وضو کرنے کا مسنون طریقہ

وضو کرنے کا مسنون طریقہ

پہلے نیت کرے اور پھر بِسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد کم سے کم تین تین مرتبہ اوپر نیچے کے دانتوں کی چوڑائی میں مسواک کرے نہ کہ لمبائی میں اور اس طرح کہ پہلے دا ہنی جانب کے اوپر کے دانت مانجھے پھر بائیں جانب کے اوپر کے دانت پھر داہنی جانب کے نیچے کے دانت پھر بائیں جانب کے نیچے کے دانت مانجے ۔ اس کے بعد دونوں ہاتھ پر گٹوں سمیت پانی ملے اور انگلیوں میں خلال کرے پھر بائیں ہاتھ میں لوٹا وغیرہ لے کر دائیں ہاتھ پر انگلیوں کی طرف سے شروع کرکے گٹے تک تین بار پانی بہائے پھر لوٹے کو داہنے ہاتھ میں لے کر بائیں ہاتھ پر تین بار اسی طرح پانی بہائے اور اس کا خیال رہے کہ انگلیوں کی گھائیاں پانی بہنے سے نہ رہ جائیں اور اگر حوض سے وضو کرتا ہو تو گٹوں تک ہاتھوں کو ملنے کے بعد حوض میں پہلے داہنا ہاتھ ڈال کر تین بار ہلائے اور پھر بایاں ہاتھ ڈال کر تین بار ہلائے پھر تین بار کلی اس طرح کرے کہ منہ کی تمام جڑوں اور دانتوں کی سب کھڑکیوں میں پانی پہنچ جائے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو ہر کلی غرغرہ کے ساتھ کرے پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلیا ناک میں ڈال کر اسے صاف کرے اور سانس کی مدد سے تین بار داہنے ہاتھ سے نرم بانسوں تک پانی چڑھائے پھر چہرے پر اچھی طرح پانی مل کر اس کو تین بار اس طرح دھوئے کہ ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک اور پیشانی کے اوپر کچھ سر کے حصہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہر ہر حصے پر پانی بہہ جائے اور داڑھی کے بال وکھال کو دھوئے ہاں اگر داڑھی کے بال گھنے ہوں تو کھال کا دھونا فرض نہیں صرف مستحب ہے ۔ اور داڑھی کے جو بال منہ کے دائرے سے نیچے ہیں ان کو بھی دھوئے اور داڑھی کا خلال کرے اس طرح کہ انگلیوں کو گردن کی طرف سے داخل کرے اور سامنے نکالے ۔ پھر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت پانی مل کر پہلے داہنے ہاتھ پر اور پھر بائیں ہاتھ پر سرِ ناخن سے شروع کرکے کہنیوں کے اوپر تک بال اور ہر حصہ کھال پر تین بار پانی بہائے ۔ پھر سرکا مسح اس طرح کرے کہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے اور کلمہ کی انگلیاں چھوڑ کر باقی تین تین انگلیوں کے سرے ملا کر پیشانی کے بال اُگنے کی جگہ پر رکھے اور سر کے اوپری حصہ پر گدی تک انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرتا ہوا لے جائے اور ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں پھر وہاں سے ہتھیلیوں سے سر کی دونوں کروٹوں کا مسح کرتے ہوئے

پیشانی تک واپس لائے ۔ یا تین تین انگلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھے اور ہتھیلیاں سر کی کروٹوں پر جمائے ہوئے گدی تک کھینچتا لے جائے اور بس پھر اس کے بعد کلمہ کی انگلیوں کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کے باہری حصہ کا مسح کرے اور انگلیوں کی پیٹھ سے گردن کا مسح کرے پھر پائوں پر ٹخنوں سمیت پانی ملے اور پہلے داہنے پائوں پھر بائیں پائوں پر انگلیوں کی طرف سے ٹخنوں کے اوپر تک ہر بال اور ہر حصہ کھال پرتین تین بار پانی بہائے اور انگلیوں میں خلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے اس طرح کرے کہ دہانے پائوں کی چھنگلیا سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے اور بائیں پائوں میں انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کرے اور ہر عضو دھوتے وقت درود شریف پڑھتا ر ہے کہ افضل ہے ۔

ضروری انتباہ:

