سونے کاانڈہ دینے والاسانپ

سونے کاانڈہ دینے والاسانپ

راہب نے کہامنقول ہے کہ:” ایک شخص کے گھرمیں ایک سانپ رہتاتھا،سب گھروالوں کواس کامسکن(رہنے کا مقا م ) بھی معلوم تھا۔ سانپ روزانہ سونے کاایک انڈہ دیتاجس کاوزن ایک مثقال ہوتا۔صاحب ِمکان روزانہ اس کے بِل سے سونے کا انڈہ لے آتا۔اس نے گھروالوں کوبتادیاکہ وہ اس معاملہ کو پوشیدہ رکھیں ۔ کئی ماہ یہ سلسلہ چلتا رہاحاصل کرتارہا۔ایک دن سانپ اپنے بِل سے نکلااوراس کی بکری کوڈَس لیا ۔سانپ کازہرایساجان لیواتھاکہ فوراًبکری کی موت واقع ہوگئی۔ سب گھر

والے بہت غضبناک وپریشان ہوئے تو اس شخص نے کہا:”ہمیں سانپ سے جو نفع حاصل ہوتاہے وہ بکری کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذاغم کی کوئی بات نہیں ۔”اس طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا۔سال کے شروع میں سانپ پھر باہرآیا اوراس کے پا لتو گدھے کوڈس لیا گدھافوراًمرگیا۔ اس شخص نے گھبراتے ہوئے کہا:”میں دیکھ رہاہوں کہ یہ سانپ ہمیں مسلسل نقصا ن پہنچا رہا ہے۔ جب تک یہ نقصان جانوروں تک محدودرہے گامیں صبرکروں گااس کے بعدہرگزصبرنہیں کروں گا۔”پھردوسال تک سا نپ نے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائی، تمام گھروالے سانپ سے بہت خوش رہنے لگے اوراس کے معاملے کولوگوں پرپوشیدہ رکھا ۔ پھر ایک دن سانپ اپنے بل سے باہرنکلااوران کے سوتے ہوئے خادم کو ڈَس لیا۔اس بے چارے نے مددکے لئے اپنے مالک کوپکارامالک پہنچالیکن اتنے میں زہرکی وجہ سے غلام کاجسم پھٹ چکاتھا۔اس نے کہا:”میں دیکھ رہاہوں کہ اس سانپ کازہربہت خطرناک ہے ،یہ جسے ڈس لیتاہے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔اب میں اپنے گھروالوں کے بارے میں اس سے مطمئن نہیں ہوسکتاکہیں ایسانہ ہوکہ یہ ان میں سے کسی کوڈس لے۔اسی سوچ وپریشانی میں کئی دن گزرگئے ۔پھراس نے کہا:”اس سانپ کی وجہ سے مجھے مالی نقصان ہو ر ہا ہے لیکن جوفائدہ اس کے سونے کے انڈوں کی وجہ سے مجھے حاصل ہورہاہے وہ نقصان سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذامجھے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔”اس طرح اس لالچی شخص نے اپنے آپ کومطمئن کرلیا۔
کچھ دنوں بعدسانپ نے اس کے بیٹے کوڈس لیا۔اس نے فوراًطبیب کوبلایالیکن طبیب علاج نہ کرسکااوراس کے بیٹے کی موت واقع ہوگئی ۔اب توماں ،باپ کوبیٹے کی موت کاایساغم ہواکہ سانپ سے پہنچنے والا تمام نفع بھول گئے اورغضبناک ہوکر کہا:”اب اس سانپ میں کوئی بھلائی نہیں، بہتریہی ہے کہ اس موذی کوفوراًقتل کردیاجائے ۔”سانپ نے ان کی یہ باتیں سنیں توکچھ دنوں تک غائب رہااس طرح انہیں سونے کاانڈہ نہ مل سکا۔ جب زیادہ عرصہ ہوگیاتو انڈہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی لالچی طبیعت میں بے چینی ہونے لگی۔ چنانچہ وہ اوراس کی بیوی ،سانپ کے بل کے پاس آئے،وہاں دھو نی دی،خوشبومہکائی اوراس طرح پکارنے لگے:”اے سانپ تُودوبارہ ہمارے پاس آجا!ہم نہ توتجھے ماریں گے اورنہ ہی کسی قسم کا نقصا ن پہنچائیں گے ،جلدی سے ہمارے پاس آجا۔”سانپ نے یہ سناتوواپس آگیا اوران کی خو شیاں پھر لوٹ آئیں۔ وہ اپنے بیٹے اورغلام کی موت کوبھول گئے اورایسے رہنے لگے گویا اس موذی جانورسے کوئی نقصان پہنچاہی نہ ہو۔پھرایک دن سانپ نے سوتے ہوئے اس کی زوجہ کو ڈس لیاوہ شدتِ دردسے چیخنے لگی اور تڑپ تڑپ کرہلاک ہوگئی ۔اب وہ لالچی شخص اکیلارہ گیا،نہ اولادرہی اور نہ ہی بیوی ۔بالآخراس نے سانپ والامعاملہ اپنے بھا ئیوں اوردوستوں کے سامنے ظاہرکرہی دیا۔سب نے یہی مشورہ دیاکہ” اس موذی سانپ کوجلدازجلدقتل کردے،تو نے اسے قتل کرنے کے معاملہ میں بڑی بے احتیاطی بَرتی اس کادھوکہ اوربرائی تیرے سامنے کب کی ظاہرہوچکی تھی ،تُونے خوداپنے آپ کوہلاکت میں ڈ ا لاہے ۔بہتریہی ہے کہ جتناجلدی ہوسکے اسے قتل کردے۔”

