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا دل زندہ ہوجائے اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی دولت نصیب ہوجائے اس کو چاہے کہ مرغ ذبح کرے یعنی اپنی شہوت پر چھری پھیر دے اور مور کو ذبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لباس کے گھمنڈ کو ذبح کرڈالے اور گدھ کو ذبح کرے یعنی حرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے اور کبوتر کو ذبح کرے یعنی اپنی بلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نخوت پر چھری چلا دے۔ اگر کوئی ان چاروں بری خصلتوں کو ذبح کرڈالے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے دل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہوجائے گا۔  (واللہ تعالیٰ اعلم)

              (تفسیر جمل،ج۱،ص۳۲۸،پ۳،البقرۃ:۲۶۰)
Exit mobile version