زکوٰۃ کے احکام و مسائل

زکوٰۃ کے احکام و مسائل

(۱)’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَکَاۃَ فِیْہِ حَتَّی یَحُولَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ‘‘۔ (1)
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم انے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جو شخص مال حاصل کرے تو اس پر اس وقت تک زکوۃ نہیں جب تک کہ اس پر ایک سال نہ گزر جائے ۔ (ترمذی)
(۲)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ ذَہَبٍ وَلَا فِضَّۃٍ لَا یُؤَدِّی مِنْہَا حَقَّہَا إِلَّا إِذَا کَانَ یَوْم الْقِیَامَۃِ صُفِّحَتْ لَہُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِیَ عَلَیْہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَیُکْوَی بِہَا جَنْبُہُ وَجَبِینُہُ وَظَہْرُہُ کُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِیدَتْ لَہُ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو شخص سونے یا چاندی کے شرعی نصاب کا مالک ہو اور وہ اس کا حق یعنی زکاۃ نہ ادا کرے تو قیامت کے دن اس کے لیے اس سونے اور چاندی کی سلیں بنائی جائیں گی اور انہیں آگ میں تپایا جائے گا۔ پھر ان آتشیں سلوں سے اس کے پہلو ، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا اور جب وہ ٹھنڈی ہو جائے گی تو پھر دوزخ کی آگ میں تپا کر داغا جائے گا اور ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا۔ (مسلم)
(۳)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاہُ اللَّہُ مَالًا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہُ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًاأَقْرَع لَہُ زَبِیبَتَانِ یُطَوَّقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ یَعْنِی بِشِدْقَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس شخص کو خدائے تعالیٰ نے مال عطا کیا تو اس نے اس کی زکوۃ نہیں ادا کی تو اس کے مال کو قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں تبدیل کردیا جائے گا جس کے سر پر
مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ ثُمَّ تَلَا {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا اَتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ}‘‘۔ (1)
دو چتیاں ہوں گی وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر وہ سانپ اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں اس کے بعد حضور نے (پارہ ۴ رکوع ۹ کی) آیت کریمہ تلاوت کی وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ إلخ یعنی اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس چیز میں جسے خدائے تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ( تو انجام کار) ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے ، عنقریب وہ مال کہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔ (بخاری)
(۴)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکُونُ کَنْزُ أَحَدِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَع یَفِرُّ مِنْہُ صَاحِبُہُ وَہُوَ یَطْلُبُہُ حَتَّی یُلْقِمَہُ أَصَابِعَہُ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول ِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ تمہارا خزانہ قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بنے گا۔ اس کا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ سانپ اس کو ڈھونڈتا پھرے گا۔
یہاں تک کہ اس کو پالے گا اور اس کی انگلیوں کو لقمہ بنائے گا۔ (احمد)
(۵) ’’ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ اِمْرَأَتَیْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِی أَیْدِیَہُمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ لَہُمَا أَتُؤَدِّیَانِ زَکَاتَہُ قَالَتَا لَا فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتُحِبَّانِ أَنْ یُسَوِّرَکُمَا اللَّہُ بِسُوَارَیْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتَا لَا قَالَ فَأَدِّیَا زَکَاتَہُ‘‘۔ (3)
حضرت عمرو بن شعیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ااپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے دوکنگن تھے آپ نے ان سے پوچھا کیا تم ان کی زکوۃ دیتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے ان سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ خدائے تعالیٰ تم کو آگ کے دوکنگن پہنائے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا

تو پھر ان کی زکوۃ ادا کیا کرو۔ (ترمذی)
(۶)’’ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الَّذِی نُعِدُّ لِلْبَیْعِ‘‘۔ (1)
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام ہم کو حکم فرمایا کر تے تھے کہ ہم تجارت کے لیے تیار کی جانے والی چیزوں کی زکوۃ نکالا کریں۔ (ابو داود)
(۷)’’عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ عِنْدَنَا کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ الصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ وَالزَّبِیبِ وَالتَّمْرِ‘‘۔ (2)
حضرت موسیٰ بن طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وہ خط موجود ہے جسے حضور نے انہیں بھیجا تھا۔ روای نے کہا کہ حضور نے معاذ بن جبل کو حکم فرمایا تھا کہ وہ گیہوں، جو، انگور اور کھجور کی پیدوار میں(مسلمانوں سے ) زکوۃ وصول کریں۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)

انتباہ:

(۱)… زکوۃ کے سلسلہ میں مالک ِ نصاب وہ شخص ہے جو ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کا مالک ہو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کے سامانِ تجارت کا مالک ہو اور مملوکہ چیزیں حاجت ِ اصلیہ سے زائد اور دین سے فارغ ہوں۔ (3)
(۲)…زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگا ر مردود الشہادۃ ہے ۔ (4)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۶۰ میں ہے : ’’ تَجِبُ عَلَی الْفَوْرِ عِنْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ حَتَّی

یَأْثَمَ بِتَأْخِیرِہِ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ‘‘۔ (1)
(۳)…زکوۃ کا روپیہ مردہ کی تجہیز و تکفین یا مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں نہیں لگایا جاسکتا۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۷۶میں ہے :’’ لَا یَجُوزُ أَنْ یَبْنِیَ بِالزَّکَاۃِ الْمَسْجِدَ وَکَذَا الحجِّ وَکُلُّ مَا لَا تَمْلِیکَ فِیہِ وَلَا یَجُوزُ أَنْ یُکَفَّنَ بِہَا مَیِّتٌ وَلَا یُقْضَی بِہَا دَیْنُ الْمَیِّتِ کَذَا فِی التَّبْیِینِ ملخصاً ‘‘۔ (2)
(۴)…مالِ زکوۃ اگر مسجد اور مدرسہ وغیرہ کی تعمیر میں صَرف کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی غریب آدمی کو دے دیں پھر وہ صرف کرے تو ثواب دونوں کو ملے گا۔ (3) (رد المحتار، بہار شریعت)
(۵)…وہابیہ زمانہ کہ توہین خداو تنقیص شانِ رسالت کرتے ہیں جن کو اَکابر علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق کافر و مرتد فرمایا ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں انہیں زکوۃ دینا حرام اور سخت حرام ہے اور اگر دی تو ہر گز ادا نہ ہوگی۔ (4)(بہار شریعت)
(۶)…گیہوں ، جَو ، جوار ، باجرہ ، دھان اور ہرقسم کے غلّے ، السی، کسم ، اخروٹ ، بادام اور ہر قسم کے میوے ، روئی، پھول ، گنا ، خربز، تربز، کھیرا ، ککڑی ، بینگن اور ہر قسم کی ترکاریاں سب میں عشر واجب ہے ۔ تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ ۔ (5)(عالمگیر ی، بہار شریعت)
(۷)…جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے ، اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے ۔ اور جس کی آب پاشی چرسے یا ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی پیدوار کا بیسواں حصہ واجب ہے ۔ اور اگر پانی خرید کر آب پاشی کی جب بھی بیسواں حصہ واجب ہے (6)۔ (درمختار، ردالمحتار)

(۸)…جس چیز میں عُشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر دیا جائے گا۔ کھیتی کے اخراجات یعنی ہل، بیل حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کی اُجرت یا بیج وغیرہ کی قیمت ان میں سے کوئی خرچ بھی عشر میں منہا نہیں کیا جائے گا۔ (1) (درمختار، بہارشریعت)

٭…٭…٭…٭

Exit mobile version