زنا لواطت کا عذاب

زنا لواطت کا عذاب

(۱)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَزْنِی الزَّانِی حِینَ یَزْنِی وَہُوَ مُؤْمِنٌ‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ زنا کرنے والا جس وقت زنا کرتا ہے ( اس وقت) مومن نہیں رہتا یعنی مومن کی صفات سے محروم ہوجاتا ہے ۔ (بخاری شریف)
(۲)’’عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیہِمْ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوْا بِالسَّنَۃِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیہِمْ الرّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ‘‘۔ (2)
حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس قوم میں زنا پھیل جاتا ہے وہ قوم قحط سالی میں ضرور مبتلا کی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہوتی ہے وہ (اپنے دشمن کے ) خوف و ہراس میں مبتلا رہتی ہے ۔ (احمد، مشکوۃ)
(۳)’’ عَنْ جَابِرٍأَنَّ رَجُلًا زَنَی بِامْرَأَۃٍ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدُّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّہُ مُحْصنٌ فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ‘‘۔ (3)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک مرد نے ایک عورت سے زنا کیا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اسے کوڑے لگوائے پھر خبر دی گئی وہ محصن(یعنی شادی شدہ) ہے تو حضور نے اسے سنگسار کرادیا یعنی لوگوںنے پتھروں سے مار مار کر اسے ہلاک کردیا۔ (ابوداود)
(۴)’’عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوہُ یَعْمَلُ
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم انے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جس شخص کو تم(حضرت)

عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِہِ‘‘۔ (1)
لوط علیہ السلام کی قوم کا عمل کرتے ہوئے پائو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ (ترمذی)
’’ عَنْ اِبْنِِ عَبّاسٍ وَأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُول اﷲ صَلَّی اﷲ عَلیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَلْعُوْنٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ رَوَاہُ رَزِیْن وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِیًا اَحْرَ قَھُمَا وَاَبَابَکْرٍ ھََدَمَ عَلَیْھِمَا حَائِطاً‘‘۔ (2)
حضرت ابن عباس و ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو شخص قومِ لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے ۔ (رزین) اور انہیں کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما سے ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فعلِ بد کرنے والے اور کرانے والے دونوںکو جلا دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان دونوں پر دیوار گرادی۔

اِنتباہ:

(۱)… یہاں اگر حکومت اسلامیہ ہوتی تو زانی کو سو کوڑے مارے جاتے یا سنگ سار کیا جاتا یعنی اس قدر پتھر مارا جاتا کہ وہ مرجاتا مگر اس حال میں زانی اور زانیہ کے لیے یہ حکم ہے کہ مسلمان ان کا پورے طور پر بائیکاٹ کریں ان کے ساتھ کھانا پینا ، اُٹھنا، بیٹھنا، سلام و کلام اور ہر قسم کے اسلامی تعلقات ختم کردیں تاوقتیکہ توبہ کرکے وہ اپنے گناہ سے باز نہ آجائیں۔ اگر مسلمان ایسانہیں کریں گے تو وہ بھی گنہ گار ہوں گے ۔
(۲)…لواطت کرنے والے جسمانی طور پر بھی سخت سزا کے مستحق ہیں کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں جلادیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان پر دیوار گرادی اور ایک روایت کے مطابق حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حکم دیا کہ انہیں قتل کردو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے ۔
زمانۂ موجودہ میں لواطت کرنے والے اور کرانے والے کے متعلق یہ حکم ہے کہ مسلمان ان سے پورے طور پر قطع تعلق کریں اور اس خبیث فعل سے باز آجانے کے لیے ان پر اپنی طاقت بھر اتنی سختی کریں کہ وہ اپنے اس گندے خلافِ فطرت فعل سے باز آجائیں اگر مسلمان اپنی غفلت سے کام لے کر خاموشی اختیار کریں گے تو گنہ گار ہوں گے ۔
٭…٭…٭…٭

________________________________
1 – ’’سنن الترمذی‘‘، کتاب الحدود ، باب ما جاء فی حد اللوطی، الحدیث: ۱۴۶۱، ج۳، ص۱۳۷.
2 – ’’مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب الحدود، الحدیث: ۳۵۸۳۔ ۳۵۸۴، ج۱، ص۶۵۶۔ ۶۵۷.