چنانچہ، وہ شخص اپنے گھرآیااورسانپ کی گھات میں بیٹھ گیا۔اچانک سانپ کے بل کے قریب اسے ایک نایاب موتی نظرآیاجس کاوزن ایک مثقال تھا۔موتی دیکھ کراس کی لالچی طبیعت خوش ہوگئی ۔وہ لالچ کے عمیق گڑھے میں گرتاہی چلا گیا، شیطان نے اسے بہکایاتودولت کی ہَوَس نے اس کی آنکھوں پرغفلت کاپردہ ڈال دیا۔وہ سب باتیں بھول کرکہنے لگا: ”زمانہ طبیعتوں کومختلف کردیتاہے، اس سانپ کی طبیعت بھی مختلف ہوگئی ہوگی جس طرح سونے کے انڈوں کے بجائے یہ موتی دینے لگاہے، اسی طرح اس کازہربھی ختم ہوگیاہوگا،لہٰذامجھے سانپ سے بے خوف ہوجاناچاہے ۔”یہ کہہ کراس نے سانپ کے بل کے قریب جھاڑو دی،خوشبومہکائی،پانی چھڑکاتوسانپ دوبارہ اس کے پاس آنے لگا۔اب یہ لالچی شخص قیمتی موتی پاکربہت خوش رہنے لگااورسانپ کی سابقہ دھوکہ بازی کوبھول گیا۔پھراس نے ساراسونااور موتی برتن میں ڈ ال کرایک گڑھا کھودکرزمین میں دبادیااوراس پرسررکھ کرسوگیا۔رات کوسانپ نے اسے بھی ڈس لیا ۔ شدتِ دردکی وجہ سے اس کی چیخیں بلندہونے لگیں توپڑوسی بھاگ کرآئے اوراسے ڈانٹتے ہوئے کہا:” تم نے اسے قتل کرنے میں سستی کیوں کی ،اورلالچ میں آکراپنی جان کیوں دے دی ؟” لالچی خاموش رہااورسونے سے بھراہوابرتن نکال کراپنے رشتے داروں اور دو ستو ں کے حوالے کرتے ہوئے اپنے فعل سے معذرت کی ۔ دوستوں اورعزیزوں نے کہا:”آج کے دن تیرے نزدیک اس مال کی کوئی وقعت نہیں کیونکہ اب یہ دوسروں کاہوجائے گاا و رتُوخالی ہاتھ چلاجائے گا۔”کچھ ہی دیربعد وہ لالچی شخص ہلاک ہو گیا اور سا ر ا مال دوسروں کے لئے چھوڑ گیا۔ لوگوں نے کہا:”اس محروم شخص نے خودہی اپنے آپ کوہلاکت میں ڈالا حا لانکہ ہم سب نے اسے کہاتھاکہ اس موذی سانپ کوفوراًہلاک کردینالیکن مال ودولت کے لالچ نے اسے اندھاکردیا ۔ ‘ ‘
یہ واقعہ سنانے کے بعدراہب نے کہا:”مجھے تعجب ہے ان لوگوں پرجو سانپ والی حکایت جاننے کے باوجودبھی عبرت حاصل نہیں کرتے !ایسالگتاہے کہ ان کایہ قول کہ ”ہمیں امیدہے کہ اعمال پرثواب ملے گا” صرف ان کی زبانوں تک محدودہے کیونکہ ان کے اعمال اس قول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ہلاکت ہے ان لوگو ں کے لئے جوجاننے کے باوجودغافل ہیں،اگران کوبھی وہ شی پہنچی جو”انگوروالے ”کوپہنچی تھی توان کے لئے ہلاکت وبربادی ہے ۔”پوچھا:”حضور!”انگوروالے” کے ساتھ کیاواقعہ پیش آیا ہمیں تفصیلاًبتائیے ؟”