ولی اللہ کی چادرپرآگ اثرنہ کرسکی

حکایت نمبر210: ولی اللہ کی چادرپرآگ اثرنہ کرسکی

حضرت سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : ” میں ایک یہودی کا مقروض تھا وہ قرض وصول کرنے میرے پاس آیا اور کہا:” مجھے کوئی ایسی کرامت دکھاؤ جس سے میں اسلام کی عظمت جان جاؤں اور مجھ پر یہ بات ظاہرہوجائے کہ دین ِ اسلام، یہودیوں کے دین سے بہتر ہے۔ اگر تم کوئی کرامت دکھادو تو میں مسلمان ہوجاؤں گا۔”میں نے کہا:” کیا تم واقعی مسلمان ہوجاؤگے ؟” اس نے کہا:” ہاں۔”اسے دین ِاسلام کی طرف راغب ہوتا دیکھ کر میں نے اس کی چادر ،اپنی چادر میں لپیٹی اور اینٹوں کے بھَٹّے میں ڈال دی۔ پھر میں خودبھَٹے میں داخل ہوااور جلتی ہوئی آگ سے چادر یں نکال لایا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میرا ایک بال بھی نہ جلا۔جب میں نے اس یہودی کے سامنے اپنی چادر کھولی تو وہ بالکل صحیح و سالم تھی اوریہودی کی چادر اندر ہونے کے باوجود جل کر راکھ ہو گئی تھی۔ اسلام کی یہ حَقّانیت دیکھ کروہ یہودی کلمۂ شہاد ت پڑھ کرمسلمان ہوگیا ۔”
یہ حکایت حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی صغیر علیہ رحمۃ اللہ الکبیر کے متعلق ہے۔ ایک بزرگ حضرتِ سیِّدُناابراہیم آجُرِی کبیر علیہ رحمۃ اللہ الکبیر بھی تھے جن کا ذکر پچھلی حکایت میں گزرا یہ دونوں اپنے دور کے زبردست ولی اور صاحبِِ کرامت بزرگ تھے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)