تلاوت ہو تو ایسی ہو

حکایت نمبر:350 تلاوت ہو تو ایسی ہو۔۔۔۔۔۔!

یزید بن محمد بن مَسْلَمَہ بن عبدالمَلِک سے منقول ہے کہ ہمیں ہمارے ایک غلام نے بتایا: حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کے انتقال کے بعد ان کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدالمَلِک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا بہت زیادہ روتیں یہاں تک کہ اُن کی بینائی جاتی رہی ۔ ایک مرتبہ ان کے بھائی مَسْلَمَہ اورہِشَام آئے اور کہا:” پیاری بہن! آخر آپ اتنا کیوں روتی ہیں ؟ اگر آپ اپنے شوہر کی جدائی پر روتی ہیں تو وہ واقعی ایسے مردِ مجاہد تھے کہ ان کے لئے رویا جائے۔ اگر دنیوی مال ودولت کی کمی رُلا رہی ہے تو ہم اور ہمارے اموال سب آپ کے سامنے حاضر ہیں ؟” حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدالمَلِک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے فرمایا: ”میں ان دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی نہیں رو رہی۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے تو وہ عجیب وغریب اوردرد بھرا منظر رُلا رہا ہے جو میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کے ساتھ ایک رات دیکھا ۔اس رات میں یہ سمجھی کہ کوئی انتہائی ہولناک منظر دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حالت ہوگئی ہے اور آج رات آپ کا انتقال ہوجائے گا۔”
بھائیوں نے پوچھا:”پیار ی بہن! ہمیں بتایئے کہ آپ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کو اُس رات کس

حالت میں دیکھا۔” فرمایا :” میں نے دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نماز پڑھ رہے تھے، جب قرا ء َت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے:

یَوْمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوۡثِ ۙ﴿4﴾ وَ تَکُوۡنُ الْجِبَالُ کَالْعِہۡنِ الْمَنۡفُوۡشِ ؕ﴿5﴾

ترجمۂ کنزالایمان :جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اورپہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اُون۔(پ30،القارعۃ:4۔5)
تویہ آیت پڑھتے ہی ایک زور دار چیخ مار کر فرمایا:” ہائے! اس دن میرا کیا حال ہوگا۔ ہائے ! وہ دن کتنا کٹھن ودشوار ہو گا۔” پھر منہ کے بَل گر پڑے اورمنہ سے عجیب وغریب آوازیں آنے لگیں پھر آپ ساکت ہوگئے۔ میں سمجھی کہ شاید آپ کا دم نکل گیا ہے۔کچھ دیر بعد آپ کو ہوش آیا تو فرمانے لگے: ”ہائے! اس دن کیسا سخت معاملہ ہوگا ۔”اور چیختے چلاَّتے صحن میں چکر لگاتے ہوئے فرمایا:” ہائے ! اس دن میری ہلاکت ہوگی جس دن آدمی پھیلے ہوئے پتنگوں کی طرح اورپہاڑ دھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔” ساری رات آپ کی یہی کیفیت رہی۔ جب صبح کی اذانیں شرو ع ہوئیں تو آپ گر پڑے ،میں سمجھی کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے۔ اے میر ے بھائیو! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جب بھی مجھے وہ رات یاد آتی ہے تو میری آنکھیں بے اختیار آنسو بہانے لگتی ہیں باوجودکوشش میں اپنے آنسونہیں روک پاتی ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے کس طر ح لرزاں وترساں رہا کر تے تھے۔ ہر گھڑی قیامت کا ہولناک منظر ان کے سامنے ہوتا۔بہت زیادہ عبادت وریاضت اور گناہوں سے حد درجہ دوری کے باوجود وہ پاکیز ہ خصلت لوگ اپنے آپ کو گناہ گار وعصیاں شعار تصور کرتے، حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ان کا مرتبہ ومقام بہت اعلیٰ وارفع ہوتا۔وہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچی عاجزی کیا کرتے، صغیرہ گناہوں بلکہ خلافِ اولیٰ باتوں سے بھی کوسوں دور بھاگتے ، جہنم کا ہولناک گڑھا ہر لمحہ ان کے پیشِ نظر ہوتا ، وہ کبھی بھی کوئی ایسا کام نہ کرتے جو باعث ِہلاکت ہوتا۔ اور ایک ہم ہیں کہ اپنی آخرت اور حساب و کتاب کو بھول بیٹھے ہیں، شیطان کے بہکاوے میں آکر ہم اپنے آپ کو گناہوں کے عمیق گڑھے میں گراتے چلے جارہے ہیں۔ نہ گناہوں پر ندامت، نہ کسی قسم کی شرمندگی ۔ اگرخطاؤں کو یاد کر کے چند آنسو بہالیتے تو گناہوں کا مَیل کچھ تو دُھل جاتا مگر آہ،
؎ ندامت سے گناہوں کا ازالہ کچھ تو ہوجاتا ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے ۔ گناہوں سے سچی توبہ پھر اس پر اِستقامت کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے بزرگوں کے صدقے ہماری کامل مغفرت فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

Exit mobile version