روزہ کے احکام و مسائل

کتاب الصوم
روزہ

(۱)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَآء وَفِيْ رِوَایَۃٍ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِینُ وَفِی رِوَایَۃٍ فُتحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ ‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جب ماہِ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوز خ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’کشادہ شدن درہائے آسمان کنایت ست از پیاپے فرستادن رحمت وصعود اعمال بے مائع واجابت دعا۔ وکشادہ شدن درہائے بہشت از بذل توفیق وحسن قبول وبستہ شدن درہائے دوزخ از تنزیہ نفوس روزہ داران از آلودگی فواحش و تخلص از بواعث
یعنی آسمان کے دروازے کھول دیئے جانے کا مطلب ہے پے درپے رحمت کا بھیجا جانا ، اور بغیر کسی رکاوٹ کے بارگاہِ الٰہی میں اعمال کا پہنچنا اور دعا کا قبول ہونا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جانے کا معنی ہے نیک اعمال کی توفیق اور حسنِ قبول عطا فرمانا۔ اور دوزخ کے دروازے بند کیے جانے کا مطلب ہے روزہ داروں کے نفوس کو ممنوعات شرعیہ

معاصی وقمع شہوات ودر زنجیر کردن شیاطین از بستہ شدن طرف معاصی ووساوس‘‘۔ (1)
کی آلودگی سے پاک کرنا اور گناہوں پر اُبھارنے والی چیزوں سے نجات پانا اور دل سے لذتوں کے حصول کی خواہش کا توڑنا اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیئے جانے کا معنی ہے بُرے خیالات کے راستوں کا بند ہوجانا۔ (اشعۃ اللمعات، جلد دوم، ص ۷۲)
(۲)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَنْ قَامَ رَمَضَان إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے روزہ رکھے گا توا س کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی عبادت کرے گا توا س کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے شب قدر میں قیام کرے گا اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ (بخاری، مسلم)
(۳)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ وَیُنَادِی مُنَادٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ وَیَابَاغِیَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّہِ عُتَقَائُ مِنْ النَّارِ وَذَلکَ کُلّ لَیْلَۃٍ‘‘۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کرلیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ ( پھر رمضان بھر) ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کے طلب کرنے والے

متوجہ ہو اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے برائی سے باز رہ، اور اللہ بہت سے لوگوں کود وزخ سے آزاد کرتا ہے ۔ اور ہر رات ایسا ہوتا ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
(۴)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَاکُمْ رَمَضَانُ شَہْرٌ مُبَارَکٌ فَرَضَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ تُفْتَحُ فِیہِ أَبْوَابُ السَّمَاء وَتُغْلَقُ فِیہِ أَبْوَابُ الْجَحِیمِ وَتُغَلُّ فِیہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِینِ لِلَّہِ فِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ‘‘۔ (1)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ رمضان آیا یہ برکت کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو طوق پہنائے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔ جو اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ بے شک محروم ہے ۔
(احمد، نسائی ، مشکوۃ)
(۵)’’عَنْ سلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آخِرِ یَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّکُمْ شَہْرٌ عَظِیْمٌ شَہْرٌ مُبَارَکٌ شَہْرٌ فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ جَعَلَ اللَّہُ صِیَامَہُ فَرِیْضَۃً وَقِیَامَ لَیْلہِ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِیْہِ بِخَصْلَۃٍ مِّنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ أَدَّی فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہُ وَمَنْ أَدَّی فَرِیْضَۃً فِیْہِ کَانَ کَمَنْ أَدَّی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَۃً فِیْمَا سِوَاہُ وَہُوَ شَہْر الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُہُ الْجَنَّۃ وَشَہْرُ الْمَوَاسَاۃِ وَشَہْرٌ
حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے شعبان کے آخر میں وعظ فرمایا۔ اے لوگو تمہارے پاس عظمت والا، برکت والا مہینہ آیا۔ وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام کرنا(نماز پڑھنا) تطوع یعنی نفل قرار دیا ہے جو اس میں نیکی کا کوئی کام یعنی نفل عبادت کرے تو ایسا ہے جیسے اور مہینہ میں فرض ادا کیا۔ ا ور جس نے ایک فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کیے ۔ یہ صبر کا