(۱)… کسی عضو کے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عضو کے ہر حصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہہ جائے ۔ (1)
(بہار شریعت، جلد دوم ص۹۳)
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۶۷ میں ہے ’’إسَالَۃُ الْمَائِ مَعَ التَّقَاطُرِ وَلَوْ قَطْرَۃً وَفِی ’’الْفَیْضِ‘‘ أَقَلُّہُ قَطْرَتَانِ فِی الْأَصَحِّ‘‘ اس عبارت کا حاصل معنی یہ ہے کہ تقاطر کے ساتھ پانی بہایا جائے اس طرح کہ عضو کے ہر حصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہہ جائے ۔ (2)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۴ میں ہے ’’ لَا یَجُوزُ الْوُضُو ء مَا لَمْ یَتَقَاطَرْ الْمَاء‘‘ یعنی جب تک کہ اعضائے وضو کے ہر حصہ پر پانی کی بوندیکے بعد دیگرے نہ گزر جائے وضو نہ ہوگا۔ (3)
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے ۔ ’’اَلْبَلَلُ بِالْمَاء فِی الْمَغْسُولَاتِ لَا یُسْقِطُ الْفَرْضَ‘‘ یعنی جن اعضاء کا دھونا فرض ہے انہیں صرف پانی سے بھگولینے پر فرض ادا نہ ہوگا۔ (4)
لہذا جو لوگ وضو کرتے وقت اعضاء پر تیل کی طرح پانی صرف چپڑ لیتے ہیں یا بعض حصہ پر تو پانی بہاتے

ہیں اور بعض حصے کو صرف بھگو کر چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً پیشانی کے بالائی حصے ، کان کے کنارے ، ہاتھ کی کہنیوں اور پائوں کے ٹخنوں پر تر ہاتھ صرف پھیر لیتے ہیں اور پانی نہیں بہاتے ہیں اِن کا وضونہیں ہوتا اس لیے کہ قرآن کریم نے اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے لہذا صرف بھگونے سے وضو نہ ہوگا۔
افسو س صد افسوس آج عوام تو عوام اکثر خواص بھی اس مسئلہ سے لاپرواہی برتتے ہیں اور آیت کریمہ {عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ(۳)تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ(۴)}کے مصداق بنتے ہیں۔ ( یعنی کام کریں، مشقت جھیلیں جائیں بھڑکتی آگ میں) العیاذ باللہ تعالیٰ۔
(۲)… جب چھوٹے برتن مثلاً لوٹے یا بدھنے سے وضو کررہا ہو تو گٹوں تک ہاتھ دھونے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں گٹوں تک ہاتھ خوب بھگولے ۔ اس کے بعد بائیں ہاتھ میں برتن اُٹھا کر داہنے ہاتھ پر سرِ ناخن سے گٹے کے اوپر تک تین بار پانی بہائے پھر اسی طرح داہنے ہاتھ میں برتن اٹھا کر بائیں ہاتھ پر گٹے تک تین بار پانی بہائے ۔ جیسا کہ شرح وقایہ جلد اول مجیدی کان پورص:۵۹، طحطاوی مصری ص:۳۹، فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۶ ، اور عنایہ و کفایہ شروح ہدایہ میں ہے ’’وَاللَّفْظُ لِلْفَتَاوٰی اَلْہِنْدِیَۃ کَیْفِیَّتُہُ إنْ کَانَ الْإِنَائُ صَغِیرًا أَنْ یَأْخُذَہُ بِشِمَالِہِ وَیَصُبَّ الْمَائَ عَلَی یَمِینِہِ ثَلَاثًا ثُمَّ یَأْخُذَہُ بِیَمِینِہِ وَیَصُبَّہُ عَلَی یَسَارِہِ کَذَلِکَ‘‘(1)
اور مراقی الفلاح مع طحطاوی مصری ص:۴۴ میں ہے ۔ ’’ وَیَسنّالبِدَا ۃُ ءبِالغَسْلِ مِنْ رُؤوْس الأَصَابِع‘‘(2)
(۳)… بہت سے لوگ یوں کر تے ہیں کہ ناک یا آنکھ یا بھوؤں پر چلّو ڈال کر سارے منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ منہ دُھل گیا حالانکہ پانی کا اوپر چڑھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح منہ دھلنے میں منہ نہیں دُھلتا اور وضو نہیں ہوتا۔ (3)

