طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟

سوال نمبر۳۰:-طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟

جواب :-طلاق دینے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ان پاکی کے دنوں میں جن میں عورت سے جماع نہ کیاہو ایک طلاق دی جائے او ر چھوڑ دیا جائے حتی کہ عدت کے دن گزرجائیں او راس سے کم اچھا طریقہ متعدد صورتوں پر مشتمل ہے۔ (۱)جس عورت سے خلوت نہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے اگر چہ حیض کے دنوں میں ہو ۔ (۲)جس سے خلوت ہوچکی اس کو تین طہروں (پاکی کے دنوں میں) تین طلاقیں دی جائیں ہر طلاق ایک طہر میں واقع ہو اور کسی طہر میں عورت سے جماع نہ کیا ہواور نہ ہی حیض کے دنوں میں عورت سے جماع کیا ہو (۳)وہ عورت جسے حیض نہیں آتا مثلاً نابالغہ یا حاملہ یا حیض نہ آنے کی مدت کو پہنچی ہوئی عورت ان سب کو تین مہینوں میں تین طلاقیں دیں اگر چہ جماع کرنے کے بعد یہ سب صورتیں بھی جائز ہیں ان میں کچھ کراہت نہیں ۔ او ر اس کے علاوہ حیض میں طلاق دینا یا ایک ہی طہر (پاکی کے دنوں) میں تین طلاقیں دینا یا جس طہر میں عورت سے جماع کیا اس میں طلاق دینا یا طلاق طہر میں دی مگر اس سے پہلے جو حیض گزرا اس میں عورت سے جماع کیا تھا یا پہلے والے حیض میں طلاق دی تھی یا یہ سب باتیں نہیں مگر طہر میں طلاق بائن دی تھی یعنی وہ طلاق جس میں بغیر نکاح کے رجوع نہیں ہوسکتا جس کی تفصیل (سوا ل نمبر ۲۱) کے جواب میں گزری ان سب صورتوں میں طلاق دینا بہت برا اور ممنوع ہے ۔ مگر سب صورتوں میں طلاق ہوجائے گی۔ لہذاچاہیے کہ سب سے پہلا طریقہ اختیار کیا جائے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک طلاق شاید ہوتی ہی نہیں تین طلاقیں ہی صحیح طلاق ہوتی ہے۔ یہ بات درست نہیں جیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہوچکا ۔