یُزَادُ فِیْہِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ فِیْہِ صَائِمًا کَانَ لَہُ مَغْفِرَۃً لِذُنُوبِہِ وَعِتْقَ رَقْبَتِہِ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أِجْرِہِ شَیْئٌ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللَّہِ لَیْسَ کُلّنَا یَجِدُ مَا یُفَطِّرُ بِہِ الصَّائِمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْطِی اللَّہُ ہَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَی مُذْقَۃِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَۃٍ أَوْ شَرْبَۃٍ مِنْ مَائٍ وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاہُ اللَّہُ مِنْ حَوْضِی شَرْبَۃً لَا یَظْمَأُ حَتَّی یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ شَہْرٌ أَوَّلُہُ رَحْمَۃٌ وَأَوْسَطُہُ مَغْفِرَۃٌ وَآخِرُہُ عِتْقٌ مِن النَّارِ وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوْکِہِ فِیْہِ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ وَأَعْتَقَہُ مِنَ النَّارِ‘‘۔ (1)
مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ غم خواری کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کردی جائے گی اور اس میں افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی واقع ہو۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ۔ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے سیراب کرے گا۔ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ ا س کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے ۔ اور جو اپنے غلام پر اس مہینہ میں تخفیف کرے یعنی کام لینے میں کمی کردے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا۔ (بیہقی)
(۶)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُغْفَرلأُمَّتِہِ فِی آخِرِ لَیْلَۃٍ فِی رَمَضَانَ قِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفَّی أَجْرہُ إِذَا
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ رمضان کی اخیر رات میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے عرض کیا گیا وہ شبِ قدر ہے ؟ فرمایا نہیں۔ لیکن کام کرنے

قَضَی عَمَلَہُ‘‘۔ (1)
والوں کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے جب وہ کام پورا کرلے ۔ (احمد)
(۷)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ وَہُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَائٌ وَمَنْ اسْتَقَاء عَمْدًا فَلْیَقْضِ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جس شخص کو روزہ کی حالت میں خود بخود قے آجائے اس پر قضا واجب نہیں۔ ا ور جو قصداً قے کرے اس پر قضا واجب ہے ۔ (ترمذی، ابوداود)
(۸)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِہِ فَلَیْسَ لِلَّہِ حَاجَۃٌ فِی أَنْ یَدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ‘‘۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو شخص( روزہ رکھ کر) بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو خدائے تعالیٰ کو اس کی پر واہ نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے ۔ (بخاری)
اس حدیث شریف کے تحت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ:
’’ایںکنایت ست ازعدم قبول یعنی مقصود از ایجاب صوم وشرعیت آں ہمیں گرسنگی وتشنگی نیست بلکہ کسر شہوت واطفائے نائرہ نفسانیت است تانفس از امارگی برآید ومطمئنہ گردد۔ (4) (اشعۃ اللمعات، جلد دوم، ص۸۵)
یعنی مطلب یہ ہے کہ روزہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ روزہ کے مشروع اور واجب کرنے کا مقصد یہی بھوک اور پیاس نہیں ہے بلکہ لذتوں کی خواہشات کا توڑنا اور خودغرضی کی آگ کو بجھانا مقصود ہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کی بجائے حکمِ الہی پر چلنے والا ہوجائے ۔

(۹)’’عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَہُ حَمُولَۃٌ تَأْوِی إِلَی شِبَعٍ فَلْیَصُمْ رَمَضَانَ حَیْثُ أَدْرَکَہُ‘‘۔ (1)
حضرت سلمہ بن محبق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس ایسی سواری ہو جو آرام سے منزل تک پہنچادے تو اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے جہاں بھی رمضان آجائے ۔ (ابوداود)
(۱۰)’’ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الکَعْبِی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّہَ وَضَعَ عَنْ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاۃِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَی‘‘۔ (2)
حضرت انس بن مالک کعبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (شرعی) مسافر سے آدھی نماز معاف فرمادی ( یعنی مسافر چار رکعت والی فرض نماز دو پڑھے ) اور مسافر،
دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کردیا ( یعنی ان لوگوں کو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھیں بعد میں قضا کرلیں)۔ (ابوداود، ترمذی)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’افطار مرمرضع وحبلی را بر تقدیرے است کہ اگر زیاں کند بچہ را یا نفس ایشاں را‘‘۔ (3)
(اشعۃ المعات جلد دوم ص۹۴)
یعنی دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ بچہ کو یا خود اس کو روزہ سے نقصان پہنچے ۔ ( ورنہ رخصت نہیں ہے )
(۱۱)’’عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَہُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ
حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا پھر اس کے بعد چھ روزے شوال کے