(۴)… وضو کرنے میں مندرجہ ذیل باتوں کی احتیاط ضروری ہے ۔ پیشانی کے اوپر بال جمنے کی جگہ سے پانی کا بہنا فرض ہے ۔ داڑھی مونچھ اوربھوؤں کے بال اگر اتنے چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال جھلکتی ہو تو کھال پر پانی بہانا ضروری ہے صرف بالوں کا دھونا کافی نہیں۔ آنکھ اندر گھسی ہو تو آنکھ اور بھوئوں کے درمیانی حصہ پر پانی بہانے کا خاص خیال رکھے ۔ منہ دھوتے وقت آنکھیں اور ہونٹ سمیٹ کر زور سے بند نہ کر ے ورنہ کچھ حصہ رہ جانے کی صورت میں وضو نہ ہوگا۔ بعض وقت آنکھ میں کیچڑ وغیرہ سخت ہو کر جم جاتا ہے اسے چھڑ ا کر پانی بہانا ضروری ہے ۔ رخسار اور کان کے درمیانی حصہ یعنی کنپٹی پر کان کے کنارے تک پانی بہانا فرض ہے اس سے اکثر لوگ غفلت برتتے ہیں۔ ناک کے سوراخ میں کیل وغیرہ ہو یا نہ ہو بہرحال اس پر پانی ڈالنا ضروری ہے ۔ جتنی داڑھی چہرے کی حد میں ہو اس کا دھونا فرض ہے اور لٹکی ہوئی داڑ ھی کا مسح کرنا سنت اور دھونا مستحب ہے ۔ پانی بہانے میں انگلیوں کی گھائیوں اور کروٹوں کا لحاظ ضروری ہے خصوصاً پائوں میں کہ اس کی انگلیاں قدرتی طور پر ملی رہتی ہیں۔ بڑھے ہوئے ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہو اس کا دُھلنا ضروری ہے ۔ ناخنوں کے سرے سے کہنیوں کے اوپر تک ہاتھ کا ہر پہلو اور ایک ایک بال کا جڑ سے نوک تک دھل جانا ضر وری ہے چلو میں پانی لے کر کلائی پر الٹ دینا ہر گز کافی نہ ہوگا۔ کہنیوں پر پانی بہانے کا خاص خیال رکھے کہ اکثر بے احتیاطی میں دھلتی نہیں صرف تر ہو کر رہ جاتی ہیں بلکہ بعض لوگوں کی کہنیاں تر بھی نہیں ہوتیں۔ انگوٹھی ، چوڑی ، کلائی کے زیورات اور پائوں کے ہر وہ زیور جو ٹخنے پر یا ٹخنے سے نیچے ہوں انہیں ہٹا کر ان کے نیچے پانی بہانا ضروری ہے ۔ پورے سر کا مسح سنت ہے ۔ اور چوتھائی سر کا مسح فرض ہے ۔ بعض لوگ صرف انگلیوں کے سرے سر پر گزار دیتے ہیں جو فرض کی مقدار کو بھی کافی نہیں ہوتا اور بعض لوگوں کا مسح یہ ہے کہ ٹوپی اٹھا کر پھر سر پر رکھ دیتے ہیں اور بس۔ ایسے لوگوں کا وضو نہیں ہوتا اور ان کی نمازیں بے کار ہوتی ہیں۔ پائوں دھونے میں ٹخنوں ، تلوئوں ، ایڑیوں اور کونچوں کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ اکثر بے احتیاطی میں یہ حصے دھلنے سے رہ جاتے ہیں اور وضو نہیں ہوتا۔
(۵)… عضو کے ہر حصہ پر تین بار پانی بہانا سنت ہے خواہ تین بار پانی بہانے کے لیے کئی چلو پانی لینا پڑے اس لیے کہ تین چلو پانی لینا سنت نہیں بلکہ پورے عضو پر تین بار پانی بہا نا سنت ہے جیسا کہ درمختار مع شامی جلد اول ص:۸۳میں ہے ’’وَتَثْلِیثُ الْغَسْلِ الْمُسْتَوْعِبِ وَلَا عِبْرَۃَ لِلْغَرَفَاتِ ‘‘(1) لہذا تین چلو پانی
لینے کو سنت سمجھنا غلطی ہے ۔
(۶)… وضو کے پانی کے لیے شرعاً کوئی مقدار معین نہیں جیسا کہ مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول ص:۳۲۶ میں ہے ۔ ’’الإِجْمَاعُ عَلَی أَنَّہُ لَا یُشْتَرطُ قَدْرٌ مُعَیَّنٌ فِی مَاء الْوُضُوئِ وَالغُسْلِ‘‘(1)
