ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی برکت

حکایت نمبر267: ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی برکت

حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمدحَلْوَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق ”رَے”کی جامع مسجد میں اپنے رفقاء کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں ایک ہمسائے کے گھر سے گانے باجے کی آواز سنائی دی، اس آواز سے مسجد میں موجود تمام لوگ پریشان ہوگئے۔ کسی نے کہا :” اے ابو اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق !اب کیا کیا جائے ؟ ”یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد سے نکلے اور اس گھر کی طرف چل دیئے جہاں سے گانے کی آواز آرہی تھی ،آپ گلی کا موڑ مڑنے لگے تو سامنے ایک بیمار وکمزورسا کتا بیٹھا ہوا نظر آیا۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے قریب سے گزرے تو وہ کھڑا ہو کر آپ رحمۃ اللہ

تعالیٰ علیہ کو بھونکنے لگا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مسجد میں آگئے اور کچھ سوچنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ اسی مکان کی طرف چل دیئے۔ جب اسی کمزور وضعیف کتے کے قریب سے گزرے تو وہ دُم ہلانے لگا اور بالکل نہ بھونکا۔ جب اس گھر کے پاس پہنچے جہاں سے گا نے کی آواز آرہی تھی تو ایک خوبصورت نوجوان باہر آیا اور کہا:” اے محتر م بزرگ! آپ پر یشان کیوں ہیں؟ مجھے جب آپ کے ایک ساتھی نے بتایا کہ میری وجہ سے آپ لوگو ں کو پریشانی ہو رہی ہے تو اسی وقت میں نے اپنے گناہوں سے تو بہ کرلی، اب آپ جو چاہیں گے میں وہی کرو ں گا ۔ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد کرلیا ہے کہ اب کبھی بھی شراب نہ پیؤں گا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے تمام آلاتِ لہو ولعب اور شراب کے برتن توڑدیئے اور نیک لوگو ں کی صحبت اختیار کر کے اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہونے کی نیت کرلی ۔”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مسجد آئے تو لوگوں نے پوچھا :” حضور ! پہلی مرتبہ وہ کمزور کتا آپ پر بھونکااور دوسری مرتبہ چاپلوسی کرتے ہوئے دم ہلانے لگا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ ”فرمایا:”جب میں پہلی مرتبہ باہر گیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے وعدے میں کوتاہی ہوئی اور میں ذکر اللہ سے غافل ہوگیا ،اسی لئے وہ کمزور سا کتا بھی مجھ پر دلیر ہوکر بھونکنے لگا۔ جب کو تاہی کا احساس ہوا تو میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی اس غلطی کی معافی مانگی، پھر دو بارہ گیا تو وہی کتا میری چاپلوسی کرنے لگا اور تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔یا د رکھو! ہر وہ شخص جو کسی بُری چیز کے خاتمے کے لئے جائے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے کسی وعدے میں اس سے کوتاہی ہو جائے تو تمام چیزیں اس پر دلیرہوجاتی ہیں ۔ لیکن جب وہ اس غلطی وکوتاہی کا ازالہ کر لے تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی اور یہ دونوں باتیں تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔”
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ہر گھڑی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں رہتے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو ہر گھڑی حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی بجا آوری کے لئے کوشاں رہتے ہیں ا ور انہیں راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ ”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)