کَصِیَامِ الدَّہْرِ‘‘۔ (1)
رکھے توا س نے گویا ہمیشہ روزہ رکھا۔ (مسلم)
(۱۲)’’عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِی قَبْلَہُ وَالسَّنَۃَ الَّتِی بَعْدَہُ‘‘۔ (2)
حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا گناہ دور کردے گا۔ (مسلم)
واضح ہو کہ عرفہ کا روزہ میدانِ عرفات میں منع ہے ۔ (3) (بہار شریعت)
(۱۳)’’ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ أَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْ یَدَعُہُنَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صِیَامَ عَاشُورَائَ وَالْعَشْرَ وَثَلاثَۃ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ وَرَکْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ‘‘۔ (4)
حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جنہیں حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نہیںچھوڑتے تھے ۔ عاشورہ کاروزہ۔ ذی الحجہ کے روزے (ایک سے نو تک) ہر مہینہ کے تین روزے دو رکعتیں فجر کی فرض سے پہلے ۔ (نسائی)
(۱۴)’’عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّہْرِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَصُمْ ثَلاث عَشرَۃَ وَأَرْبَعَ عَشرَۃَ وَخَمْسَ عَشرَۃَ‘‘۔ (5)
حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ اے ابوذر! جب (کسی ) مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا ہو تو تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کو ( روزہ) رکھو۔ (ترمذی، نسائی)

____________________

انتباہ :

(۱)… یکم شوال اور ۱۰، ۱۱، ۱۲ ذی الحجہ کو روزہ رکھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ۔ (1)
(طحطاوی، ص ۳۸۷، درمختار، ردالمحتار، ج ۲، ص۸۶)
(۲)…احتلام ہوجانے یا ہمبستری کرنے کے بعد غسل نہ کیا اور اسی حالت میں پورا دن گزار دیا تو وہ نمازوں کے چھوڑ دینے کے سبب سخت گنہ گار ہوگا مگر روزہ ادا ہوجائے گا۔
بحرالرائق جلد دوم ص:۲۷۳ میں ہے : ’’لَوْ أَصْبَحَ جُنُبًا لَا یَضُرُّہُ کَذَا فِی الْمُحِیطِ‘‘۔ (2)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۸۷میں ہے : ’’وَمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَوِ احْتَلَمَ فِی النَّہَارِ لَمْ یَضُرَّہُ کَذَا فِی مُحِیطِ السَّرَخْسِیِّ‘‘۔ (3)
(۳)… مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہوجانے کا گمان غالب ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے ۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں۔ اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے ۔ یا اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا کسی سُنی مسلمان طبیب حاذق مستور الحال یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو۔ اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ، نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق یا بدمذہب ڈاکٹر یا طبیب کے کہنے سے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم آئے گا۔ (4) (رد المحتار ، جلد دوم ص ۱۲۰، بہار شریعت)
(۴)…جو شخص رمضان میں بلا عذر علانیہ قصداً کھائے تو سلطان اسلام اسے قتل کردے ۔ (5) (شامی، بہار شریعت)

(۵)…معتکف کے سوا دوسروں کو مسجدوں میں روزہ افطار کرنا کھانا پینا جائز نہیں۔ (1)
(درمختار، فتاوی رضویہ)
لہذا دوسرے لوگ اگر مسجدمیں افطار کرنا چاہتے ہیں تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائیں کچھ ذکر یا درود شریف پڑھنے کے بعد اب کھاپی سکتے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسجد کا احترام ضروری ہے ۔ آج کل بمبئی وغیرہ کی اکثر مساجد میں بلکہ بعض دیہاتوں میں بھی افطار کے وقت مسجدوں کی بڑی بے حرمتی کرتے ہیں جو ناجائز اور حرام ہے ۔ امام اور متولیانِ مسجد کو اس امر پر توجہ کرنا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن ان سے سخت باز پرس ہوگی۔
٭…٭…٭…٭

____________
1 – ’’صحیح البخاری‘‘، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، الحدیث: ۳۲۷۷، ج۲، ص۳۹۹، ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الصیام، باب فضل شھر رمضان، الحدیث: ۲۔ (۱۰۷۹) ص۵۴۳.

Exit mobile version