شہادت ہے مطلوبُ وْمقصودِ مؤمن

حکایت نمبر378 : شہادت ہے مطلوبُ وْمقصودِ مؤمن

حضرتِ سیِّدُنا ابواُمَیَّہ عبداللہ بن قَیْس غِفَارِی علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: ” ایک مرتبہ ہم لشکر ِ اسلام کے ساتھ جہاد کے لئے گئے ۔ جب دشمن سامنے آیا تو لوگوں میں شور بر پا ہوگیا ۔ اس دن ہوا بہت تیز تھی۔ تمام مجاہدین دشمن کے سامنے صف بہ صف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ۔ اچانک میرے سامنے ایک نوجوان آیا جس کا گھوڑا اُچھل کود رہا تھا اور وہ اسے دشمن کی طرف دوڑا رہا تھا اور اپنے آپ سے یوں مخاطب تھا :
”اے نفس ! کیا تو فلاں حاضر ہونے کی جگہ حاضر نہ ہوگا؟ کیاتو مرتبۂ شہادت کا طلب گار نہیں کہ توکہہ رہا ہے : ” تیرے

بچوں اور اہل وعیال کا کیا بنے گا؟” کیا ایسی چیز وں کی طر ف تو جہ دِلا کر تو مجھے واپس لے جانا چاہتا ہے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ اے نفس! کیا تومرتبہ شہادت سے منہ موڑتا ہے؟ تیرا کیا خیال ہے کہ میں تیرے بہکاوے میں آکر اہل وعیال کی فکر میں جہاد سے پیٹھ پھیر لوں گا؟ ہر گز نہیں ! تیری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آج تو میں ضرور تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کروں گا اب چاہے وہ تجھے قبول کرکے مرتبۂ شہادت سے نوازدے، چاہے چھوڑدے ۔”
وہ نوجوان یہ کہتا ہوا دشمن کی طرف بڑھنے لگا ۔ میں نے کہا: ”آج میں اس کی نگرانی کرو ں گا اور دیکھو ں گاکہ یہ کیا کرتا ہے؟ اب میری تو جہ اسی نوجوان کی طرف تھی۔ اسلام کے شیروں نے دشمن پر بڑھ چڑھ کر حملہ کیا تو وہ نوجوان صف ِ اوّل میں بڑے دلیرانہ انداز میں حملہ کر رہا تھا، اُدھر سے دشمن بھی شدید حملے کر رہے تھے۔ میدانِ کار زارمیں ہرطرف چیخ وپکار اور تلواروں کے ٹکرانے کا شور برپا تھا۔ میں نے اس نوجوان پر اپنی نظریں جما رکھی تھیں ۔وہ بڑی بے جگری اور ہمت سے لڑرہا تھا، دشمن کی تلواریں اس کے جسم کو زخمی کررہی تھیں، اس کا گھوڑا بھی زخموں سے نڈھال ہوچکا تھا لیکن وہ مردانہ وار بڑھ بڑھ کر دشمن پر حملہ کر رہا تھا۔ بالآخر لڑتے لڑتے زخموں سے چُورچُورہوکرزمین پر گِر پڑا اور اس کی روح قفسِ عنصری سے عالَمِ بالا کی طرف پرواز کر گئی۔جب میں نے دیکھا تو اس کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے ساٹھ(60) سے بھی زائد گہرے زخم تھے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)