رُوح کی موت اور بعض اَحوال

رُوح کی موت اور بعض اَحوال

جو یہ مانے کہ مرنے کے بعد روح مٹ جاتی ہے، وہ بد مذہب ہے۔ مردہ کلام بھی

کرتا ہے اس کی بولی عوام جن اور انسانوں کے سوا حیوانات وغیرہ سنتے بھی ہیں ۔

قبر کا دبانا

دفن کے بعدقبر مردے کو دباتی ہے مومن کو اس طرح کہ جیسے ماں بچے کو اور کافر کو اِس طرح کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر ہوجاتی ہیں جب لوگ دفن کرکے لوٹتے ہیں مردہ اُن کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔

منکرنکیر کیسے ہیں ، کب آتے ہیں اور کیا سوال کرتے ہیں ؟

اس وقت منکر نکیر دو فرشتے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں اُن کی شکل بہت ڈرائونی ہوتی ہے، ان کا بدن کالا آنکھیں نیلی اور کالی بہت بڑی بڑی جن سے آگ کی طرح لپٹ نکلتی ہے، ان کے ڈراؤنے بال سر سے پاؤں تک ان کے دانت بڑے بڑے ہیں جن سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں مردے کو جھنجھوڑتے ہیں اور جھڑک کر اُٹھاتے ہیں اور بہت سختی کے ساتھ بڑی کڑی آواز سے یہ تین سوال کرتے ہیں ۔
{۱} مَن رَبُّکَ یعنی تیرا رب کون ہے؟
{۲} مَا دِیْنُکَ تیرا دین کیا ہے؟
{۳} مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلاِن کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
مردہ اگر مسلمان ہے تو پہلے سوال کا یہ جواب دے گا:رَبِّیَ اللّٰہ میرا رب اللّٰہ ہے اور دوسرے کا دِیْنِیَ الْاِسْلَام میر ا دین اسلام ہے اور تیسرے سوال کا جواب یہ دے گا: ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) یہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے رسول ہیں ۔ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے اُن پر رحمت نازل ہواور سلام۔ اب آسمان سے یہ آواز آ ئے گی کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ اور جنت کا کپڑا پہناؤ اور جنت کا دروازہ کھول دو، اب جنت کی ٹھنڈی ہوا اور خوشبو آتی رہے گی اور جہاں تک نگاہ پھیلے گی وہاں تک قبر چوڑی چمکیلی کردی جائے گی اور فرشتے کہیں گے سو جیسے دولہا سوتا ہے یہ نیک پرہیزگار مسلمانوں کے لیے ہوگا، گنہگاروں کو اُن کے گناہ کے لائق عذاب بھی ہوگا ایک زمانہ تک، پھر بزرگوں کی شفاعت سے یا ایصالِ ثواب و دعائے مغفرت سے یا محض اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی مہربانی سے یہ عذاب اُٹھ جائے گا اور پھرچین ہی چین ہوگا اور اگر مردہ کافر ہے تو سوال کا جواب نہ دے سکے گا اور کہے گا: ھَاہَ ھَاہَ لَا اَدْرِیْ افسوس مجھے تو کچھ معلوم نہیں ، اب ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا کہ یہ جھوٹا ہے اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا کپڑا پہناؤ اور جہنم کا ایک د روازہ کھول دو، اس کی گرمی اور لپٹ پہنچے گی اورعذاب دینے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے جو بڑے بڑے ہتھوڑے سے مارتے رہیں گے اور سانپ بچھو بھی کاٹتے رہیں گے اور قیامت تک طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔
تَنبِیہ: قبر میں کس کس سے سوال نہیں ہوتا ؟
حضرات انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامسے نہ قبر میں سوال ہو، نہ اُنہیں قبر دبائے اور سوال تو بعض اُمتیوں سے بھی نہ ہوگا جیسے جمعہ (1) اور رمضان میں مرنے والے مسلمان۔ قبر میں آرام و تکلیف کا ہونا حق ہے۔

________________________________
1 – تکمیل میں شیخ فرماتے ہیں :واصح آنست کہ انبیاء را سوال نبود (تکمیل الایمان،انبیا را سوال نبود،ص۷۳) اور فرماتے ہیں: وآنکہ روز جمعہ یا شب وے مردہ وآنکہ ہر شب سورہ ملک خواند۔۱۲ (منہ) (تکمیل الایمان،در سوال اطفال مومنین اختلاف است،ص۷۳)

Exit mobile version