لہذا اتنا زیادہ پانی خرچ نہ کرے کہ اسراف ہو اور نہ اس قدر کم خرچ کرے کہ سنت ادا نہ ہو۔ بعض لوگ صرف ایک چھوٹے سے پانی کے لوٹے سے وضو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ انہیں دھونے اور بھگونے کا فرق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
(۷)… اگر اتنا پانی نہ ہو کہ وضو میں ہر عضو کو تین تین بار دھویا جاسکے تو دو دو بار دھوئے اور اگر دو دو بار دھونے کے کافی نہ ہو تو ایک ایک بار دھوئے اور اگر اتنا بھی نہ ہو کہ منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت اور دونوں پائوں ٹخنوں سمیت ایک بار دھوسکے تو اب تیمم کرکے نماز پڑھے ۔
(۸)… غیر کے نابالغ لڑکے سے بلا معاوضہ پانی بھروا کر وضو کرنا یا کسی دوسرے کام میں لانا جائز نہیں۔ (2) (بہار شریعت) درمختار مع شامی جلد چہارم ص:۵۳۱ میں ہے ’’ لَا تَصِحُّ ہِبَۃُ صَغِیرٍ‘‘(3)
(۹)… بعض مسجدوں میں چھوٹے حوض یا کسی بڑے برتن میں پانی ہوتا ہے اکثر لوگ جو بے وضو ہوتے ہیں ہاتھ دھوئے بغیر چھوٹے برتن سے پانی نکالتے ہوئے انگلی کا پور یا ناخن پانی میں داخل کردیتے ہیں اس طرح وہ پانی مستعمل ہوجاتا ہے ۔ اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔
(۱۰)… ڈول، بالٹی ، گھڑا ، لوٹا یا پاٹ کے پانی میں بے وضو آدمی کے بے دھُلے ہاتھ کا ناخن یا انگلی کا پور چلا گیا تو وہ پانی مستعمل ہوگیا۔ اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ اور اگر پہلے ہاتھ دُھولیا تو جو حصہ دُھلا ہو اسے پانی میں ڈال سکتے ہیں پانی مستعمل نہ ہوگا لیکن اگر ہاتھ دھولینے کے بعد کوئی سبب وضو ٹوٹنے کا پایا گیا مثلاً ریاح خارج ہوئی یا پیشاب کیا تو اب ہاتھ ڈالنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا۔
(۱۱)… مستعمل پانی کو وضو کے قابل بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ جو پانی مستعمل نہ ہو اسے مستعمل میں
اس قدر ملادیا جائے کہ مستعمل کم اور غیر مستعمل زیادہ ہوجائے ۔ یا مستعمل کے برتن میں غیر مستعمل پانی اتنا ڈالا جائے کہ وہ برتن بھر کر بہنے لگے تو سب پانی قابلِ وضو ہوجائے گا۔ (1) (درمختار مع رد المحتار)
(۱۲)… ناخن پالش استعمال کیا جس سے ناخنوں پر ہلکی تہ جم گئی تو اگر ناخنوں سے پالش صاف کیے بغیر وضو کیا تو وضو نہ ہوا۔
(۱۳)… استنجاء کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے اسے پھینک دینا سخت ناجائز و گناہ ہے ۔
(۱۴)… وضو کے بچے ہوئے پانی کو پھینک دینا حرام ہے اور کھڑے ہو کر پینا ثواب ہے ۔
(۱۵)… جو وضو نمازِ جنازہ کے لیے کیا گیا اس سے ہر نماز پڑھ سکتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭

________________________________
1 – ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۲۸۸.
2 – ’’الدر المختار ورد المحتار ‘ ‘، کتاب الطھارۃ، باب أرکان الوضوء أربعۃ، مطلب فی الفرض القطعی والظنی، ج۱، ص۲۱۷.
3 – ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، الفصل الأول فی فرائض الوضوء، ج۱، ص۳.
4 – ’’العنایۃ شرح الہدایۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، ج۱، ص۱۲.