شیطان کے تین ہتھیار

حکایت نمبر453: شیطان کے تین ہتھیار

حضرتِ سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے،”بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عرصۂ دراز سے مصروف ِ عبادت تھا،وہ مجاہدات کرتا اور ہمیشہ گناہوں سے بچتا۔ اس کی عبادت وپارسائی کو دیکھ کر شیطان کے چیلے ابلیس کے پاس آئے اور کہا:”فلاں شخص نے ہمیں عاجز کردیا ہے اس سے ہمیں کچھ حصہ نہیں ملا۔” اپنے کمینے چیلوں کی یہ بکواس سن کر ابلیس لعین نے اس عابد کو بہکانے کی ٹھانی اور اس کے عبادت خانے پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا ۔ عابد نے پوچھا :”کون ہے؟” ابلیس بولا: ”میں مسافر ہوں، آج رات مجھے اپنے پاس پناہ دے دو۔” کہا:”یہاں بہت ہی قریب ایک بستی ہے تو وہاں چلا جا۔” ابلیس نے کہا:” خدا کا خوف کر و، میں مسافر ہوں مجھے درندوں اور چوروں کا خطرہ ہے، اتنی رات گئے میں کہاں مارا مارا پھروں گا۔” عابد نے کہا :”میں ہرگز دروازہ نہیں کھولوں گا۔”یہ سن کر ابلیس خاموش ہوگیا ۔کچھ دیر بعد پھر دستک دی اور کہا:”جلدی سے میرے لئے دروازہ کھولو۔”عابد نے پوچھا:”کون ہے؟”کہا:” میں مسیح (یعنی عیسیٰ علیہ السلام ) ہوں ۔”(معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ)
عابد نے کہا:” اگر تُو مسیح ہے تو پھر تجھے میری حاجت ہی کیا ہے ،تُو تواپنے رب کی رسالت اور آخرت کے وعدے کو پہنچ چکا ہے۔”ابلیسِ لعین پھر خاموش ہوگیا۔کچھ دیر بعد پھر شیطانی طبیعت مچلی تو دروازہ کھٹکھٹایا ۔عابد نے پوچھا: ” کون ہے؟” کہا:”میں ابلیس ہوں۔”عابد نے کہا :” میں ہرگز تیرے لئے دروازہ نہیں کھولوں گا۔” ا بلیس لعین نے کہا:” تجھےاللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ! تجھے تیرے ربّ کا واسطہ! دروازہ کھو ل دے۔”ابلیسِ لعین کافی دیر تک منت سماجت کرتا رہا اور پختہ وعدہ کیا کہ میں تجھے کبھی بھی کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔”بالآخرعابد نے دروازہ کھول دیا۔ ابلیس اس کے سامنے بیٹھ گیااور کہا:” مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو، میں تمہیں ہر سوال کا جواب دوں گا۔”عابد نے کہا:” مجھے تجھ سے کوئی سَرَوکار نہیں۔” یہ سن کر ابلیسِ لعین واپس جانے لگا تو عابد نے اسے پکارکر کہا:” میں تجھ سے کچھ پوچھنا چاہتاہوں؟”ابلیسِ لعین واپس آیا اور کہا:”پوچھو!کیاپوچھنا چاہتے ہو؟” کہا:” بنی آدم کی ہلاکت میں تمہار ے لئے سب سے زیادہ مددگار شئے کیاہے ؟” ابلیس نے کہا:”نشہ ہمارا سب سے کامیاب وار ہے، کیونکہ جب کوئی شخص نشے میں آجاتا ہے تو ہم جو چاہتے ہیں اس سے کرواتے ہیں پھروہ ہم سے بچ نہیں سکتا، ہم اس سے اس طرح کھیلتے ہیں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔”عابد نے کہا:” دوسری ہلاکت خیز شئے کیاہے ؟” کہا:”غصّہ وغضب بھی ہمارے مہلک ترین ہتھیار ہیں۔ اگر انسان عبادت کرکے اس مقام ومرتبہ کو پہنچ جائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنے لگے تب بھی ہم اس سے مایوس نہیں ہوتے ،ہمیں امید ہوتی ہے کہ اس کے غیظ وغضب کی وجہ سے ہمیں اس سے ضرور کچھ حصہ ملے گا۔”عابد نے کہا :”ان کے علاوہ تمہارے پاس اور کون سا مہلک ہتھیار ہے؟”کہا:”بُخل بھی ہمارا

بہترین ہتھیا ر ہے۔ انسان پرجو نعمتیں ہیں ہم انہیں تھوڑی کرکے دِکھاتے ہیں اور لوگوں کے پاس جومال ودولت ہے اسے اس کی نظروں میں زیادہ کر دیتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے مال میں حقوقُ اللہ کی ادائیگی کے معاملے میں کنجوسی سے کام لیتا اور ہلاکت کی وادیوں میں جاگرتا ہے ۔”(الامان والحفیظ)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیطان لعین انسان کا کھلا دشمن ہے وہ ہرآن انسانوں کو بہکانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔اس کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے ایسے لوگوں کی صحبت ضروری ہے جواس کے واروں سے بچنے کے طریقے جا نتے ہوں اور ان کے سینے، خوف خدا و محبت مصطفی عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے منوّر ہوں ،ان کے ساتھ رہ کر سنتوں پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ ملے اور نیکیا ں کرنا آسان ہو جائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اچھے لوگوں کی صحبت عطا فرمائے اورنفس وشیطان کی شرارتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)