شب و روز کے معمولات

شب و روز کے معمولات

اب سورج کی کرنیں ہرسوبکھر چکی ہیں، اپنے آپ کو علم کی
گتھی سلجھانے میں لگا دو۔ ان میں سب سے زیادہ اہم صحتِ قرأتِ قرآن ہے، پھر فقہ۔اگر
تم چاشت کے وقت تک اپنے اسباق کی تیاری کر لو تو صلوٰۃ الضحیٰ کی آٹھ رکعتیں پڑھنا
نہ بھولو۔ پھر مطالعہ کتب یا  تحریر و کتابت
کا مشغلہ عصر تک جاری رکھو۔ عصر سے مغرب تک پھر اپنے اسباق کی تیاری میں جٹ جاؤ۔نمازِ
مغرب کے بعد دو رکعتیں خاص طور سے پڑھ لیا کرو، جس میں دو جزء قرآن کی تلاوت کیا
کرو۔ اب نمازِ عشا کے بعد پھر اپنے اَسباق کو یاد کرنے میں منہمک ہو جاؤ۔
جب بسترپرجاؤ توتینتیس مرتبہ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘تینتیس
مرتبہ ’’الحَمْدُللہِ‘‘ اور چونتیس مرتبہ ’’اللہُ اکْبَرُ‘‘(
۱)کا ورد
کر کے یہ دعا پڑھو  :
اللّٰہُمَّ قِنِي عَذَابَکَ یَومَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ o  (۲)
مولا!جس دن (یعنی بروزِ قیامت) بندوں کی شیرازہ بندی ہو
گی اس دن اپنے عذاب و عتاب سے ہمیں بچا لینا۔
____________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۱۰۴حدیث:۶۳۱۸۔
(۲)      سنن ترمذی:۱۲؍۳۰۶ حدیث: ۳۷۲۶… مسند حمیدی:۲؍۳۶حدیث:۴۷۱… سنن
نسائی کبریٰ:
۶؍ ۱۸۸حدیث:
۱۰۵۹۲… مسند ابویعلی موصلی:۳؍۲۴۳حدیث: ۱۶۸۲… مسنداحمد
بن حنبل:
۱؍ ۳۹۴ حدیث: ۳۷۴۲… مسند اسحق بن راہویہ:۴؍۱۹۰حدیث:۶…مسندابن
ابی شیبہ:
۵؍۳۲۴ حدیث:
۲۶۵۳۸…اتحاف الخیرۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ:۲؍۲۱۔
جب نیندسے آنکھیں کھلیں،  فوراً اپنے پہلو کو خواب گاہ سے جدا کر دو اور یہ
سمجھو کہ نفس نے اپنا کام پورا کر کیا ہے،لہٰذا اُٹھو اور جا کر وضو کرو اور نیم
شبی کی خلوتوں میں جتناہوسکے پروردگار کی بارگاہ میں سجدوں کا خراج پیش کرو،
اوسطاً دو رکعتیں اَدا کرو ان کے بعد پھر دو مزید رکعتیں جن میں دو جزء قرآن کی
تلاوت کرو۔ازاں بعد تحصیل علم اور اپنے اسباق کی تیاری میں لگ جاؤ،کیوں کہ علم
بہرحال ہر طرح کے نوافل سے افضل ہے۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
Exit mobile version