سانپ نما جن

حکایت نمبر461: سانپ نما جن ّ

حضرتِ حسین بن خالد علیہ رحمۃ اللہ الخالق کہتے ہیں :”ایک مرتبہ عُبَیْدبن اَبْرَص اپنے رفقاء کے ہمراہ کسی کام سے جارہے تھے۔ راستے میں ریتلی زمین پرایک سانپ لوٹ پوٹ ہورہاتھادوستوں نے پکارکرکہا:”اے عبید!تیرے قریب خوفناک اژدہا ہے اس سے بچ اور اسے مارڈال ۔”عبیدنے کہا:”شدتِ پیاس کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی ہے، یہ تواس لائق ہے کہ اسے پانی پلایاجائے۔” دوستوں نے کہا:”اے عبید!یہ بہت خطرناک ہے یاتوتُواسے قتل کردے ورنہ ہم اسے مارڈالیں گے ۔”عبید نے کہا:”میں تمہاری طرف سے اسے کافی ہوں، تم بے فکررہو۔”یہ کہہ کراس نے سانپ کو پانی پلایا اور کچھ پانی اس کے سر پر ڈال دیا۔ پھرسانپ ایک جانب روانہ ہوگیا۔ دورانِ سفرعبیدراستہ بھول گیااوراس کا اونٹ بھی گم ہوگیا۔یہ بہت پریشان ہوا کیونکہ اس

ویران جگہ میں کوئی ایسانہ تھاجواسے راہ بتاتا۔اچانک اسے ایک غیبی آوازسنائی دی:
”اے رستہ بھٹکے ہوئے وہ مسافرجس کااونٹ گم ہوچکا ہے اورکوئی بھی ایسا نہیں جوتیرارفیقِ سفربنے!یہ لے !ہماری طرف سے اونٹ لے جا اوراس پرسوارہوکرچلتا رہ۔ جب رات ختم ہوجائے اور صبح کااُجالاپھیلنے لگے تواس اونٹ سے اُتر جانا۔” جیسے ہی یہ آواز ختم ہوئی اچانک عبید کے پاس ایک اونٹ نمودارہو گیا،وہ اس پرسوارہوااور ساری رات سفرکرتارہا۔جب صبح ہوئی تو اس راستہ تک پہنچ چکاتھاجس سے اچھی طرح واقف تھا۔وہ اونٹ سے اُترا اورپکارکرکہنے لگا:”اے اونٹ والے!تُونے مجھے بہت بڑی تکلیف اورایسے بیابان جنگل سے نجات دی جس میں اچھے اچھے واقف کاربھی رستہ بھول جاتے ہیں۔کیاتُوہمارے پاس صبح نہیں کریگا؟ تاکہ ہم جان جائیں کہ اس وادی میں کس نے ہم پر نعمتوں کے ساتھ سخاوت کی ۔ہمارے پاس آ اور تعریف پا کرامن سے واپس چلا جا۔”اچانک ایک غیبی آواز سنائی دی:
”میں ایک جنّ ہوں،میں تیرے سامنے اژدھے کی صورت میں تپتی ہوئی ریت پرشدتِ پیاس سے تڑپ رہاتھا،میری حالت یہ تھی کہ مجھ پر حملہ کرنابالکل آسان تھاایسے کَڑے وقت میں جبکہ پانی پینے والابھی بخل کرتاہے۔ لیکن تم نے پانی سے مجھے سیراب کیا اور کنجوسی نہ کی ۔نیکی باقی رہتی ہے اگرچہ طویل عرصہ گزرجائے اوربرائی خبیث شئے ہے اسے کوئی اپنازادِراہ نہیں بناتا۔”
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ایک جِنّ تھاجو اژدھے کی شکل میں شدتِ پیاس سے تڑپ رہاتھا۔عبیدنے ترس کھا کر اسے پانی پلایااوراس پراحسان کیا توجِنّ نے بھی احسان فراموشی نہ کی اورجب عبید راستہ بھول گیاتواس کی مددکی اوراسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیا۔ حقیقت ہے کہ جوکسی کے ساتھ احسان کرتاہے اس پربھی احسان کیاجاتاہے ۔جوکسی کابھلاسوچتاہے اس کے ساتھ بھی بھلائی والا معاملہ کیاجاتاہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں لوگوں کے لئے نقصان دہ نہ بنائے بلکہ فائدہ دینے والے عظیم لوگوں میں شامل فرمائے۔ اور ہمیں ایسا جذبہ عطافرمائے کہ ہماری وجہ سے کسی اسلامی بھائی کوکوئی نقصان نہ پہنچے اورہم اپنے مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی کے لئے ہردم کوشاں رہیں اورپوری دنیامیں دینِ اسلام کاڈَنکابجادیں۔)
؎ عطارؔسے محبوب کی سنت کی لے خدمت ڈنکا یہ تیرے دین کا دنیا میں بجا دے(آمین)!
( آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)